تخلیقِ آرزو کے ریگزار اور معیشت کی سنگلاخ حقیقت
تاریخِ اقوام کا ژرف مطالعہ اس حقیقتِ مبرہن و ثابتہ کی طرف بلاحجاب رہنمائی کرتا ہے کہ معاشی رفعت و عظمت کا سفر کبھی تمناؤں کے دلکادہ اور خوش نما سراب سے طے نہیں ہوتا، بلکہ اس کی اساس و بنیاد تدبرِ مسلسل، ریاستی ثبات و استحکام، مؤثر و فعال حکمرانی اور طویل المدت قومی […]
تہذیب کا ننگی تلوار پر رقص اور لکڑی کی گھن لگی بنیادیں
رات کی تاریکی میں جب لندن کا بلند و بالا ‘شارڈ’ برج یا نیویارک کی فلک بوس عمارتیں رنگ برنگی نیون روشنیوں سے جگمگاتی ہیں، تو یوں لگتا ہے جیسے انسان نے کائنات کی تسخیر کا آخری معرکہ سر کر لیا ہو۔ مصنوعی ذہانت کے اعصابی نظام، الگورتھم کی کرشمہ سازیوں اور ڈیجیٹل معیشت کی […]
بحری اقتدار کا نیا عہد
اِنَّ سُنَنَ التَّارِیخِ لَا تَجْمُدُ عَلٰی صُوَرِہَا، وَلٰکِنَّهَا تَتَجَدَّدُ فِی أَثْوَابٍ مُخْتَلِفَۃٍ۔ تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت پر شاہد ہے کہ تمدنوں کی قسمت کا فیصلہ ہمیشہ میدانِ جنگ کے غبار میں نہیں ہوتا، بلکہ اکثر اوقات سمندروں کی خاموش لہروں، تجارتی گزرگاہوں اور جغرافیائی محلِ وقوع کی پوشیدہ معنویت میں رقم ہوتا ہے۔ اکیسویں […]
اندلس: عروجِ علم اور زوالِ فکر
اندلس کے شہر غرناطہ، قرطبہ اور اشبیلیہ میں قدم رکھتے ہوئے انسان صرف تاریخی مقامات کی سیاحت نہیں کرتا بلکہ وہ دراصل ایک ایسی تہذیبی داستان کے آثار کے درمیان چل رہا ہوتا ہے جس نے کبھی انسانی فکر کو نئی سمتیں عطا کی تھیں۔ ان شہروں کے خاموش مینار، سنگی محرابیں اور وسیع صحن […]
بھٹو کا جیوپولیٹیکل ورثہ
برصغیر کی سیاست میں بعض شخصیات محض انتخابی کامیابی یا اقتدار کی مدت کے باعث تاریخ کا حصہ نہیں بنتیں بلکہ وہ اپنے عہد کی فکری سمت، خارجہ حکمتِ عملی اور قومی خودشناسی کو ایک نئے زاویے سے متعین کر جاتی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو اسی قبیل کی شخصیت تھے۔ ان کی سیاست کو صرف […]
تاریک مثلث کا اسیر
تاریخ کے اوراق پر جب کوئی آمر اپنے اقتدار کی بساط بچھاتا ہے، تو وہ صرف وقت کا حکمران نہیں بنتا بلکہ آنے والی نسلوں کے مقدر کا قلمدان بھی چھین لیتا ہے۔ پانچ جولائی ۱۹۷۷ء کی وہ تاریک رات پاکستان کی تاریخ کا وہ موڑ تھی جہاں بظاہر ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹا […]
سرحدوں کے اُس پار، ذہنوں کے اِس پار
ریاستوں کی تاریخ کبھی صرف نقشوں پر کھینچی گئی سرحدوں کی کہانی نہیں ہوتی بلکہ یہ انسانی ذہن، اجتماعی شعور اور اقتدار کے باہمی تعلق کی ایسی طویل داستان ہوتی ہے جس میں ہر نسل اپنے عہد کی ایک نئی گرہ چھوڑ جاتی ہے۔ پاکستان بھی اس وقت ایک ایسے قدیم قلعے سے مشابہ دکھائی […]
علمی سرفرازی کا فکری استعارہ اور عزمِ صمیم کی عظیم داستان: ڈاکٹر صائمہ غیاث الدین کی تاریخی کامیابی کا ایک محققانہ جائزہ
یہ کالم کسی رسمی تہنیتی کلمات کا مروجہ مجموعہ نہیں، بلکہ اس فکری اور علمی ریاضت کی سحر انگیز داستان ہے جہاں خواب، استقامت کے سانچے میں ڈھل کر حقیقت کا روپ دھارتے ہیں۔ طب کی دنیا میں ‘ایم آر سی او جی’ (MRCOG) کی دستارِ فضیلت محض ایک ڈگری یا پیشہ ورانہ سنگِ میل […]
چراغ کربلا
تاریخ کے وسیع و عریض عجائب خانے میں بعض لمحے ایسے بھی محفوظ ہیں جو وقت کے زنگ سے کبھی متاثر نہیں ہوتے۔ وہ صدیوں کے فاصلے کے باوجود انسانی شعور کے دریچوں پر اسی شدت سے دستک دیتے رہتے ہیں جیسے ابھی ابھی وقوع پذیر ہوئے ہوں۔ مدینے کی ایک ایسی ہی دوپہر تھی […]
جدت کا نیا افق، طب کی بدلتی ردا اور میڈیکل سپرنٹینڈنٹ جنرل سرجن ڈاکٹر غیاث الدین کی مدبرانہ انتظامی قیادت
انسانی معاشرے کی بقا اور اس کے ارتقائی سفر میں وہ لمحے ہمیشہ تاریخ ساز ثابت ہوتے ہیں جب روایتی جمود کو توڑ کر جدید تکنیک اور انسانی ہمدردی کا ایک نیا امتزاج تخلیق کیا جائے۔ کراچی کے صنعتی منظرنامے کی دھندلاہٹ میں گھرا سائیٹ کا علاقہ جہاں اپنی بے ہنگم زندگی اور مشینوں کے […]