سیاستِ نبوی ﷺ سے عصرِ حاضر کے لیے پیغام
تاریخ کے ایوانوں میں کتنے ہی تخت آئے، کتنے ہی تاج چمکے اور کتنی ہی سلطنتیں اپنی قوت و شوکت کے نشے میں زمانے پر سایہ فگن ہوئیں؛ مگر وقت کی گرد نے سب کے نقوش مٹا دیے۔ اس کے برخلاف ایک ایسی ریاست بھی گزری جس کا اقتدار تلوار کی دھار سے زیادہ کردار […]
پاکستان کا معاشی سفر
رات کے آخری پہر دارالحکومت کی ایک بلند عمارت میں ایک بوڑھا معیشت دان اپنے سامنے پھیلے ہوئے بجٹ کے کاغذات کو دیکھ رہا تھا۔ میز پر اعداد کی قطاریں تھیں، سرخ اور سیاہ روشنائی سے بنے ہوئے خانے تھے، قرضوں کے ہندسے تھے، دفاعی اخراجات تھے، ترقیاتی منصوبے تھے اور محصولات کے تخمینے تھے۔ […]
انسانیت: آخری مورچہ
شام اتر رہی تھی۔ شہر کی روشنیاں ایک ایک کرکے جل رہی تھیں، مگر دور کہیں کسی بستی کے ملبے پر ابھی بھی دھوئیں کی ایک باریک لکیر آسمان کی طرف اٹھ رہی تھی۔ ایک مفکر خاموش بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے ایک نوجوان تھا جس کی آنکھوں میں سوال تھا۔ نوجوان نے کہا: ’’آج […]
امریکی سیاست اور پاکستان کا مستقبل
موسمِ گرما کی ایک شام تھی، جب میں اپنے ایک دانشور دوست کے ساتھ تاریخی شہر کی پرانی فصیل پر ٹہل رہا تھا۔ غروبِ آفتاب کی سرخ شعاعیں افق کو سنہری کر رہی تھیں، اور ہمارے سامنے عالمی سیاست کا ایک نیا منظر تھا۔ میرے دوست نے کہا، کیا آپ نے دیکھا کہ امریکہ کی […]
اردو کا وہ مردِ مجاہد جس نے زبان کو ادارہ بنا دیا
16 اگست 1961ء کی کراچی کی اُس شام کا تخیّل کیجیے جب ایک سال خوردہ عالم، اپنی حیاتِ مستعار کے آخری مرحلے سے گزر کر ابدی سفر کی جانب روانہ ہوا۔ شہر اپنی روزمرہ مصروفیات کی بے نیازی کے ساتھ رواں دواں تھا؛ شاہراہوں پر آمد و رفت جاری تھی، بازاروں میں زندگی کی گہماگہمی […]
پاکستان کا AI آئینہ: ایک تمثیل
شہر کے دروازے پر ایک عجیب آئینہ لگا دیا گیا۔ کہا گیا کہ جو بھی اس کے سامنے کھڑا ہوگا، وہ اپنی حقیقی صورت دیکھے گا۔ شہر کے حکمران خوش تھے، انہیں یقین تھا کہ یہ آئینہ ان کی شان و شوکت کو چار چاند لگائے گا۔ لیکن جب پہلا وزیر اس کے سامنے کھڑا […]
عصرِ نو کا فکری تلاطم: ایک سقراطی و افلاطونی محاکمہ
تصویرِ کائنات کی باریک تہوں اور معاشرے کی زوال پذیری پر غور کرتے ہوئے، ایک سقراطی مکالمے کے لامتنا ہی نثری سلسلے کی صورت میں یہ فکر یوں روشن ہوتی ہے: دیکھو اے رفیقِ راہ! کیا تم نے شہر کی سڑکوں پر اٹھتے ہوئے اس غبار اور نوجوانوں کے سینوں سے نکلتی ہوئی اس آہ […]
گواہی دیتے دریا
ایک قدیم حکایت ہے کہ ایک بستی کے کنارے بہنے والے دریا نے اپنے کناروں سے کہا: "میں ہر برس ایک ہی راستے سے گزرتا ہوں، مگر تم ہر برس میری راہ میں نئی دیواریں کھڑی کر دیتے ہو، پھر جب میں اپنی گزرگاہ واپس مانگتا ہوں تو مجھے آفت کا نام دے دیتے ہو۔” […]
سورج ڈوبنے سے پہلے
شہر کی پرانی فصیل کے سائے جب شام کے دھندلکوں میں تحلیل ہونے لگتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت خود بھی اپنے زخموں پر گرد ڈال کر خاموشی سے گزر جانا چاہتا ہو۔ انہی ساعتوں میں ایک نیم روشن کمرے کے اندر ایک بوڑھا درخت آخری سانسیں لے رہا تھا۔ یہ درخت […]
جمہور کی آواز
تاریخِ اقوام اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ریاستوں کی پائیداری کا انحصار صرف مضبوط اداروں، بلند و بالا عمارتوں یا فعال سفارت کاری پر نہیں ہوتا، بلکہ اس سے کہیں زیادہ اس بات پر ہوتا ہے کہ حکمران اپنے عوام کے مسائل، داخلی استحکام اور قومی یکجہتی کو کس قدر اہمیت دیتے ہیں۔ جب […]