آج اور کل

کراچی سے ایک دوست بطور خاص مجھے ملنے لاہور آیا، میں نے اپنی کار اور ڈرائیور اس کے سپرد کرتے ہوئے کہا ’’میں آفس جا رہا ہوں، تم اس دوران شہر کی سیر کرو اور دوسرے دوستوں سے بھی مل لو، بعد میں ہم رات گئے تک اکٹھے ہوں گے‘‘۔ بولا ’’میں نے لاہور بہت […]

شکریہ میرے عقیدت مند دوست!

میرے کالم لکھنے کے اپنے آداب ہیں، میں اگر گھر سے شیو کرکے کپڑے چینج کرکے آئوں تو کالم لکھنا قدرے آسان ہو جاتا ہے اور اگر کبھی ایسا نہ ہو اور یہ دونوں کام میں اپنے دفتر میں کروں تو یہ کام زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے یونیفارم پہننے […]

ایک صاحبِ اسلوب لکھاری!

کنہیا لال کپور جو بہت لمبے تڑنگے تھے، گورنمنٹ کالج میں لیکچرر شپ کے لیے انٹرویو دینے گئے، انٹرویو لینے والے کالج کے پرنسپل پطرس بخاری تھے، انہوں نے ایک نظر کنہیا لال کے قد پر ڈالی اور پھر پوچھا، ’’آپ کا قد واقعی اتنا ہےیا آج انٹرویو کے لیے خصوصی اہتمام کرکے آئے ہیں؟ […]

میرے یہ غم خوار دوست!

مجھے کچھ قارئین کے فون آئے ہیں کہ جناب آپ بھی ’’پریشان کن‘‘ قسم کے کالم لکھنا شروع ہوگئے ہیں، آپ تو اس رویے کی الٹ سمت چلنے کے عادی ہیں۔ ان کااشارہ میرے گزشتہ دو تین کالموں کی طرف تھا جن میں میں نے اتنہاپسند سیاسی رویوں سے قوم کو خبردار کرنے کی کوشش […]

کیا ہم کسی پاگل خانے کے مکین ہیں؟

آج ایک بار پھر میرے دل میں یہ خیال آیا کہ کافی عرصے سے پوری قوم شدید ذہنی کھچائو کا شکار ہے اور میں ایک بار پھر پریشان ہو گیا، پہلے اسے صرف دال روٹی کی فکر ہوتی تھی اب اسے خانہ جنگی کی ’’تڑیاں‘‘ بھی سننے کو مل رہی ہیں جرائم پیشہ لوگ تو […]

غداروں کا ملک!

میں ان دنوں بہت پریشان ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کس ملک میں پیدا کر دیا چاروں طرف غدار ہی غدار ہیں، میڈیا غدار ہے، عدلیہ غدار ہے، آرمی غدار ہے،22 کروڑ آبادی کی بہت بڑی اکثریت غداروں پر مشتمل ہے ماسوائے ایک کے تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہ غدار ہیں، پارلیمنٹ غدار ہے، […]

ہنسنے والے، رونے والے!

ناصر ہنستے ہنستے ایک دم خاموش ہوگیا اورپھر اس نے کہا ’’کیا تم بتا سکتے ہو کہ میں تھوڑی دیر پہلے کیوں ہنس رہا تھا؟‘‘ میں نے ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالی اور کہا ’’تم اس لیے ہنس رہے تھے کہ ہنسنا بہت آسان ہےجب کہ رونے کے لیے خاصی ریاضت کی ضرورت […]

اخوت کا حجرا اور اس کے بابا جی!

میں نے ’’اخوت‘‘ والے ڈاکٹر امجد ثاقب کوتب سے ’’بابا جی امجد ثاقب‘‘ کہنا شروع کر رکھا ہے، جب اپنے دو کالموں میں انہیں ’’بابا‘‘ قرار دیا تھا اور اب دوستوں کے ساتھ گفتگو ہوتی ہے تو امجد ثاقب کے تذکرے کے دوران کبھی کبھی منہ سے بے اختیار ’’بابا جی امجد ثاقب‘‘ نکل جاتا […]

ڈراؤنے خواب سے سہانے خواب تک!

میں اپنےگھر کے لائونج میں ریلیکسنگ چیئر پر نیم خوابیدہ بیٹھا تھا کہ باہرسے ڈھول کی آواز سنائی دی مجھے ڈھول کی تھاپ بہت ہانٹ کرتی ہے کہیں دور سے بھی سنائی دے رہی ہو تو میرے قدم ادھر کو اٹھ جاتے ہیں کئی ایک دفعہ ایسے بھی ہوا کہ گھر کو جا رہا ہوں […]

بیرون ملک ہماری کوئی شاخ نہیں!

میرے خیال میں ہم اگر بیرونِ ملک مقیم سب پاکستانیوں کو جو بلااستثنیٰ’’اوورسیز پاکستانی ‘‘ کہتے ہیں تو یہ غلط ہے کیونکہ یورپ اور امریکہ کے پاسپورٹ ہولڈر ان ملکوں کی وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں اور اس حلف میں یہ عہد بھی ہوتا ہے کہ ان کے نئے وطن پر اگرحملہ ہو اور اس […]