عمران خان کیوں مختلف ہے

1999 سے 2007 تک نون لیگ کا کوئی ایک بڑا جلسہ یا احتجاج ہوا؟؟ بلکل نہیں ہوا۔۔۔۔ جب نواز شریف سعودیہ سے لاہور تشریف لا رہے تھے تو شہباز شریف کی قیادت میں کتنے لاکھ یا ہزار یا سو کارکن نکلے تھے، اپنے محبوب قائد کا استقبال کرنے؟؟

ایک پارٹی کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسکے لیڈر پہ 200 سے زائد مقدمات میں پھنسا کر 34 برسوں کی سزا سنوا کر بھی طاقتور 8 فروری کو لوگوں کے ہاتھوں شکست سے دو چار ہوئے۔ پاکستان کا ایسا کوئی ضلع یا تحصیل نہیں بچی جہاں پہ پی ٹی آئی کے لوگوں پہ مقدمہ نہ ہوا ہو لیکن پھر بھی یہ پی ٹی آئی کا ہی حوصلہ ہے کہ آج بھی جب اسکا لیڈر احتجاج کی کال دیتا ہے تو ڈر کا عالم یہ ہوتا ہے کہ پہلے تو گرفتاریاں اور چھاپے شروع ہو جاتے ہیں موٹر ویز بند کردی جاتی ہیں اور شہر کے شہر کنٹینر لگا کر بند کردئیے جاتے ہیں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کر دی جاتی ہے سوشل میڈیا خاص طور پہ ایکس ( ٹویٹر ) پچھلے نو ماہ سے بند ہے اور اب تو سرکاری مولویوں سے وی پی این بھی بند اور حرام و غیر شرعی قرار دلوا دیا گیا ہے، کوئی کسر نہیں چھوڑی اسٹیبلشمنٹ نے کہ کسی طرح عمران خان کو ڈیل پہ مجبور کیا جائے لیکن اسٹیبلیشمنٹ کو کچھ بھی کامیابی نہیں ملی۔

یہ صورتحال 1999 کے بعد بھی ہوسکتی تھی لیکن کیونکہ نواز شریف بمعہ اہل و عیال اپنے 10 درجن بریف کیسوں کیساتھ دم دبا کر سعودی عرب مشرف کے ساتھ تحریری معاہدہ کر کے بھاگ گئے اس لئے اسٹیبلشمنٹ کو لگتا تھا کہ شاید عمران خان بھی ہار مان جائیگا اور نواز کی طرح ہم سے ڈیل کر لے گا لیکن ایسا نہیں ہوا اور اب اسٹیبلیشمنٹ فرسٹریشن کی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔

نہ خان ٹوٹا نہ پارٹی ٹوٹی نہ عوامی مقبولیت میں کمی آئی نہ ہی حوصلے پست ہوئے ….یہ کنٹرول کرنا نہیں کہتے بلکہ یہ عوام کیساتھ عوام کے پیسوں سے ہی تنخواہ لینے والے اسی عوام کو کچل رہے ہیں اور ساتھ ہی ملکی معیشت کو بھی۔ اپنی ہی عوام پہ ریاستی جبر اور ظلم کرنا کوئی کامیابی نہیں بلکہ بھرپور ناکامی کا اعتراف ہے۔

پراپگینڈا کیا جارہا ہے کہ تحریک انصاف کے لیڈرشپ کے اندر غدار موجود ہیں کیا اج تک اس بات کا کوئی ثبوت دیا گیا ہے؟ کسی بھی پارٹی کا لیڈر جب جیل میں ہو اور اس کا رابطہ اپنی پارٹی کے لیڈران سے مختصر اور مشکل ہو تو پھر غلط فہمیاں پیدا ہونا ایک فطری سی بات ہے۔

عمران خان کو سوا سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے جیل میں رہتے ہوئے، عمران خان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ ایک ہفتہ بھی جیل میں نہیں گزار پائے گا لیکن اس شخص نے فولادی حوصلے کے ساتھ ہر مصیبت کو خندہ پیشانی کے ساتھ جھیلا ہے اور ابھی بھی جھیل رہا ہے۔ پی ٹی ائی کی موجودہ مرکزی قیادت کے 95 فیصد لوگوں پہ درجنوں مقدمات درج ہیں اور وہ مختلف شہروں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں لیکن انہوں نے عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑا شاید یہی چیز اسٹیبلشمنٹ کو فرسٹریٹ کر رہی ہے۔

دوسرا پروپگینڈا تحریک انصاف کے ساتھ یہ کیا جاتا ہے کہ یہ ایک انتشاری ٹولہ ہے اس سے زیادہ شرمناک اور افسوسناک بات کیا ہو سکتی ہے کہ عوامی احتجاج کو انتشاری ٹولہ کہا جائے یا یلغار کہا جائے، ہر مہذب معاشرے میں عوام احتجاج کرتی ہے اور کہیں بھی اس کو انتشاری یا فسادی یا اس طرح کے القابات سے نہیں نوازا جاتا جس طرح پاکستان میں پاکستانی عوام کی سیاسی دانش اور پسند ناپسند کو انتشاری فسادی ٹولے کا نام دے کر تذلیل کی جا رہی ہے۔

خدارا اس ملک پر رحم کریں اور یہ ظلم و بربریت فسطائیت کرنا چھوڑ دیں، عوام کی رائے کی عزت کریں عوام بھی آپ کی عزت کرے گی اس وقت عوام عمران خان کو اپنا وزیراعظم دیکھنا چاہتی ہے اور اس کے لیے اس عوام نے اٹھ فروری کے دن بہت بڑی تعداد میں عمران خان کے حق میں اپنا ووٹ ڈالا اس ووٹ کو بے وقعت کر دیا گیا لیکن ابھی بھی وقت ہے عوام کی رائے کا احترام کریں اور حکومت ان کے حوالے کریں جن کا حق ہے جن کو عوام نے عمران خان کے نام پہ ووٹ دیا ہے۔!!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے