الاٹمنٹ کا انوکھا کاروبار

اس سرکاری قبرستان میں کئی بار جانا ہوا۔ کچھ قریبی اعزہ وہاں میرے بھی مدفون ہیں۔ سرکاری کارندے قبرستان میں کم ہی نظر آتے ہیں۔ پرائیویٹ مزدور ہاتھوں میں درانتیاں لیے گھومتے رہتے ہیں۔ آپ جس قبر پر رکیں گے فوراً دو تین افراد وہاں پہنچ جائیں گے۔ قبر کی دیکھ بھال کا ماہانہ معاوضہ […]

تاخیر مت کیجیے

پروفیسر صاحب کالج میں اس کے استاد تھے۔ خبر ملی کہ بیمار رہنے لگے ہیں۔ اسی دن اس نے ارادہ کر لیا کہ ان کی خدمت میں حاضر ہو گااور ان کے لیے پھل اور نیالباس لے کر جائے گا۔ ان سے پوچھے گا کہ ادویات کون کون سی لے رہے ہیں۔ پھر باقاعدگی سے […]

حالات کو زیادہ خراب کیسے کیا جائے؟؟

حکومتیں حماقتوں کا ارتکاب کرتی ہیں جب کہ فرد اپنے فیصلے عقل مندی سے کرتا ہے۔ گلستانِ سعدی اور قابوس نامہ کے علاوہ حکمرانوں کو ایک اور کتاب جو ضرور پڑھنی چاہیے، وہ خاتون امریکی تاریخ دان باربرا ٹَک مَین کی شہرۂ آفاق تصنیف ‘حماقتوں کا مارچ‘ ہے‘ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے […]

محبت کا دعویٰ کہیں رد نہ ہو جائے

ایک اور بارہ ربیع الاول آیا اور گزر گیا۔ اس بار بھی ہم نے چراغاں کیا۔ جلوس نکالے۔ جلسے کیے۔ حکومت نے یہ دن منایا اور رعایا نے بھی۔ ہاں، یہ کوشش بھی کی گئی کہ ہماری زندگیوں پر اس دن کا کوئی اثر نہ پڑے‘ ہم نے اپنے کسی رویّے کو تبدیل نہیں کرنا‘ […]

ڈاکٹر صاحب ! غلطی آپ کی اپنی تھی !

اگر کوئی کرشمہ برپا ہو جائے اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم سے ملاقات ہو تو لگی لپٹی رکھے بغیر‘ ان سے صاف صاف بات کی جائے۔ انہیں کہا جائے کہ ڈاکٹر صاحب! غلطی آپ کی اپنی تھی! آپ سائنسدان بنے ہی کیوں؟ آپ کامیڈین بنتے! پھر آپ دیکھتے کیا عوام‘ کیا خواص‘ کیا حکومتیں‘ سب […]

ڈاکٹر لطیف کی واپسی

بہت سمجھایا تھا مگر ڈاکٹر لطیف نہ مانا۔ بعض لوگوں پر جب ایک جنون سوار ہو جاتا ہے اور سوئی ان کی ایک جگہ اٹک جاتی ہے تو کوئی دلیل بھی، خواہ وہ کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو، انہیں قائل نہیں کر سکتی۔ یہی حال ڈاکٹر لطیف کا تھا۔ ادھر 2018 کے انتخابات کا […]

فرشتے لے چلے سوئے حرم تابوت میرا

مسلم دنیا میں یہی ہوتا آیا ہے‘ اور شاید یہی ہوتا رہے گا۔ یہ جو آج اچھل اچھل کر دعوے کیے جاتے ہیں کہ فلاں مسلمان سائنسدان نے یہ ایجاد کیا اور فلاں کی یہ دریافت تھی، تو ساتھ یہ بھی تو وضاحت کرنی چاہیے کہ ان سائنس دانوں کا انجام کیا ہوا۔ الکندی کو […]

اردو کو نادان دوستوں سے بچائیے!

تین چار دن پہلے ایک معروف ادارے کی طرف سے ایک تقریب کا دعوت نامہ موصول ہوا جو کسی کانفرنس کے ضمن میں تھا۔ اس میں لکھا تھا ”بر خط‘‘۔ دماغ چکرا گیا! یا اللہ! یہ ”بر خط‘‘ کیا بلا ہے؟ خط پر یعنی مکتوب پر؟ یا اس خط پر جو منحنی ہوتا ہے یا […]

حکومت کو ایک مخلصانہ مشورہ

ہم بھی عجیب لوگ ہیں۔ احمق ہونے کی حد تک سادہ لَوح! بچہ بغل میں ہوتا ہے اور ڈھنڈورہ شہر میں پیٹتے ہیں۔ اپنے وسائل کا علم ہے نہ طاقت کا۔ کیسی کیسی نعمتوں سے نوازے گئے ہیں مگر ان نعمتوں کے وجود کا احساس تک نہیں۔ کیا ہے جو ہمارے پاس نہیں! ہمارے پاس […]

افسوس! جغرافیہ بدل نہیں سکتا اور تاریخ…

یہ ایک داستان ہے۔ محض دلچسپی کے لیے! کسی قسم کا اخلاقی ‘یا سبق آموز ‘ نتیجہ نکالنا بے سود ہو گا! دو ملک تھے۔ قربانستان اور تنازستان ! دونوں پڑوسی تھے۔ یہ پڑوس قسمت کا کھیل تھا بلکہ بدقسمتی کا! اس پڑوس میں کوئی خوشی نہ تھی۔جس طرح دو بھائیوں کو کوئی اختیار نہیں […]