میرے آنسوؤں سے سجا ایک خط

کبھی کبھی کسی انسان کو مارنے کے لیے گولی نہیں چلانی پڑتی۔ صرف ایک فائل کافی ہوتی ہے۔ ایک نوٹ، ایک دستخط، ایک ایگزیکٹو ڈسیشن اور پھر بہت مہذب انداز میں کہا جا سکتا ہے :اب آپ کا ہمارا کوئی تعلق نہیں۔

یہ تحریر اُن مظلوم لوگوں کے نام ہے جو پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے بنگلہ دیش میں رہتے ہوئے، شاید دنیا کی نظروں میں موجود ہیں، مگر ہماری اجتماعی یادداشت میں تقریباً غائب ہو چکے ہیں۔

میرے لوگ، وہ لوگ جن کے بارے میں ہم نے آہستہ آہستہ بات کرنا چھوڑ دی، پھر سوچنا چھوڑ دیا، پھر یاد کرنا بھی۔

آپ بھولے نہیں گئے۔ آپ کو بھلایا گیا ہے۔ اور شاید ان دونوں جملوں کے درمیان ہی میری ساری بے چینی چھپی ہوئی ہے۔

میں امتیاز علی کی فلم ”میں واپس آؤں گا“ میں ارشاد کامل کے گیت ”تیرے پاس میں“ کو دوبارہ سن رہی تھی اور مجھے لگا، جیسے یہ گیت میرے اُن لوگوں سے بات کر رہا ہو جن سے جغرافیہ نے مجھے جدا کر دیا، مگر تاریخ نے نہیں۔

جیسے تو ہے پاس میرے، تیرے پاس میں
جیسے شاموں کے سویرا، تیرے پاس میں

اور پھر وہ مصرع:
جھوٹ ہیں یہ دوریاں، جھوٹ فاصلہ ہے

کتنا عجیب ہے۔ ہم نے فاصلوں کو حقیقت بنا لیا ہے۔ نقشے پر ایک لکیر، سرحد۔ ایک ملک، ایک دوسرا ملک، ایک جنگ، ایک شکست، ایک سیاسی فیصلہ اور پھر انسان اُن سب کے نیچے دب جاتا ہے۔

مگر یاد؟ یاد سرحد نہیں مانتی، یاد پاسپورٹ نہیں مانگتی، یاد کو ویزا نہیں چاہیے۔ یہاں ایک چھوٹی سی ذاتی بات بھی لکھ دوں۔

ہمارے بہار کے امتیاز علی

میری تاریخ پیدائش 17 جون 1968 ہے۔ امتیاز علی 16 جون 1971 کو پیدا ہوئے۔ یعنی اُن کی پیدائش کا سال ہی وہ سال ہے جو میری زندگی، میرے خاندان، میری برادری اور میری تاریخ کے لیے ایک ایسا زخم بن گیا جس سے آج تک پوری طرح خون خشک نہیں ہوا۔

1971،ایک عجیب سا اتفاق ہے کہ ایک طرف میری اپنی زندگی کی تاریخ ہے، اور دوسری طرف وہ سال جس نے میرے لوگوں کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل دیں۔

اور پھر 2025 میں لندن میں، ایک فلم فیسٹیول کے بعد ، میری امتیاز علی سے ایک بہت مختصر سی ملاقات ہوئی۔ اتنی مختصر کہ شاید اسے ملاقات کہنا بھی کچھ زیادہ ہو۔ مگر میں نے ان سے بات کی اور انہوں نے بہت تحمل سے میری بات سنی۔ بہت آہستہ آہستہ، دھیرے دھیرے۔ ایسے جیسے ہر پل کو، ہر ساعت کو اپنے اندر اتار رہے ہوں۔ سر تھوڑا سا جھکا ہوا۔ لہجہ اتنا نرم اور سامنے والے کو اتنا مان دینا۔ سچ مچ کے بڑے لوگ شاید ایسے ہی ہوتے ہیں۔

