ٹیکنو کریٹ وزیراعظم
کسی زمانے میں آزاد کشمیر کو پاکستانی سیاست کی لیبارٹری کہا جاتا تھا۔ اس لیبارٹری میں نت نئے سیاسی تجربات کئے جاتے اور پھر وہ تجربات پاکستانی سیاست میں دہرائے جاتے۔ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ یہ لیبارٹری اب ایک سرکس بنتی جا رہی ہے جس میں مختلف مداری بڑے بے ہنگم انداز میں اپنے اپنے […]
مزید حماقتیں
اسکول کے زمانے میں شفیق الرحمان میرے پسندیدہ رائٹر تھے۔ میرے اسکول بیگ میں اُن کی کوئی نہ کوئی کتاب موجود رہتی۔ جب میں اُن کی کتاب پڑھ لیتا تو پھر وہی کتاب مختلف کلاس فیلوز میں گھومتی رہتی اور کچھ دن بعد میرے پاس واپس آجاتی۔ شفیق الرحمان صرف ایک مزاح نگار نہیں بلکہ […]
اتنا پریشان مت ہوں
حیران و پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تو حکمران جماعت کے ایک سینیٹر صاحب نے رونی سی صورت بنا کر کہا کہ نواز شریف کے خلاف پھر سے سازش شروع ہو گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے […]
ماتا جی کا پاکستان
کچھ سال پہلے کی بات ہے۔ عمران خان وزیراعظم تھے اور پاکستانی میڈیا میں اس ناچیز پر پابندی تھی۔ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی مہربانی سے مجھے نہ صرف ٹی وی اسکرین سے غائب کر دیا گیا بلکہ پرنٹ میڈیا میں میرا کالم بھی بند تھا۔ میں نے واشنگٹن پوسٹ […]
منٹو اور لارڈ قربان حسین
آکسفورڈ یونیورسٹی کا سمروائل کالج مارگریٹ تھیچر اور اندرا گاندھی کی وجہ سے بڑا مشہور ہے۔ تھیچر گیارہ سال تک برطانیہ کی وزیراعظم رہیں جبکہ اندرا گاندھی چار مرتبہ بھارت کی وزیراعظم رہیں۔ گزشتہ ہفتے سمروائل کالج میں آکسفورڈ سمر پروگرام کی گریجویشن تقریب تھی۔ گریجوایشن کی تقریب کے بعد سمر وائل کالج میں ایک […]
پارلیمانی نظام کیسے ناکام ہوا؟
کیا پاکستان میں پارلیمانی نظام ناکام ہو چکا ہے؟ کیا پاکستان کے مسائل کا حل صدارتی نظام کے نفاذ میں ہے؟ یہ سوالات نئے نہیں ہیں۔ پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی نے 1956ء کا آئین منظور کیا تھا جس کے تحت پاکستان کو ایک وفاقی پارلیمانی طرزِ حکومت سے چلایا جانا تھا۔ اڑھائی سال […]
میں کیوں نہیں ٹوٹا؟
یہ ایک ایسے سیاستدان کی کہانی ہے جس کے گھر سے تین شہیدوں کے جنازے اٹھے اور خود ان پر بھی کئی قاتلانہ حملے ہوئے۔ اپنے سگے بیٹے، بھائی اور بھتیجے کی شہادت کے بعد اس بہادر سیاستدان کی کمر تو جھک گئی لیکن وہ آج بھی پاکستانی سیاست میں جرات اور ثابت قدمی کا […]
شہدائے کشمیر کا واسطہ
جموں و کشمیر کی سیاسی جدوجہد میں تین ایام بہت اہم ہیں: 23 مارچ، 13 جولائی اور 14 اگست۔ ان تین تاریخوں کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے 21 جولائی 1924ء کے اس واقعے کو یاد کرنا ضروری ہے جب سرینگر کے ریشم کے کارخانوں میں کام کرنے والے ہزاروں کشمیری مسلمان مزدوروں نے کم […]
غدار کا بیٹا
بچپن کی کچھ یادیں آج بھی میرا پیچھا کرتی ہیں۔ میں جب بھی کوئی نعت یا حمد باری تعالیٰ سنتا ہوں تو مجھے اپنے دادا میر عبدالعزیز یاد آ جاتے ہیں جو ایک نعت گو شاعر تھے۔ ایک دفعہ دادا جی کسی مشاعرے میں شرکت کیلئے سیالکوٹ سے لاہور آئے۔ برکت علی اسلامیہ ہال میں […]
الطافِ صحافت
الطاف حسن قریشی صاحب کو دیکھ کر مجھے اپنا بچپن یاد آ جاتا تھا۔ ہمارے والد صاحب بچوں کے دو جرائد ’’نونہال‘‘ اور ’’تعلیم و تربیت‘‘ ہمیں پڑھنے کیلئے دیتے تھے لیکن میں ان جرائد سے زیادہ ’’اُردو ڈائجسٹ‘‘ اور’’سب رنگ ڈائجسٹ‘‘میں دلچسپی لیتا۔ الطاف حسن قریشی صاحب سے پہلا تعارف اردو ڈائجسٹ کے ذریعے […]