قعرِ دریا‘‘ میں ’’تختہ بند‘‘ ہوئے انسان

بچپن کی یادوں میں توانا تر یہ قصہ بھی ہے کہ بستر پر تنہا بیٹھے میرے کئی بزرگ بسااوقات بآواز بلند فارسی کا ایک شعر پڑھا کرتے تھے۔ اسے پڑھنے کے بعد نکلی آہ انسانی بے بسی کا پریشان کن اظہار ہوتی۔ میں اسے سن کر اکثر گھبرا جاتا۔چھٹی جماعت میں فارسی مجھے اختیاری مضمون […]

’’اہم ترین ملاقاتوں‘‘ کی قیاس آرائی

پیر کی صبح چھپے کالم میں اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ شہباز شریف صاحب کی قیادت میں قائم ہوئے حکومتی بندوست نے اتوار کی رات تک معیشت کے بارے میں کڑے مگر قطعی فیصلوں کا اعلان نہ کیا تو بازار میں مندی بدستور جاری رہے گی۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے […]

تباہ حال معیشت ، نئی حکومت کا امتحان

شہباز شریف صاحب اور ان کے ہمراہ گئی وزراء کی ٹولی ابھی لندن ہی میں موجود تھے کہ گزرے جمعہ کی سہ پہر سوشل میڈیا پر خبر چلی کہ ہمارے ایک سینئر ترین انتہائی بااثر اور متین صحافی جناب فہد حسین صاحب کو وزیر اعظم کا خصوصی مشیر مقرر کردیا گیا ہے۔بعدازاں مذکورہ تقرری کی […]

امریکی اشاروں کے تابع آئی ایم ایف کے فیصلے

قومی اسمبلی میں پیش ہوئی تحریک عدم اعتماد کی بدولت وزارت عظمیٰ سے فارغ ہوجانے کے بعد عمران خان صاحب تسلسل سے دہائی مچائے چلے جارہے ہیں کہ انہیں مقامی مخالفین نے نہیں بلکہ امریکہ نے اقتدار سے محروم کیا ہے۔اس ضمن میں وہ ایک مراسلے کا حوالہ بھی دیتے ہیں جو امریکی وزارت خارجہ […]

عمران خان اور ٹی وی چینلوں کی ریٹنگ

عمران صاحب کی یہ خوبی تو ان کے بدترین ناقد کو بھی تسلیم کرنا پڑے گی کہ وہ ٹی وی اداروں کو ریٹنگز دیتے ہیں۔اپنی اس خوبی کو انہیں کمال مہارت سے استعمال کرنا بھی آتا ہے۔اپنے تئیں پھنے خان اور ’مارکیٹ میں صف اوّل‘ ہونے کی بڑھکیں لگاتے صحافتی ادارے بھی اس کی وجہ […]

دلیری سے نئے انتخابات کی جانب بڑھیں

شہباز شریف صاحب سے جب بھی سرراہ ملاقات ہوئی ہمیشہ عزت واحترام سے ملے۔محنتی اور پرجوش آدمی ہیں۔ان کی نمایاں خصوصیات کے باوجود میں نے انہیں بنیادی طورپر ایک سیاست دان نہیں بلکہ متحرک منیجر ہی شمار کیا ہے۔خاص نوعیت کے ٹیکنوکریٹ جو اقتصادی ترقی کی خاطر میگاپراجیکٹ سوچنے کے بعد انہیں برق رفتاری سے […]

’’تاحکم ثانی‘‘ والا معاملہ

وقت یا سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ ہمارے ہاں حکومتیں بدلنے کے ساتھ ’’غداروں‘‘ کی فہرستیں بھی تبدیل ہوجایا کرتی ہیں۔چند سیاست دان اگرچہ اس ضمن میں ’’دائمی‘‘ شمار ہوتے رہے ہیں۔ مثال کے طورپر جب پانچویں جماعت سے میرے والد مرحوم نے مجھے بآواز بلند ہمارے گھر آنے والے تین اخبارات پڑھنے […]

سماجی روایات اور دلوں کی بڑھتی الجھنیں

کالم کا آغاز کسی اور موضوع سے ہونا تھا۔اتوار کی صبح اُٹھ کر لیکن اخبارات پر سرسری نگاہ ڈالی تو میرے گھر اسلام آباد میں آئے ’’نوائے وقت‘‘ کے آخری صفحہ پر اپرہاف میں ایک خبر چھپی تھی۔اخبار کو تہہ کرنے والے خط کے اوپر والے اس حصے کو اہم خبروں کے لئے مختص تصور […]

جوناتھن کا گولیور اور عمران خان

میری نسل کے لوگوں کو میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے لئے انگریزی میں لکھی ایک کہانی بھی پڑھنا اور یاد رکھنا ہوتی تھی ۔یہ تو بہت بعد میں دریافت ہوا کہ ہم جس تحریر کا رٹا لگاتے تھے وہ درحقیقت ایک ضخیم ناول کا اقتباس تھا۔وہ ناول ایک خیالی مہم جوگولیور کے دور دراز […]

بلوچستان کے اصل مسائل کا ادراک کریں

کراچی میں چینی شہریوں پر منگل کے روز جو خودکش حملہ ہوا ہے اسے دہشت گردی کی روایتی واردات تصور کرتے ہوئے نظرانداز کردینا احمقانہ عمل ہوگا۔ اہم ترین بات وقت کاتعین ہے۔ شہباز شریف کے عمران خان صاحب کی جگہ وزیر اعظم کے منصب پرفائز ہونے کے بعد امید باندھی گئی کہ پاکستان کو […]