میرے ساتھ جو لوگ تھے، وہ سخت سراسیمگی میں تھے۔ ابھی پہلگام کا المیہ ہوا تھا۔ میں پاکستانی، وہ ہندوستانی اور مرکزِ سخن امر سنگھ چمکیلا۔ کتنی عجیب سی صورتِ حال تھی۔ مگر اُس مختصر سی ملاقات میں کوئی فاصلہ محسوس نہیں ہوا۔ نہ کوئی سیلیبرٹی والا فاصلہ، نہ جلدی، نہ اپنے ہونے کا کوئی مظاہرہ،
بس ایک عجیب سا انکسار۔

مجھے آج بھی یاد ہے۔ کبھی کبھی زندگی میں کچھ لمحے مدت کے اعتبار سے بہت چھوٹے ہوتے ہیں، مگر یاد میں اپنی جگہ بہت بڑی بنا لیتے ہیں۔ وہ چند منٹ میری زندگی کی اُن چند خوبصورت ترین، بلکہ بے حد قیمتی یادوں میں سے ایک ہیں۔ شاید اس لیے بھی کہ ان میں کوئی بڑا واقعہ نہیں تھا۔ صرف ایک انسان دوسرے انسان کے سامنے تھا۔ ایک نے بات کی۔ دوسرے نے تحمل سے سنا اور آہستہ آہستہ جواب دیا بس۔
لیکن شاید زندگی کی اصل خوبصورتی بھی یہی ہے۔

ہم بڑے واقعات یاد رکھتے ہیں۔ مگر بعض اوقات ہمیں بچا کر رکھنے والی چیزیں ایسے ہی چھوٹے لمحے ہوتے ہیں۔ ایک آواز۔ ایک نرم لہجہ۔ ایک شخص کا آپ کو پورا وقت دینا۔ ایک مختصر سا ایکسچینج۔ جس میں آپ کو یہ احساس ہو کہ آپ کو سنا گیا ہے۔

اور شاید اسی لیے تیرے پاس میں میرے لیے محض ایک فلمی گیت نہیں رہا۔ یہ فاصلے کے خلاف ایک چھوٹی سی بغاوت بن گیا۔ جیسے کاغذ پہ کوئی نظم لکھی ہے۔

سانسوں میں لکھی رہے تیری نظم

کیا ہماری تاریخ بھی ایسی نہیں؟ کسی کاغذ پر لکھی ہوئی نہیں۔ سانسوں میں لکھی ہوئی۔ ہم نے اسے فائلوں میں تلاش کیا۔ سرکاری ریکارڈز میں تلاش کیا۔ کتابوں میں تلاش کیا۔ مگر اصل تاریخ تو اُن لوگوں کے اندر زندہ ہے جو ابھی تک اُس تاریخ کو اپنے جسم میں اٹھائے پھر رہے ہیں۔

وہ عورت جو اب بھی اپنے بچپن کا محلہ یاد کرتی ہے۔ وہ بوڑھا جو اب بھی کسی پاکستانی شہر کا نام سنتے ہی رک جاتا ہے۔ وہ بچہ جس نے پاکستان کو کبھی دیکھا ہی نہیں، مگر اپنے گھر میں پاکستان کا نام اس طرح سنا جیسے کوئی دور کا رشتہ دار ہو جس نے آنے کا وعدہ کیا تھا اور پھر کبھی نہیں آیا۔ اور پھر ایک پوری نسل۔ اور پھر دوسری۔ اور پھر تیسری۔ پانچ دہائیوں سے زیادہ۔

کیا اتنا وقت کسی انسان کو اجنبی بنانے کے لیے کافی ہوتا ہے؟

شاید نہیں۔ مگر ریاستوں کے لیے کافی ہوتا ہے۔ آپ نے غربت دیکھی۔ محرومی دیکھی۔ بھوک دیکھی۔ تنگ جگہوں میں زندگی گزاری۔ آپ نے اپنے بچوں کو محدود امکانات کے ساتھ بڑا کیا۔

