کابل حکمرانی کی تاریخ، کوئی جلاوطن تو کوئی قتل
گزشتہ 200سالوں کے دوران افغانستان میں اقتدارکی سنگھاسن پر 29حکمران بیٹھے لیکن شورش ،خاندانی سازشوں اوربغاوتوں کے باعث بہت کم حکمرانوں کو اقتدارکی مسندآخرتک نصیب
گزشتہ 200سالوں کے دوران افغانستان میں اقتدارکی سنگھاسن پر 29حکمران بیٹھے لیکن شورش ،خاندانی سازشوں اوربغاوتوں کے باعث بہت کم حکمرانوں کو اقتدارکی مسندآخرتک نصیب
14 اگست 2021 کا یوم آزادی بھی گزر گیا، اس روز کہیں بھی اہل علم و مقتدر طبقہ فکر کو اکٹھا ہوکر نوجوان نسل کو
محمد فاروق خالد لاہوری ہیں‘ عین جوانی میں رائیٹر بننے کا فیصلہ کیا‘ تول کر اخباری کاغذ خریدا‘ گھر میں محبوس ہوئے اور دن رات
بی بی سی میں ’’ رپورٹنگ ان ہوسٹائل انوائرنمنٹ‘‘ ( کشیدہ حالات میں رپورٹنگ کے گر ) نامی کورس کے دوران ایک ریٹائرڈ ایس اے
درویش سمیت ہم میں سے بیشتر احباب جدید سائنس کی باریکیوں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے لیکن اتنا بہرصورت معلوم ہے کہ بیسویں صدی
اک گہری سرد آہ کیساتھ بھرائی ہوئی نسوانی آواز آئی ’’میں گھر میں محصور ہوں اور گھر والوں کے ساتھ ٹی وی پر تازہ صورتحال
ایک عجیب بے برکت اتفاق تھا کہ چار بڑے ملکوں میں بدانتظامی نے بیک وقت ہلّہ بولا۔ انارکی تھی اور ایسی انارکی کہ تاریخ میں
حیرت‘اطمینان اور خدشات کے جلومیں ‘طالبان ایک بار پھر کابل میں داخل ہو گئے۔ حیرت اس بات کی کہ طالبان کو کسی قدم پر قابلِ
عرصہ دراز سے افغانستان میں غیر ملكی اپنے مفاد کی خاطر کبھی کسی سیاسی اور کبھی کسی عسکری گروپ کو ڈالر دے کر افغانستان کا
74 سال ایک قوم کی زندگی میں بہت بڑی مدت نہیں مگر اتنی کم بھی نہیں! اور اتنی کم تو ہرگز نہیں کہ کچھ بنیادی
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے