کچھ سال پہلے کی بات ہے۔ عمران خان وزیراعظم تھے اور پاکستانی میڈیا میں اس ناچیز پر پابندی تھی۔ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی مہربانی سے مجھے نہ صرف ٹی وی اسکرین سے غائب کر دیا گیا بلکہ پرنٹ میڈیا میں میرا کالم بھی بند تھا۔ میں نے واشنگٹن پوسٹ اور ڈی ڈبلیو اردو میں کالم لکھنے شروع کر دیئے۔ پابندیوں کے اس دور میں لکھے جانے والے کالموں کا مجموعہ 2023ء میں”سچ بولنا منع ہے“کے نام سے شائع ہوا۔
اس کتاب میں 2021ء کے یومِ آزادی پر لکھا گیا ایک کالم بھی شامل تھا جس میں 1947ء میں جموں میں مسلمانوں کے قتلِ عام کا ذکر تھا۔ میں نے بتایا تھا کہ میری والدہ نے جموں سے ہجرت کے وقت لاشوں کے نیچے چھپ کر اپنی جان بچائی تھی لیکن میری نانی کو اغوا کر لیا گیا اور پھر میری والدہ تمام عمر اپنی لاپتہ ماں کو ڈھونڈتی رہیں۔
اس کتاب کے شائع ہونے کے کچھ عرصہ بعد ٹورنٹو میں ایک دوست کی وساطت سے ایک بزرگ خاتون نے مجھ سے رابطہ کیا۔ یہ خاتون میری نانی اور والدہ دونوں کو جانتی تھیں اور جموں میں ان کی محلہ دار تھیں۔ اس بزرگ خاتون نے اپنے بارے میں زیادہ بتانا پسند نہیں کیا لیکن مجھ سے بار بار یہی پوچھتی تھیں کہ تم 1947ء کے قتلِ عام کا ذکر تو کر دیتے ہو لیکن یہ کیوں نہیں بتاتے کہ یہ قتلِ عام کس نے کروایا؟
میں نے انہیں پیشکش کی کہ میں ٹی وی پر آپکا انٹرویو کر لیتا ہوں اور آپ یہ کھل کر بتائیں کہ یہ قتلِ عام کس نے کیا؟ اس خاتون نے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد بہت آہستہ آہستہ بولتے ہوئے کہا: ”بیٹا میں تو کسی کو اپنی شکل دکھانے کے قابل نہیں، میں ٹی وی پر کیسے آؤں گی؟“ پھر تھوڑی دیر بعد اس خاتون نے دو مرتبہ ایک نام لیا -”یادوندرا سنگھ ہے۔ “ یادوندرا سنگھ ہے جس نے ہم سب کو تباہ کیا۔
یہ کہہ کر وہ رونے لگیں – انکے ہاتھ سے فون کسی اور نے لے لیا۔ اب مجھے ایک مردانہ آواز سنائی دی۔ ست سری اکال جی میرا نام ارمان سنگھ ہے اور ابھی میری ماتا جی آپ سے باتیں کر رہی تھیں ان سے اب بات نہیں ہو رہی آپکی مہربانی آپ نے شاہد صاحب کے کہنے پر ہم سے بات کی – شاہد صاحب ٹورنٹو میں رہتے ہیں -میں گورنمنٹ کالج لاہور کے زمانے سے شاہد کو جانتا ہوں اور وہ ارمان سنگھ کے بھی دوست ہیں۔
میں نے ارمان سنگھ سے پوچھا کہ یہ یادوندرا سنگھ کون ہے؟ اُس نے جواب میں کہا کہ 1947ء میں یہ شخص مہاراجہ پٹیالہ تھا اور ہم بھی پٹیالہ کے ہیں لیکن میری ماتا جی جموں کی ہیں اور آپکی بڑی فین ہیں۔ میرے پاکستانی دوستوں کے ساتھ آپکے بارے میں بڑی باتیں کرتی ہیں جب آپ پر جنرل مشرف کے دور میں پابندی لگی تھی تو میری ماتا جی مشرف کو بہت برا بھلا کہتی تھیں۔
میں نے پوچھا ماتا جی مشرف کے اتنا خلاف کیوں تھیں؟ ارمان سنگھ نے بتایا کہ مشرف نے بھارتی پنجاب کے چیف منسٹر امریندر سنگھ کو پاکستان بلا کر اسکی بڑی آؤبھگت کی تھی امریندر کی وجہ سے ماتا جی مشرف کی دشمن بن گئیں۔ میں نے پھر پوچھا ماتا جی امریندرسنگھ سے کیوں نفرت کرتی ہیں؟ ارمان نے جواب میں کہا کہ امریندرسنگھ دراصل یادوندرا سنگھ کا بیٹا ہے اور ماتا جی کو یادوندرا سے جڑی ہوئی ہر شے بری لگتی ہے۔
فون پر اس گفتگو کے بعد شاہد کے ذریعے میں نے اس بزرگ خاتون کے بارے میں مزید تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن شاہد بڑا محتاط رہتا تھا۔ ایک دفعہ وہ پاکستان آیا ہوا تھا- لاہور میں اولڈ راوینز یونین کی ایک تقریب میں مجھ سے ملا۔ میرے بہت اصرار پر اُس نے بتایا کہ اُس نے جس بزرگ خاتون سے میری فون پر بات کرائی تھی وہ دراصل اکتوبر 1947ء میں جموں سے اغوا ہو گئی تھیں۔
