مینارِ پاکستان کا حادثہ اور ہمارے تصوراتِ اخلاق

ہر حادثہ ہمارے تصورِ اخلاق کی آزمائش ہے۔ مینارِ پاکستان پر ایک بیٹی کے ساتھ جوہوا، اس پر دو طرح کے ردِ عمل سامنے آئے ہیں۔ ایک میں تمام تر توجہ ہجوم پر ہے۔ مطالبہ ہے کہ ایسے لوگوں کو لگام دی جائے جوگھر سے نکلنے والی ہر لڑکی کو جنسِ بازار سمجھتے اور اس […]

طالبان کی آمد ِ ثانی

حیرت‘اطمینان اور خدشات کے جلومیں ‘طالبان ایک بار پھر کابل میں داخل ہو گئے۔ حیرت اس بات کی کہ طالبان کو کسی قدم پر قابلِ ذکر مزاحمت کا سامنا نہیں کر نا پڑا۔کہنے کو فوج بھی تھی اور پولیس بھی لیکن فوج مزاحم ہوئی نہ پولیس۔ طالبان کی آمد اتنی اچانک نہ تھی کہ حکومت […]

شہباز شریف کا بیانیہ

سیاسی بیانیے کا جب ذکر ہو تا ہے تو اس کا انتساب نواز شریف صاحب کی طرف کیا جا تا ہے‘درآں حالیکہ وہ بیانیوں میں سے ایک بیانیہ ہے۔جو کچھ شہباز شریف صاحب فرماتے ہیں‘وہ بھی دراصل ایک بیانیہ ہے۔اگر نواز شریف صاحب کے بیانیے کو ایک ‘دعویٰ‘(Thesis) مان لیا جائے تو شہباز شریف صاحب […]

کیا مسلم معاشرے جمہوریت کے لیے سازگار نہیں؟

‘عرب بہار‘ کی پہلی لہر، 2010ء کے اواخر میں تیونیسیا سے اٹھی تھی۔ اکیسویں صدی کی سب سے بالغ نظر مسلم سیاسی شخصیت راشد غنوشی کا تعلق بھی اسی ملک سے ہے۔ تیونیسیا میں ان دنوں ایک بار پھر سیاسی اضطراب ہے۔ منتخب پارلیمنٹ معطل ہے اور آمریت کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ […]

سیاست میں کیا رکھا ہے؟

انتخابات میں کیا رکھا ہے؟ بلکہ سچ پوچھیے تو اب سیاست میں کیا رکھا ہے؟ ایک پسماندہ ملک میں، جہاں کروڑوں انسان خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کرتے ہوں، وہاں اربوں روپے ایک لاحاصل مشق پر خرچ کرنے کا کیا جواز ہے؟ عوام کی رائے جاننے کے جب متبادل اور سستے ذرائع میسر ہوں […]

قربانی اور اجتہاد

کورونا کے دنوں میں قربانی کیسے ہوگی؟ آج کا سب سے اہم سوال یہی ہے۔اس کا مخاطب حکومت بھی ہے اور معاشرہ بھی۔خواص بھی اور عوام بھی۔علما اور بھی عامی بھی۔سب کو سوچنا ہے کہ وبا کے دنوں میں سب کو بروئے کار آنا ہے۔تنہا حکومت کچھ نہیں کر سکتی اگر عوام ساتھ نہ دیں […]

مولانا وحید الدین خاں اور دلیپ کمار

گزشتہ دو اڑھائی ماہ کے دوران میں‘بھارت کی دو ممتاز ترین مسلم شخصیات دنیا سے رخصت ہوئیں۔ایک کا تعلق علمِ دین سے تھا اور دوسری کا فنِ اداکاری سے۔ دونوں نے کم و بیش ایک صدی کی عمر پائی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دونوں اپنے اپنے میدان کے بڑے لوگ تھے۔اس میں بھی شک […]

جمہوریت کا تاریک مستقبل

پاکستانی معاشرہ ‘کیاجمہوریت کی برکات سے کبھی فیض یاب ہو سکے گا؟ آگہی کے وسیع ہوتے امکانات کے باوجود‘مجھے مستقبل قریب میں تو اس کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔آج عوام کی شعوری سطح ماضی کے مقابلے میں کہیں بلند ہے۔ یہ بے حجابی کا دور ہے۔جو پنہاں ہے‘دراصل ظاہر ہے۔عام شہری بھی اقتدار کے […]

فرید پراچہ کی کہانی

فرید پراچہ صاحب کی زندگی‘اس سے پہلے ایک کھلی کتاب تھی۔ اب انہوں نے اسے ایک ‘بند کتاب‘ کی صورت میں بھی مرتب کر دیا ہے۔ بند کتاب میں کچھ خاص ہے جو کھلی کتاب میں نہیں۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ‘ مولانا گلزار احمد مظاہری کے صاحب زادے ہیں۔مولاناسید ابو الاعلیٰ مودودی کے الفاظ میں […]

پہلی تقریر

تین سال بعد‘ پہلی بار عمران خان صاحب نے وہ تقریر کی جو ان کے منصب کے شایانِ شان تھی۔تین سال پہلے یہ واقعہ ہو جاتا تو شاید عمرِ رائگاں کے ماہ و سال کچھ کم ہو جاتے۔ میں نہیں جانتا کہ یہ حالات کا جبر ہے یا کسی داخلی تبدیلی کا اظہار۔ اس عمر […]