انسانیت: آخری مورچہ

شام اتر رہی تھی۔ شہر کی روشنیاں ایک ایک کرکے جل رہی تھیں، مگر دور کہیں کسی بستی کے ملبے پر ابھی بھی دھوئیں کی ایک باریک لکیر آسمان کی طرف اٹھ رہی تھی۔ ایک مفکر خاموش بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے ایک نوجوان تھا جس کی آنکھوں میں سوال تھا۔

نوجوان نے کہا: ’’آج عالمی یومِ انسانیت منایا جا رہا ہے۔ جگہ جگہ تقاریر ہوں گی، پیغامات جاری ہوں گے، انسانیت کے نام پر الفاظ کے چراغ روشن کیے جائیں گے۔ مگر مجھے سمجھ نہیں آتی کہ انسانیت آخر ہے کیا؟‘‘ مفکر نے مسکرا کر پوچھا: ’’تمہارے خیال میں انسان ہونا کافی نہیں؟‘‘ نوجوان نے کہا: ’’کیا انسان پیدا ہونا انسان ہونے کے لیے کافی نہیں؟‘‘ مفکر نے جواب دیا: ’’اگر ایسا ہوتا تو دنیا میں ظلم کہاں سے آتا؟‘‘

نوجوان کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا: ’’تو کیا انسان ہونا ایک فطری حالت نہیں، بلکہ ایک اخلاقی مقام ہے؟‘‘ مفکر نے کہا: ’’اب تم سوال کے قریب پہنچ رہے ہو۔ جسم کے اعتبار سے انسان ہونا پیدائش کا نتیجہ ہے، مگر کردار کے اعتبار سے انسان ہونا انتخاب کا نتیجہ ہے۔ انسان ہمیں جسم کی صورت میں ملتا ہے، مگر انسانیت ہمیں اپنے اعمال سے تعمیر کرنا پڑتی ہے۔‘‘

نوجوان نے کہا: ’’لیکن ہم نے تو انسانی تہذیب کو بہت آگے پہنچا دیا ہے۔ ہم نے ستاروں تک رسائی حاصل کرلی، سمندروں کی تہوں کو کھوج لیا، مصنوعی ذہانت پیدا کرلی، بیماریوں کے علاج دریافت کیے اور دنیا کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا۔‘‘ مفکر نے پوچھا: ’’اور پھر؟‘‘ نوجوان نے کہا: ’’اور پھر کیا؟‘‘ مفکر نے سوال کیا: ’’کیا اس ترقی کے ساتھ انسان کا دل بھی وسیع ہوا؟‘‘ نوجوان نے پہلی مرتبہ نظریں جھکا لیں۔

مفکر نے کہا: ’’یہی تو ہمارے عہد کا عجیب المیہ ہے۔ عقل نے کائنات کے فاصلے کم کردیے، مگر دلوں کے فاصلے بعض اوقات بڑھتے گئے۔ ہم نے پیغام کو ایک لمحے میں براعظموں تک پہنچا دیا، لیکن ایک مظلوم کی فریاد کو اپنے ضمیر تک پہنچنے میں کبھی کبھی برسوں لگ جاتے ہیں۔ ہم نے ایسی مشینیں بنالیں جو سوچ سکتی ہیں، مگر خود سوچنے سے بچنے لگے کہ کسی انسان کا درد ہمارے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔‘‘

نوجوان نے پوچھا: ’’تو انسانیت کا پہلا امتحان کیا ہے؟‘‘ مفکر نے جواب دیا: ’’یہ کہ تم کسی ایسے انسان کے دکھ کو بھی اپنا مسئلہ سمجھو جس سے تمہارا کوئی رشتہ نہیں۔‘‘ نوجوان نے پوچھا: ’’کیا یہی ہمدردی ہے؟‘‘ مفکر نے کہا: ’’ہمدردی اس کا آغاز ہے، انتہا نہیں۔‘‘ نوجوان نے پوچھا: ’’پھر انتہا کیا ہے؟‘‘ مفکر نے جواب دیا: ’’انصاف۔‘‘

نوجوان چونکا۔ ’’انصاف؟ انسانیت تو رحم کا نام سمجھی جاتی ہے۔‘‘ مفکر نے کہا: ’’رحم ضروری ہے، مگر اگر رحم صرف زخم پر پٹی باندھے اور یہ نہ پوچھے کہ زخم کس نے لگایا، تو وہ درد کو وقتی طور پر خاموش تو کرسکتا ہے، ختم نہیں۔ بھوکے کو کھانا دینا رحم ہے؛ یہ پوچھنا کہ وہ بھوکا کیوں ہے، انصاف ہے۔ بے گھر کو خیمہ دینا رحم ہے؛ یہ دریافت کرنا کہ اسے گھر سے کس نے محروم کیا، انصاف ہے۔ جنگ کے زخمی کو دوا دینا رحم ہے؛ جنگ کے دروازے پر کھڑے ہوکر یہ پوچھنا کہ اسے شروع کس نے کیا، انصاف ہے۔‘‘