مگر مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ غربت سے بھی زیادہ گہری چیز اور بڑا گھاؤ ہے : اپنی عزتِ نفس کا مسلسل زخمی ہونا۔ یہ احساس کہ آپ کسی کے لیے اہم نہیں۔ کہ آپ کی تکلیف کسی بڑے دفتر کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ کہ آپ کا وجود ایک ایڈمنسٹریٹو لینگویج میں صرف ایک انٹری ہے۔ ایک کیس۔ ایک پاپولیشن۔ ایک مسئلہ۔ یا شاید اب مسئلہ بھی نہیں۔ صرف ایک پرانا مسئلہ جسے بند کر دیا گیا ہے۔

ذرا تصور کیجیے۔ ایک بڑا سا دفتر۔ بھاری میز۔ اس پر ایک فائل۔ فائل کھلتی ہے۔ کچھ صفحات پلٹے جاتے ہیں۔ ایک افسر کچھ دیر غور کرتا ہے۔ پھر انگریزی میں لکھتا ہے :۔ آفٹر کیئر فل کو نسیڈریشن۔ اور نیچے : ایگزیکٹو ڈسیشن۔

اور پھر ایک دن آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ فیصلہ ہو چکا ہے۔ آپ کو کسی نے گولی نہیں ماری۔ آپ کے گھر پر کوئی حملہ نہیں ہوا۔ کوئی شور نہیں ہوا۔ بس ایک ایگزیکٹو ڈسیشن نے آپ کے ساتھ ہمارے تعلق کو ختم کر دیا۔ کتنا مہذب طریقہ ہے اجنبی بنانے کا۔ انسانوں کو فائلوں سے کاٹ دینا بہت آسان ہے۔

اور ہم؟ ہم بھی تو اس عمل کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں : بہت عرصہ ہو گیا۔ اب کیا کیا جا سکتا ہے؟ وہ تو بنگلہ دیش میں ہیں۔ وہاں حالات مختلف ہیں۔ یہ ایک ہسٹوریکل ڈسپیوٹ ہے۔ یہ بہت پیچیدہ مسئلہ ہے۔ یہ پولیٹیکل مسئلہ ہے۔ یہ ہمارے اختیار میں نہیں۔

اور پھر زندگی آگے بڑھ جاتی ہے۔ ہم اپنے نئے مسائل میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ نئی نسل آ جاتی ہے۔ نئے نعرے آ جاتے ہیں۔ نئی موومنٹ آ جاتی ہیں۔ اور میرے لوگ؟ وہ وہیں رہ جاتے ہیں۔

کبھی کبھی لوگ مجھے فیس بک پر میسج کرتے ہیں۔ اِن باکس میں لکھتے ہیں : آپ بہت اچھا لکھتی ہیں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہم آپ کی موومنٹ کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ اور میں اندر سے چیخنا چاہتی ہوں : او بھائی! کون سی موومنٹ؟ میرا کوئی دفتر نہیں۔ کوئی انسٹی ٹیوشن نہیں۔ کوئی پروجیکٹ نہیں۔ کوئی فنڈنگ نہیں۔ کوئی آرگنائزیشن نہیں۔ کوئی پولیٹیکل مشینری نہیں۔ نہ میرے پیچھے کوئی بڑا نیٹ ورک ہے۔ نہ کوئی بڑی ری ہیبلیٹیشن اسکیم۔ نہ کوئی باقاعدہ ٹیم۔ اور نہ ہی میں کوئی عورت مارچ ہوں۔

میں بس ایک عورت ہوں۔ پاگل فیمنسٹ۔ اپنی آگ میں جلتی ہوئی۔ اپنی توہین پر بلکتی ہوئی۔ اپنی گلی سڑی لاش خود اپنے کندھے پر رکھے ہوئے۔ المیوں پر اپنے آپ کو رزق کی تاش میں پھیلائے ہوئے۔ اس امید پر کہ شاید مجھے بھی، اور آپ کو بھی، آپ جو وہاں ہیں، ہمارا وطن ایک دن قبول کرے۔ سمیٹ لے۔ اپنے اندر واپس لے لے۔

