ماہِ کنعان: وہ منظر جو بچپن سے میرے ساتھ آیا
میں چھ یا سات برس کی تھی جب میں نے اشفاق احمد کا ماہِ کنعان پہلی بار دیکھا تھا۔ یہ وہ ماہِ کنعان نہیں جسے آج کی نسل شاید شگفتہ اعجاز کی اداکاری کے حوالے سے یاد کرتی ہے۔ میرے ذہن میں جو ڈراما محفوظ ہے، وہ پرانا، بلیک اینڈ وائٹ پی ٹی وی کا […]
میرے آنسوؤں سے سجا ایک خط
کبھی کبھی کسی انسان کو مارنے کے لیے گولی نہیں چلانی پڑتی۔ صرف ایک فائل کافی ہوتی ہے۔ ایک نوٹ، ایک دستخط، ایک ایگزیکٹو ڈسیشن اور پھر بہت مہذب انداز میں کہا جا سکتا ہے :اب آپ کا ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ یہ تحریر اُن مظلوم لوگوں کے نام ہے جو پانچ دہائیوں سے زیادہ […]
پاکستانی بہاریوں کی اَن کہی، اَن سنی بربادی ؛ ایک نئی ڈیجیٹل تالیف کے بارے میں
فرانز کافکا نے ایک بار ایک روتی ہوئی بچی سے کہا تھا: "تمہاری گڑیا کھوئی نہیں، بس سفر پر گئی ہے۔” کاش ہم بھی یہ کہہ سکتے۔ کاش ہمارے کھوئے ہوئے لوگ محض سفر پر گئے ہوتے۔ مگر جو لوگ 1971 کے بعد بنگلہ دیش کے تنگ و تاریک کیمپوں میں دھکیل دیے گئے، وہ […]
گمشدہ ضمیر کو کون ڈھونڈے گا؟
"مجھے اب کچھ نہیں چاہیے میں تو بس سامنے (قبرستان) جانے کا انتظار کر رہا ہوں۔ ان چھوٹے بچوں کا کچھ ہو جائے، بس۔” جنیوا کیمپ، محمد پور، ڈھاکہ کے ایک متروک پاکستانی بزرگ کیا آپ اس غم سے نڈھال مگر باوقار شخص کے اس جملے کے کرب کا تھوڑا سا بھی اندازہ کر سکتے […]
جہیز کے خلاف جنگ اب بھی جاری ہے
تین دہائیوں سے زائد عرصے سے میں پاکستان میں قانون سازی اور کمیونٹی ایڈووکیسی کے شعبے میں کام کر رہی ہوں۔ حال ہی میں The News میں شائع ہونے والے میرے مضمون “Bill Fails, Voices Rise” پر سوشل میڈیا پر خاصا مثبت ردِعمل سامنے آیا۔ ایک قاری نے تبصرہ کیا کہ “جب تک اسلام کو […]
پی ٹی وی کا ایک ڈرامہ، جہیز، اور میری تین دہائیوں پر محیط جدوجہد
اشفاق احمد کبھی بھی میرے پسندیدہ ادیبوں میں شامل نہیں رہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ ایک مؤثر لکھاری نہیں تھے، بلکہ اس لیے کہ مجھے ہمیشہ سے بابا اسکول آف تھاٹ سے فکری قربت نہیں رہی۔ مزید یہ کہ جب کسی ادیب کے وقت کے حکمرانوں سے خوشامدانہ تعلقات نمایاں ہو جائیں […]
سندھ اسمبلی کی طرف سے بہاریوں کی قربانیوں پر سولہ دسمبر ۲۰۲۵ کو ایک قرارداد: ایک تاریخی اعتراف
قربانیوں کا تسلیم کرنا کسی کے وطن سے محبت یا حب الوطنی کی مقابلہ آرائی نہیں۔ قربانیوں کا اعتراف مغالطہ آرائی بھی نہیں، بلکہ محض ایک تاریخی حقیقت کو تسلیم کرنا ہے: پاکستانی بہاری کمیونٹی، جو سابقہ مشرقی پاکستان میں تھی، انہوں نے اپنے ملک کی محبت میں ناقابلِ بیان قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے […]
اُن 3 لاکھ+ انسانوں کی خاموش چیخ ؛ جنہیں پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں نے بھلا دیا
کرکٹ کا شور ہر طرف تھا۔ پاکستان کی جیت کا جوش، اور حامد میر کا ٹویٹ: “Pakistanis love Bangladesh.” — Hamid Mir ہاں ہم بنگلہ دیش سے نفرت نہیں کرتے۔ ہم اس سرزمین سے دشمنی نہیں رکھتے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ محبت صرف کرکٹ کے میدان نہیں مانگتے-محبت انصاف بھی مانگتی ہے۔ اور جب […]
کتاب کوئی نہیں پڑھتا: قلم، قاری اور کلک کی ڈیجیٹل کہانی
کچھ روز پہلے میں نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ اس بار میں اپنی نئی اردو کتاب "کالم کہانی: ڈھاکہ سے غزہ تک، وطن سے محبت کرنے والوں کی تباہی کا صرف ڈیجیٹل ورژن کروں گی، روایتی ہارڈ کاپی پرنٹ نہیں۔ اور بس پھر کیا تھا. پیغامات، تبصرے اور سوالات کی ایک چھوٹی سی […]
مداری، درباری اور لکھاری — بات کرنی اتنی مشکل کیوں؟
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی بات مشکل ہے، مگر اتنی بھی مشکل؟ غزہ میں آج ایک نسل کشی جاری ہے اور یہ صرف بموں، بارود یا بندوقوں سے نہیں بلکہ معصوم بچوں اور نہتے شہریوں کے خلاف بھوک کو بطور ہتھیار […]