نوجوان نے کہا: ’’یعنی انسانیت صرف کسی مصیبت زدہ کو بچانے کا نام نہیں، بلکہ مصیبت پیدا کرنے والے اسباب کو چیلنج کرنے کا نام بھی ہے؟‘‘ مفکر نے جواب دیا: ’’بالکل۔ کیونکہ اگر تم صرف زخموں کا علاج کرتے رہو اور زخم پیدا کرنے والی تلواروں کو مقدس سمجھتے رہو تو تمہاری انسانیت ادھوری ہے۔‘‘

دور کہیں اذان کی آواز بلند ہوئی۔ دونوں کچھ دیر خاموش رہے۔

نوجوان نے پھر پوچھا: ’’مگر دنیا میں اتنے دکھ ہیں کہ انسان ان سب کو کیسے محسوس کرے؟ جنگیں، قحط، سیلاب، زلزلے، ہجرتیں، بیماریاں، غربت کیا ایک انسان کا دل اتنے دکھوں کا بوجھ اٹھا سکتا ہے؟‘‘ مفکر نے آہستہ سے جواب دیا: ’’خطرہ دکھ کی کثرت میں نہیں، دکھ سے عادت ہوجانے میں ہے۔‘‘ نوجوان نے پوچھا: ’’دکھ سے عادت؟‘‘ مفکر نے کہا: ’’ہاں۔ جب جنگ روزانہ کی خبر بن جائے، بھوک ایک عدد بن جائے، مہاجر ایک اصطلاح بن جائے اور موت ایک سرخی، تو انسان کا دل ایک عجیب خاموشی میں داخل ہوجاتا ہے۔ پہلی لاش ہمیں ہلا دیتی ہے، سوویں لاش شاید ہمیں صرف اسکرین بدلنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کے اندر کا چراغ مدھم ہونے لگتا ہے۔‘‘

نوجوان نے کہا: ’’تو عالمی یومِ انسانیت دراصل دنیا کو اس بھولی ہوئی حساسیت کی یاد دہانی ہے؟‘‘ مفکر نے جواب دیا: ’’ہاں، مگر صرف حساسیت کی نہیں، ذمہ داری کی بھی۔‘‘ نوجوان نے پوچھا: ’’ذمہ داری کس کی؟ حکومتوں کی؟ عالمی اداروں کی؟ امدادی تنظیموں کی؟‘‘ مفکر نے کہا: ’’سب کی۔ اور تمہاری بھی۔‘‘ نوجوان نے حیرت سے پوچھا: ’’میری؟ میں دنیا کی جنگیں تو نہیں روک سکتا۔‘‘

مفکر نے کہا: ’’کیا تم اپنے محلے میں کسی بھوکے کو کھانا نہیں دے سکتے؟ کسی بیمار کی مدد نہیں کرسکتے؟ کسی مظلوم کے لیے آواز نہیں اٹھا سکتے؟ کسی ایسے شخص کی عزت نہیں کرسکتے جسے معاشرہ حقیر سمجھتا ہے؟‘‘ نوجوان نے کہا: ’’شاید کر سکتا ہوں۔‘‘ مفکر نے جواب دیا: ’’تو پھر انسانیت تمہارے اختیار سے باہر نہیں۔‘‘

نوجوان نے کچھ توقف کے بعد پوچھا: ’’مگر ہم انسانوں کو برابر کیوں نہیں دیکھ پاتے؟ ہم اپنے مقتول کو انسان اور دوسرے کے مقتول کو عدد کیوں سمجھتے ہیں؟ اپنے مہاجر کو مظلوم اور دوسرے کے مہاجر کو بوجھ کیوں؟‘‘ مفکر کی نگاہ افق پر جم گئی۔

مفکر نے کہا: ’’کیونکہ انسان نے شناختوں کو انسانیت سے بڑا بنا دیا ہے۔ پہلے قوم، پھر مذہب، پھر زبان، پھر رنگ، پھر سیاست، اور آخر میں انسان۔ حالاں کہ اخلاقی ترتیب اس کے برعکس ہونی چاہیے۔ انسان پہلے انسان ہے؛ باقی شناختیں اس کے بعد آتی ہیں۔‘‘ نوجوان نے کہا: ’’لیکن سرحدیں تو ضروری ہیں۔ ریاستیں بھی ضروری ہیں۔‘‘ مفکر نے جواب دیا: ’’ضروری ہیں، مگر سرحدیں انسان کے لیے ہیں، انسان سرحدوں کے لیے نہیں۔ جب سرحد انسانی جان کی حرمت سے بڑی ہوجائے تو سیاست اخلاق سے جدا ہوجاتی ہے۔‘‘

