آوارہ بیل
ابھی کل ہی ہم نے شفیق الرحمن کی تازہ کتاب ’’دجلہ‘‘ ختم کی ہے جس کی ایک کہانی میں انہوں نے جعفر زٹلی کی ایک پیروڈی اس کے حوالے سے استعمال کی ہے۔ یہ پیروڈی الف لیلوی کہانیوں کی ہے۔ یہ پیروڈی ہمیں اس لئے یاد آئی ہے کہ اس کا ’’ہیرو‘‘ بھی ایک بیل […]
فنکاروں کی ناقدری کا نتیجہ
ہم لوگوں کو’ناشکری‘کی سزا تو ملنا ہی تھی ، بھلے وقتوں میں چور ہوا کرتے تھے ہم نے انکی قدر نہیں کی ۔ چنانچہ وہ معاشرے سے غائب ہو گئے ۔ اب ایک طویل عرصے سے ڈاکو سڑکوں پر دندناتے پھرتے ہیں ۔ وہ جس گھر میں داخل ہونا چاہیں کھلے بندوں داخل ہو جاتے […]
ہتک آمیز مواد
جناب شفیق الرحمن ایک کرم ہم پر یہ کرتے تھے کہ طنز و مزاح پر مشتمل انگریزی کتابیں اور رسالے ہمیں گاہے گاہے ایک وزنی پیکٹ کی صورت میں ارسال کرتے رہتے تھے، چنانچہ ہمارے پاس’’ پنچ‘‘کے پرانے پر چوں کا ڈھیر اور کتابوں کی ڈھیریاں لگ گئیں ۔ گزشتہ ہفتے ان میں ہمیں دو […]
ڈاکٹر اللّٰہ رکھا مرحوم
ڈاکٹر اللّٰہ رکھا مرحوم ایک زمانے میں میرے ہمسائے تھے۔ مرحوم ان کا تخلص نہیں تھا بلکہ انہوں نے یہ لفظ نام کا حصہ محض اس لیے بنا رکھا تھا تا کہ انہیں اور ان کے مریضوں کو موت ہمیشہ یادر ہے۔ مرحوم کے قریبی دوستوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایم بی بی […]
ڈنگر، فضول، بے ہودہ شخص!
انور مسعود کی مشہورِ زمانہ نظم ’’اج کیہہ پکائیے‘‘ کی طرح ہم کالم نگاروں کو بھی روزانہ یہ مسئلہ درپیش آتا ہے کہ ’’اج کیہہ لکھئے‘‘۔ کسی منجھے ہوئے کالم نگار بلکہ کسی ’’پیشہ ور‘‘ کالم نگارکیلئے لکھنا لکھانا تو کوئی مسئلہ نہیں، واضح رہے کہ پیشہ ور سے مراد وہ ’’پیشہ‘‘ نہیں جو آپ […]
بڑا آدمی
قیامت کی طرح بڑے آدمیوں کی بھی کچھ نشانیاں ہیں۔مثلاً بڑا آدمی ہمیشہ بڑے لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا اور لیٹتا ہے۔وہ تقریبات میں صفِ اول کی نشستوں پر بیٹھنے کی کوشش کرتا ہے۔بڑا آدمی جب اپنے رفقا کے ساتھ کسی اعلیٰ درجے کے ریستوران میں داخل ہوتا ہے تو بیرے اسے جھک کر سلام کرتے […]
صحیح ہے جناب صحیح ہے
گزشتہ روز ہم اپنے ایک دوست کے گھر گئے تو اسکی کوٹھی کا مین گیٹ اندر سے مقفل تھا اور گھنٹی باہر نہیں ، اندر گیراج کی دیوار کے ساتھ تھی ۔ یہ مین گیٹ اتنا چھوٹا تھا کہ اسے آسانی سے پھلانگ کر گھنٹی تک رسائی حاصل کی جاسکتی تھی ۔ پہلے ہم نے […]
آئینوں کے سامنے
گزشتہ کئی برس سے ہم خاصے ہرجائی ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ بات خود ہم نے بھی محسوس کی ہے اور دوست بھی ہمارے نوٹس میں یہ بات لاتے ہیں ۔ اس ہرجائی پن کی ایک نمایاں مثال یہ ہے کہ ہم اپنا برانڈ مستقل تبدیل کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور ظاہر ہے کہ […]
مہربان قدردان
مہربان قدردان ! اس وقت آپ کے سامنے یہ ڈب کھڑبا لال رنگ کا جو سانپ پڑا ہے، اسے جونسرا کہتے ہیں۔ یہ گھروں میں اور مکانوں کی چھتوں میں پایا جاتا ہے۔ اسے دیکھ کر لوگوں میں دہشت پھیل جاتی ہے۔ جس گھر سے یہ سانپ برآمد ہو ، اس گھر کے مکین خوفزدہ […]
کیا وہ میں تھا!
میں گزشتہ ہفتےاورینٹل کالج کے مین گیٹ سے کالج میں داخل ہوا تو میری نظروں میں 1964ء کے وہ لمحات گھوم گئے جب میں ایم اے اُردو میں داخلہ لینے کیلئے اس دروازے سے کالج میں داخل ہو رہا تھا ۔ وہی سرخ اینٹوں سے بنی ہوئی سوا سو سال پرانی عمارت ، وہی اس […]