جموں میں قتلِ عام مہاراجہ پٹیالہ یادوندرا سنگھ کی بھیجی ہوئی فوج نے آر ایس ایس کے ساتھ مل کر کیا تھا – اس خاتون کی عمر اسوقت تقریباً چودہ یا پندرہ سال تھی۔ بہت سی مسلمان عورتوں کو اغوا کر کے پہلے گوردا سپور لے جایا گیا – کچھ مسلمان عورتوں کو اغوا شدہ ہندو عورتوں کے بدلے میں واپس کر دیا گیا لیکن کم عمر مسلمان بچیوں کو فروخت کر دیا جاتا تھا۔
اس مسلمان بچی کو مہاراجہ پٹیالہ کی فوج کے ایک افسر نے چار دیگر مسلمان عورتوں کے ہمراہ پٹیالہ میں ایک سینئر افسر کو گفٹ کر دیا – اسوقت مہاراجہ پٹیالہ کی فوج کے افسروں کے گھر جوان مسلمان عورتوں سے بھرے ہوئے تھے – یہ عورتیں پٹیالہ کی بھی تھیں اور کچھ جموں سے اغوا کر کے لائی گئی تھیں۔
جموں سے لائی گئی اس بچی کو فروخت ہونے سے بچانے کیلئے اسکے ساتھ مہاراجہ پٹیالہ کے اسٹاف میں شامل ایک نوجوان سکھ نے شادی کر لی – یہ سکھ دراصل مہاراجہ پٹیالہ کے ذاتی معالج ڈاکٹر عبدالعزیز خان کا شاگرد تھا۔ جب مہاراجہ پٹیالہ یادوندرا سنگھ نے ستمبر 1947ء میں پٹیالہ میں اغوا شدہ مسلمانوں عورتوں کو برہنہ کر کے انکا جلوس نکالا تو ڈاکٹر عبدالعزیز خان نے اس پر احتجاج کیا جس پر یادوندرا سنگھ نے خنجر سے ڈاکٹر عبدالعزیز خان کی آنکھیں نکلوا کر انہیں بے رحمی سے قتل کروا دیا۔
یہ سکھ ڈاکٹر دل ہی دل میںیادوندرا سے نفرت کرنے لگا۔ یہ نیک دل سکھ ایک مظلوم مسلمان بچی سے فرضی شادی کر کے اُسے دلی لے آیا- 1951ء میں سکھ ڈاکٹر نے اپنے ایک مسلمان دوست کی مدد سے اس بچی کے خاندان کو سیالکوٹ میں ڈھونڈ لیا۔
بچی کے والدین جموں میں مارے گئے تھے، بچی کی بڑی بہن اسوقت بھی لاپتہ تھی اور اسکے دو بھائی چچا کے ساتھ سیالکوٹ میں رہتے تھے – انہوں نے چچا کے دباؤ پر اپنی بہن کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ سکھ ڈاکٹرنے بڑا یقین دلایا کہ اُس نے یہ شادی صرف لڑکی کی زندگی بچانے کیلئے کی اور اُس کے ساتھ ازدواجی تعلقات استوار نہیں کئے لیکن لڑکی کا چچا کہتا تھا کہ اگر لڑکی واپس آ گئی تو ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔
اب اس مظلوم لڑکی کے پاس کوئی راستہ نہ تھا – وہ سکھ ڈاکٹر کی اصلی بیوی بن گئی – 1956ء میں ارمان سنگھ پیدا ہوا – کچھ عرصہ بعد یہ خاندان کینیڈا آ گیا۔ پچھلے سال شاہد نے بتایا کہ ارمان سنگھ پاکستان آیا ہوا ہے – اُس نے میری ارمان سنگھ سے دوبارہ بات کروائی۔
وہ سیالکوٹ میں بابا فرید کے شاگرد امام علی الحق کے مزار پر حاضری کیلئے آیا تھا میں نے امام صاحب کے مزار پر حاضری کی وجہ پوچھی تو وجہ اس نے مجھے نہیں بتائی۔ میں نے ماتا جی کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگا کہ ماتا جی سفر کرنے کے قابل نہیں ہیں پاکستان سے بہت محبت کرتی ہیں لیکن وہ کہتی ہیں کہ میں وہاں جا کر کس کو ملوں گی؟
ماتا جی اپنے ماں باپ کو بہت یاد کرتی ہیں جو پاکستان کی خاطر مارے گئے اور آج تک یادوندرا سنگھ کو بددعائیں دیتی ہیں – ارمان سنگھ نے بتایا کہ وہ دس سال کا تھا جب اُس کے والد ٹورنٹو میں کار ایکسیڈنٹ میں مارے گئے – ماتا جی نے دوبارہ شادی نہیں کی اورمحنت کر کے مجھے اور میری بہن کو پالا۔
ہم کبھی دلی یا پٹیالہ کا چکر لگا لیتے ہیں لیکن ماتا جی کبھی اُس طرف نہیں گئیں- ان کا دل تو پاکستان میں اٹکا رہتا ہے – وہ اپنے ان تمام رشتے داروں کی خبر رکھتی ہیں جو انہیں اپنانے کو تیار نہیں تھے۔ ارمان سنگھ نے کہا کہ شائد آپکو پاکستان کی اتنی قدر نہ ہو لیکن میری ماتا جی کو پاکستان کی بڑی قدر ہے انہوں نے آپکے ملک کیلئے اپنی عزت لٹائی۔
میں نے پوچھا اگر میں ٹورنٹو آ جاؤں تو ماتا جی سے ملوا دوگے؟ ارمان سنگھ نے کہا ضرور ملوا دونگا لیکن ماتا جی انٹرویو نہیں دیں گی کیونکہ انکے پاکستانی رشتہ دار بدنام ہوجائیں گے اور وہ مرتے مرتے بھی انہیں دکھی نہیں کرنا چاہتیں۔
بشکریہ جنگ