پنجاب میں کس کی ماں کو ماسی کہیں؟
حقوق واختیارات سے قطعی محروم کسی بھی پاکستانی کی طرح مجھے یہ طے کرنے میں ہرگز کوئی دلچسپی نہیں کہ آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے اور اٹک سے رحیم یار خان تک پھیلے صوبہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز ہونے کا اصل حقدار کون ہے۔ریاستی امور کا طالب علم […]
فرانس کا صدارتی ا نتخاب
فرانس میں میرا قریبی عزیز تو کیا دور پرے کا کوئی شناسا بھی قیام پذیر نہیں ہے۔اس کے باوجود اتوار کا سارا دن نہایت پریشانی سے منتظر رہا کہ وہاں ہوئے صدارتی انتخاب کے آخری مرحلے میں کون کامیاب ہوگا۔بالآخر موجودہ صدر میکرون ہی جیت گیا۔اس کی جیت مگر میرے اطمینان کا سبب نہیں۔تھوڑا سکون […]
قومی سلامتی کا بیانیہ اور بے وارث پنجاب
’’امریکی سازش‘‘ کے الزام نے ہمارے معاشرے کے ذہین ترین اذہان کو بھی جس انداز میں مفلوج بنارکھا ہے اس کے ہوتے ہوئے اس حقیقت پر توجہ ہی نہیں دی جارہی کہ اٹک سے رحیم یار خان تک پھیلا پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ گزشتہ تین ہفتوں سے وزیر اعلیٰ کے بغیر چل رہا […]
مفروضوں کی کھچڑی
مجھ جیسے کالم نگاروں کا اصل گناہ یہ ہے کہ ہم عوام کو ابھی تک سمجھا نہیں پائے ہیں کہ پاکستا ن کا ریاستی نظام اور لوگوں کو قابو میں رکھنے کا ڈھانچہ بہت طاقت ور ہے۔ ہمارے خطے میں اسے برطانوی استعمار نے 1846ء میں پنجاب پر قبضے کے بعد متعارف کروانا شروع کیا […]
وفاقی کابینہ میں بلاول کی عدم شمولیت
بستر سے باہر نکلتے ہی یہ کالم لکھنے کے بجائے مجھے دوپہر بارہ بجے تک انتظار کرنا پڑا۔وجہ اس کی وفاقی کابینہ کی حلف برداری تھی جس کی تشکیل میں تاخیر عوام کی کثیر تعداد کو یہ سوچنے کومجبور کررہی تھی کہ عمران خان صاحب کی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت عظمیٰ سے فراغت […]
شہباز حکومت کی کمزوری اور عمران کے مداحین کی توقعات
مارچ کے آخری ہفتے کے دوران جب یہ سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ عمران خان صاحب اپنے خلاف قومی اسمبلی میں پیش ہوئی قرارداد سے کیسے نبردآزما ہوں گے،مجھے شادی کی ایک تقریب میں شریک ہونا پڑا۔مذکورہ تقریب میں ان دنوں کی اپوزیشن جماعتوں کے سرکردہ رہ نما بھی موجود تھے۔نواز شریف کے نام […]
خاندانی روایات کا بھرم چکناچور
میرا دل خوش فہم یہ تسلیم کرنے کو آمادہ ہی نہیں ہورہا کہ پنجاب اسمبلی میں ہفتے کے دن جو دنگا فساد ہوا چودھری شجاعت حسین صاحب اس کی بابت دل ہی دل میں ندامت محسوس نہیں کررہے ہوں گے۔ان کے والد چودھری ظہور الٰہی کے زمانے سے گجرات کے چودھری وضع داری کی علامت […]
ریاستِ پاکستان کی عزت کا سوال
مصطفیٰ نواز کھوکھر میری عدم موجودگی میں بھی میرا ذکر ’’نصرت انکل‘‘ کے استعمال سے کرتا ہے۔اسے جب علم ہوا کہ گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفے کا طالب علم رہا ہوں تو کئی بار میرے گھر آکر ہیگل،کانٹ اور سپائی نوزا جیسے فلاسفروں کی کتابیں بہت غور سے پڑھنے کے بعد ان کے نظریات کو […]
’’نظام کہنہ‘‘ کے خلاف عمران خاں کی ’’عوامی تحریک‘‘
’’کتنے بندے تھے؟ ‘‘والے سوال کا جواب ڈھونڈنے کو میں نے ہمیشہ وقت کا زیاں سمجھا ہے۔اس حقیقت سے لیکن کبھی انکار نہیں کیا کہ ہمارے معاشرے کا ایک مؤثر حصہ عمران خان صاحب کی عقیدت میں مبتلا ہے۔ان کے مداحین کی اکثریت کا تعلق شہری متوسط طبقے سے ہے۔ اس کے خوش حال ترین […]
قانون کی جیت ، اناپرستی کی شکست
اگست 2018ء میں عمران حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے فقط دو ماہ بعد مجھے نوکری سے فارغ کردیا گیا تھا۔میری صحافتی زندگی کی تین دہائیوں میں یہ پہلا موقعہ تھا جب ایسی فراغت کی ذلت دیکھنا پڑی۔اس سے قبل جن اداروں سے وابستہ رہا وہاں سے ہمیشہ ازخود ہی مستعفی ہوا تھا۔میری فراغت نے ٹی […]