روتے ہوئے عوام اچھے لگتے ہیں!
مجھے اپنے پرائمری اسکول کے ایک ماسٹر صاحب کبھی نہیں بھولتے، ان کا نام چراغ دین تھا۔ چراغ دین کا رنگ ویسا تھا جیسا چراغ تلے ہوتا ہے۔ ماسٹر چراغ دین کی کلاس میں لڑکے شرارتیں بہت کرتے تھے اور ان شرارتوں پر قابو پانے کا طریقہ ماسٹر صاحب کی اپنی ایجاد تھا۔ وہ ڈنڈا […]
پوچھیں جو پوچھنا ہے!
کالموں کے قارئین ،کالم نگاروں کو صرف شہری نہیں، نجومی بھی سمجھتے ہیں چنانچہ وہ اُنہیں جہاں کہیں بھی ملیں، اُن سے مستقبل کے حالات جاننا چاہتے ہیں۔ ہر ایک یہ پوچھتا ہے ’’جناب! آئندہ کیا ہونے والا ہے؟‘‘ ایک سوال یہ بھی کیا جاتا ہے :جناب! یہ سب کیا ہو رہا ہے؟۔ سوال کرنیوالے […]
ناکامیوں کی طرف لے جانے والی کامیابیاں
ارشد میرا دوست تھا، پھر وہ میرا اُستاد بن گیا اور اُستاد ہونے کی وجہ سے میری نظروں میں اسکا درجہ والد جیسا ہو گیا اور پھر میں نے ایک ہونہار شاگرد بلکہ سعادت مند اولاد کی طرح اس کی ہر بات کو اپنے لئے حکم جاننا شروع کر دیا۔ ارشد کے دوست سے استاد […]
بلیاں اور کتے
مجھے بلیاں بچپن ہی سے بہت پسند ہیں اور میری یہ پسندیدگی ابھی تک قائم ودائم ہے۔گزشتہ چند برسوں سے ایک بِلاہم نے پالا ہوا ہے جو مجھے بہت پیارا لگتا ہے گورا چٹا، بڑی بڑی مونچھیں ،کسرتی جسم اور بہت نفیس عادتوں کا مالک!ہم گھر والوں نے اس کا نام پیار سے ” بِلا […]
باقی آپ کی مرضی
گزشتہ روز ایک صاحب غریب خانے پر تشریف لائے اور آتے ہی ہاتھ فاتحہ خوانی کے لئے فضا میں بلند کر دیئے۔ میں نے بھی پیروی کی اور ایک دفعہ الحمد شریف اور تین دفعہ قل شریف پڑھ کر اس مرحوم کی مغفرت کی دعا کی جس کے بارے میں میں کچھ نہیں جانتا تھا۔دعا […]
ڈرائیور کے اتحادی
میں ایک حکمران ہوں اور اس کار کی طرح ہوں جس کے چار پہیےہیں، چار دروازے ہیں ۔ دو سیٹیں آگے، دو پیچھے ہیں ۔ اس کا انجن بھی ہے مگر خرابی یہ ہے کہ اسے ابھی تک خود انحصاری کی عادت نہیں پڑی، چنانچہ اسے چلانے کیلئے ہمیشہ ’اتحادیوں‘ کی ضرورت پڑتی ہے اور […]
موسموں کا جن جپھا
کچھ لوگ بے تکلف ہونے میں کوئی جواب نہیں رکھتے یہ منٹوں سیکنڈوں میں بے تکلف ہو جاتے ہیں اور آپ ان کا منہ ہی دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ ایک صاحب مجھے برخورداروں کی طرح ملا کرتے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ ملاقات میں کچھ وقفہ پڑ گیا۔ چنانچہ کوئی دو سال بعد ان سے […]
شیڈ لیئر!
میں کئی دنوں سے اپنے ایک بچپن کے دوست جاوید کے ساتھ مارا مارا پھر رہا تھا جس سے میری ملاقات برسوں بعد ہوئی تھی۔میرے اس دوست کو کسی زمانے میں امیر بنے کا جنون تھا اور اس نے مجھے بتایا کہ اسکی خواہش اللہ نے پوری کر دی ہے۔ اب اسکے گھر کے ہر […]
غمگین سلیمانی کا خط
پیارے عطاء ! ان دنوں شہر میں شادیاں بہت ہو رہی ہیں۔ اس لیے تمہارے خط کا جواب جلدی نہ دے سکا۔ شہر میں جس طرف نکل جائیں قناتوں اور سائبانوں سے رستہ بند ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے لمبا چکر کاٹنا پڑتا ہے۔ پھر ان دنوں کوئی بارات بینڈ باجے کے بغیر مکمل […]
سردیوں میں ڈرائی فروٹ خریدنے کا المیہ
پیارے قارئین!سردیاں آتے ہی انسان کے دل میں ایک عجیب سی خواہش جاگ اٹھتی ہے کہ چلو آج بادام کھا لیتے ہیں، کل کاجو چکھتے ہیں، پرسوں پستہ آزماتے ہیں اور مہینے کے آخر میں بجلی اور گیس کے بل دیکھ کر ہاتھوں سے سر پکڑ لیتے ہیں۔سردیوں میں ڈرائی فروٹ خریدنے کا تصور ہی […]