نوجوان نے پوچھا: ’’کیا قدرت بھی انسانوں میں فرق کرتی ہے؟‘‘ مفکر نے کہا: ’’زلزلہ پاسپورٹ نہیں دیکھتا۔ سیلاب مذہب نہیں پوچھتا۔ بیماری دولت کی پرچی نہیں مانگتی۔ موت عہدہ نہیں دیکھتی۔ قدرت کے سامنے انسان کی بنیادی بے بسی ایک جیسی ہے۔ مگر ہمارے بنائے ہوئے نظاموں میں انسان کی قدر برابر نہیں رہی۔ یہی تہذیب کا سب سے بڑا تضاد ہے۔‘‘

نوجوان نے پوچھا: ’’تو کیا ترقی بھی ناکام ہوگئی؟‘‘ مفکر نے جواب دیا: ’’نہیں۔ ترقی ناکام نہیں ہوئی؛ ہماری اخلاقی رہنمائی کمزور ہوئی ہے۔ علم بذاتِ خود نجات نہیں دیتا۔ طاقت بذاتِ خود خیر نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ علم کس مقصد کے لیے اور طاقت کس کے تحفظ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔‘‘

نوجوان نے آہستہ سے کہا: ’’تو شاید دنیا کو مزید طاقتور انسانوں کی نہیں، ذمہ دار انسانوں کی ضرورت ہے۔‘‘ مفکر مسکرایا۔ ’’اب تم خود جواب دینے لگے ہو۔‘‘ نوجوان نے کہا: ’’ایسا انسان جو طاقت رکھتا ہو مگر کمزور کو نہ کچلے؟‘‘ مفکر نے جواب دیا: ’’ہاں۔‘‘ نوجوان نے پوچھا: ’’جو اختلاف کرے مگر دوسرے کی عزت باقی رکھے؟‘‘ مفکر نے کہا: ’’ہاں۔‘‘ نوجوان نے پوچھا: ’’جو اپنے لیے آسائش چاہے مگر دوسروں کی محرومی سے بے خبر نہ ہو؟‘‘ مفکر نے جواب دیا: ’’ہاں۔‘‘ نوجوان نے پھر پوچھا: ’’جو ظلم دیکھ کر یہ نہ کہے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں؟‘‘ مفکر نے کہا: ’’کیونکہ یہی جملہ ظلم کا سب سے خاموش ساتھی ہے۔‘‘

کچھ دیر دونوں خاموش رہے۔ پھر نوجوان نے پوچھا: ’’اگر میں کسی ایک انسان کی مدد کروں تو کیا واقعی اس سے انسانیت بدل سکتی ہے؟‘‘ مفکر نے جواب دیا: ’’پوری انسانیت شاید نہیں، مگر اس ایک انسان کی پوری دنیا بدل سکتی ہے۔ اور کبھی کبھی یہی پوری انسانیت کے مفہوم کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔‘‘

نوجوان نے پوچھا: ’’پھر انسان ہونے کی سب سے بڑی گواہی کیا ہے؟‘‘ مفکر نے آسمان کی طرف دیکھا۔ رات مکمل ہوچکی تھی۔ پھر کہا: ’’یہ نہیں کہ تم کتنے طاقتور تھے۔ یہ ہے کہ تمہاری طاقت سے کتنے کمزور محفوظ ہوئے۔ یہ نہیں کہ تم نے دنیا سے کتنا حاصل کیا؛ یہ ہے کہ دنیا کے درد سے تم نے کتنا وفا کا رشتہ قائم رکھا۔ اور یہ نہیں کہ تم نے کتنے بڑے کارنامے انجام دیے؛ کبھی کبھی صرف اتنا کافی ہے کہ جب پوری دنیا نے کسی انسان کو تنہا چھوڑ دیا، تم نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔‘‘

نوجوان نے کہا: ’’تو انسان ہونا ایک اعزاز نہیں؟‘‘ مفکر نے جواب دیا: ’’نہیں۔‘‘ نوجوان نے پوچھا: ’’پھر کیا ہے؟‘‘ مفکر نے کہا: ’’ایک امانت۔ ایک عہد۔ ایک قرض۔‘‘ نوجوان نے پوچھا: ’’اور یہ قرض کب ادا ہوگا؟‘‘

مفکر نے کہا: جس دن تم کسی اجنبی کے درد کو اپنا درد سمجھ کر اس کے لیے کھڑے ہوجاؤ گے، اس دن اس قرض کی ایک قسط ادا ہوگی۔ مگر یاد رکھو، یہ قرض ایک دن میں ادا نہیں ہوتا۔ انسان کو ہر صبح اپنے کردار سے ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ واقعی انسان ہے۔

صبح ابھی بہت دور تھی، مگر مشرق کے افق پر روشنی کی ایک نہایت باریک لکیر نمودار ہوچکی تھی۔

شاید وہ سورج نہیں تھا۔

شاید وہ انسانیت کا چراغ تھا۔

اور شاید پوری تہذیب کا مستقبل اسی سوال پر منحصر ہے کہ ہم اسے بجھنے دیتے ہیں یا اپنے عمل سے روشن رکھتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے