مولانا وحید الدین خاں اور دلیپ کمار
گزشتہ دو اڑھائی ماہ کے دوران میں‘بھارت کی دو ممتاز ترین مسلم شخصیات دنیا سے رخصت ہوئیں۔ایک کا تعلق علمِ دین سے تھا اور دوسری کا فنِ اداکاری سے۔ دونوں نے کم و بیش ایک صدی کی عمر پائی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دونوں اپنے اپنے میدان کے بڑے لوگ تھے۔اس میں بھی شک […]
جمہوریت کا تاریک مستقبل
پاکستانی معاشرہ ‘کیاجمہوریت کی برکات سے کبھی فیض یاب ہو سکے گا؟ آگہی کے وسیع ہوتے امکانات کے باوجود‘مجھے مستقبل قریب میں تو اس کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔آج عوام کی شعوری سطح ماضی کے مقابلے میں کہیں بلند ہے۔ یہ بے حجابی کا دور ہے۔جو پنہاں ہے‘دراصل ظاہر ہے۔عام شہری بھی اقتدار کے […]
فرید پراچہ کی کہانی
فرید پراچہ صاحب کی زندگی‘اس سے پہلے ایک کھلی کتاب تھی۔ اب انہوں نے اسے ایک ‘بند کتاب‘ کی صورت میں بھی مرتب کر دیا ہے۔ بند کتاب میں کچھ خاص ہے جو کھلی کتاب میں نہیں۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ‘ مولانا گلزار احمد مظاہری کے صاحب زادے ہیں۔مولاناسید ابو الاعلیٰ مودودی کے الفاظ میں […]
پہلی تقریر
تین سال بعد‘ پہلی بار عمران خان صاحب نے وہ تقریر کی جو ان کے منصب کے شایانِ شان تھی۔تین سال پہلے یہ واقعہ ہو جاتا تو شاید عمرِ رائگاں کے ماہ و سال کچھ کم ہو جاتے۔ میں نہیں جانتا کہ یہ حالات کا جبر ہے یا کسی داخلی تبدیلی کا اظہار۔ اس عمر […]
منزل ہے کہاں تیری اے لالہ صحرائی؟
نوازشریف صاحب کی خاموشی تادیرباقی نہیں رہ سکتی۔کچھ ہی دنوں میں افواہوں کی بھنبھناہٹ اس کی جگہ لے لے گی۔اگلے مرحلے میں یہ افوہیں شور میں ڈھل جائیں گی۔پھر وہ بولنا چاہیں گے تو بھی ان کی آواز سنائی نہیں دے گی۔یہ اب ان کی مرضی ہے کہ وہ اُس وقت کا انتظار کرتے ہیں […]
افغانستان… کس کا قبرستان؟
افغانستان انسانی تہذیب سے بچھڑا ہوا ایک سماج ہے۔ آج امن اُس کی پہلی ترجیح نہیں اور یہی اس کا المیہ ہے۔ امریکہ والے بظاہر بہت سیانے ہیں۔ 1979ء میں یہاں قدم رکھنے سے پہلے انہوں نے اس خطے کے طرزِ معاشرت اور سماجی بنت کا اچھی طرح جائزہ لے لیا ہو گا۔ عام طور […]
نئی سیاسی جماعت کی ضرورت ؟
کیا ایک نئی سیاسی جماعت پاکستان کو درپیش مسائل کا حل ہے؟ ملک کے بارے میں فکر مند رہنے والے لوگ کچھ عرصے کے بعد ‘اس تصور کو زندہ کرتے ہیں کہ ہماری روایتی سیاسی جماعتیں‘ درپیش مسائل کے حل میں ناکام رہی ہیں۔اس لیے ایک نئی جماعت کی ضرورت ہے۔اسی خیال نے تحریکِ انصاف […]
شہباز شریف اور سیاست کا سراب
شہباز شریف سراب کو دریا سمجھتے ہیں۔ سال ڈیڑھ پہلے اسی کالم میں توجہ دلائی تھی کہ جس نظام میں نواز شریف کے لیے کوئی جگہ نہیں، اس میں شہباز شریف کے لیے بھی کوئی گنجائش نہیں۔ الا یہ کہ وہ کھلی بغاوت پر اتر آئیں۔ عرفِ عام میں ‘ن‘ سے ‘ش‘ نکل آئے۔ برسوں […]
اہلِ فلسطین کے نئے دوست کون ہیں؟
اس بار فلسطین کے مسئلے پر ‘ایک مدت کے بعدغیر معمولی تحرک دکھائی دیا۔اسرائیل کے خلاف احتجاج کی ایک لہر تھی جوبر طانیہ سے امریکہ تک پھیل گئی۔لوگوں نے اہلِ فلسطین اور اسرائیلی ریاست کو ایک نظر کے ساتھ دیکھنے سے انکار کر دیا۔ایک کو مظلوم اور دوسرے کو ظالم مانا گیا۔ اسرائیل کے سرپرست […]
مکمل تصویر
کینیڈا میں دو واقعات ایک ساتھ رونما ہوئے۔ مکمل تصویر دیکھنے کے لیے دونوں کا ایک ساتھ تذکرہ ضروری ہے۔ ایک واقعہ تو وہ ہے جس میں ایک پاکستانی اورمسلمان خاندان ایک انتہا پسندیہودی کی دہشت گردی کا نشانہ بنا۔یہ اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کے اس مرض کا اظہارہے جسے اسلاموفوبیا کہتے ہیں۔دوسرا واقعہ […]