چمچ اور چھری
منطقۂ اقتدار لاہور اور اسلام آباد دونوں جگہوں پر کھانے کی میزیں لگ چکیں، خوانِ نعمت سج چکا۔ چم چم کرتی کراکری اور جگ مگ کرتی کٹلری چنی جا چکی، خوشبودار کھانوں سے بھوک کو بڑھانے کا سامان ہو رہا ہے، کھانوں سے اٹھنے والا دھواں ان کی تازگی کی گواہی دے رہا ہے۔ شہرانِ […]
بوڑھا شیر اور اژدھا
پہلوانوں کے گزشتہ دو سال کے جوڑ توڑ طے شدہ تھے، داؤ پیچ ضرور دکھائے گئے مگر وہ سب بھی نمائشی تھے۔ بوڑھے شیر اور اژدھے کا جوڑ مُلکھ کیلئے فیصلہ کن بھی ہو گا اور بوڑھے شیر کی آسان تر زندگی کیلئے ایک مشکل ترین چیلنج بھی۔ بلوچستان میں دہشت گردی کا عفریت اب […]
باغی، داغی اور چراغی !!
شاہینوں کے روحانی باپ علامہ اقبال ان سے استفادہ کرتے تھے تو پھر اس روڑے کوڑے کو بھی اکبر الٰہ آبادی کی اصطلاحات کو استعمال کرنے اور ان کی نئی تشریحات کا پورا حق حاصل ہے۔ اکبر الٰہ آبادی نے ان تینوں الفاظ کو اس شعر میں بخوبی استعمال کیا ہے؎ نہ ان میں رنگ […]
فحاشی، چھاپہ اور ثقافت
ہر زمانے، ہر خطے اور ہر ملک میں اخلاقیات کے الگ پیمانے ہیں اور یہ پیمانے بھی وقت کے ساتھ بدلتے رہے ہیں، انہی اخلاقی معیارات سے فحاشی کا مطلب جڑا ہوا ہے، انہی روایتی معیارات سے ہٹنے پر چھاپے پڑتے ہیں مگر اس بحث میں بنیادی معاملہ ثقافت کا ہے۔ ہمارا اصل تضاد ثقافت […]
معقول بھائی و معمول بھائی!!
معقول بھائی اور معمول بھائی سگے اور جڑواں بھائی ہیں ، معقول بھائی کی صحت، مزاج اور عقل درست ہو تو معمول بھائی کے حالات بھی اعتدال پر آ جاتے ہیں۔لڑائی جھگڑا اور تضاد آ پڑے تو معقول بھائی عقل، دلیل اور لچک سے راستہ نکالتا ہے اور یوں معمول بھائی اس سیدھے راستے پر […]
گرم سڑکیں اور ٹھنڈے انصافی!!
تحریک انصاف کی سرگرم سیاست کا اہم ترین پہلو سڑکوں کو گرم رکھنا رہا ہے۔ دراصل ووٹ پاور اور سٹریٹ پاور دو مختلف چیزیں ہیں۔ 70ء کی دہائی تک جماعت اسلامی مقبول جماعت نہ ہونے کے باوجود بھرپور سٹریٹ پاور رکھتی تھی، آج بھی جمعیت علمائے اسلام اور تحریک لبیک پاکستان قومی انتخابات میں بڑی […]
ہمارا مارکس تو گیا!!!
مذہبی پس منظر اور دائیں بازو کے ماحول میں تربیت پانے کے بعد پہلے سوشلسٹ شیخ محمد رشید سے ملاقات ہوئی اور پھر مارکسسٹ ڈاکٹر منظور اعجاز سے تعلق بنا تو بائیں بازو کے بارے میں اپنے نظریات پر نظرثانی کرناپڑی۔ پیپلز پارٹی کے سینئر وائس چیئرمین شیخ محمد رشید دو کمروں کے گھر میں […]
جانشین: بھابی یا باجی!
مُلکھ تضادستان کے رنگ نرالے ہیں وہ سیاسی جماعت جو دو بڑے سیاسی خاندانوں کی وراثت ختم کرنے کیلئے میدان میں آئی تھی نیرنگئی سیاست دیکھیے کہ خان صاحب کا جانشین کوئی ورکر نہیں بلکہ انکی اہلیہ ہوں گی یا انکی باجی، مجھے یہ لگتا ہے کہ اب بھی اگرچہ ان دو بیبیوں کو ہنوز […]
آئینی کتاب: نہ نرم، نہ سخت!
یہ کتابوں کی دنیا کی کہانی ہے یہ کتب خانوں اور لائبریریوں میں پڑی تہہ در تہہ کتابوں کی دانش کی تلچھٹ ہے۔ یونانی فلاسفروں کی ’’دی ری پبلک‘‘ سے لیکر ول ڈیورانٹ کی ’’تاریخ کے سبق‘‘تک اہل دانش انہی قوموں کی خوشحالی کا ذکر کرتے رہے ہیں جو آزادی اور مساوات کے دو سنہری […]
دو پاکستان!
ویسے تو تضادستان کا دامن اتنا وسیع ہے کہ اس میں کئی رنگا رنگ پاکستان سما سکتے ہیں مگر گزشتہ روز دو متضاد پاکستانوں کی کہانی ایک ہی روز کے اخبارات میں پڑھی تو سوچا کہ ایک ہی مُلکھ میں ہم اس قدر متضاد رویوں کے حامل کیوں ہیں ،آخر ہم مقابل جہات میں رواں […]