بس۔ ایک عورت۔ ایک قلم۔ کچھ یادیں ہیں۔ کچھ پرانی تصویریں ہیں۔ کچھ نام ہیں جنہیں میں بھولنا نہیں چاہتی۔ اور ایک دل ہے جو شاید کچھ زیادہ ہی ضدی ہے۔ یہ دل کہتا ہے : نہیں۔ میں انہیں بھولوں گی نہیں۔

اگر میرے پاس انسٹی ٹیوشن نہیں، پروجیکٹ نہیں، فنڈنگ نہیں، پولیٹیکل مشینری نہیں، تو بھی میرے پاس ایک چیز ہے : یاد۔ اور شاید یاد بھی ریزسٹنس کی ایک شکل ہے۔ کمزور شکل۔ بے وسیلہ شکل۔ تنہا شکل۔ مگر پھر بھی ریزسٹنس۔

کیونکہ بھول جانا ہمیشہ بے ضرر عمل نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی بھلا دینا بھی سیاست ہوتی ہے۔ کبھی کبھی خاموشی بھی ایک پولیٹیکل ایکشن ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھی کسی کا نام لیتے رہنا ہی اس کے وجود کے حق میں سب سے چھوٹی مگر سب سے ضدی گواہی ہوتی ہے۔

آپ جو وہاں ہیں۔ آپ کو شاید میری یہ تحریر کبھی نہ ملے۔ شاید آپ اردو پڑھتے ہوں۔ شاید نہ پڑھتے ہوں۔ شاید آپ کو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ پاکستان میں کوئی عورت آج بھی آپ کے بارے میں لکھتی ہے۔ مگر میں پھر بھی یہ خط لکھ رہی ہوں۔ کیونکہ خط ہمیشہ صرف وصول کرنے والے کے لیے نہیں لکھا جاتا۔ کبھی خط لکھنے والا خود کو بھی یاد دلاتا ہے کہ میں نے تمہیں نہیں بھلایا۔

جیسے پانی پاس پیاسے، تیرے پاس میں
جیسے دل کے ہیں دلاسے، تیرے پاس میں

آپ کے پاس شاید پانی کم ہو۔ وسائل کم ہوں۔ مواقع کم ہوں۔ مگر میں چاہتی ہوں کہ کم از کم یہ احساس کم نہ ہو کہ آپ کسی کے پاس اب بھی موجود ہیں۔ کسی کی یاد میں۔ کسی کے لفظوں میں۔ کسی کے دل میں۔

اور تاریخ؟ اسے جتنا چاہیں کم کر لیجیے۔ فٹ نوٹ بنا دیجیے۔ اسے اریلیونٹ کہہ دیجیے۔ نئی نسل کو بتا دیجیے کہ یہ پرانی بات ہے۔ کہ اب حالات بدل گئے ہیں۔ کہ اب ہمیں آگے دیکھنا چاہیے۔ ٹھیک ہے۔ آگے دیکھیے۔ مگر پیچھے دیکھنے کی سزا کسی کو نہ دیجیے۔ کیونکہ کچھ لوگ پیچھے رہ گئے تھے۔ اپنی مرضی سے نہیں۔ تاریخ نے انہیں وہاں چھوڑ دیا تھا۔ اور پھر ہم نے مڑ کر دیکھنا چھوڑ دیا۔ گیت میں ایک اور سطر ہے :

اپنی کہانی اتنی رہے گی
چاہے بڑھا لو، چاہے گھٹا لو

یہی تو مسئلہ ہے۔ آپ کہانی کو بڑھا سکتے ہیں۔ گھٹا سکتے ہیں۔ اسے ایڈٹ کر سکتے ہیں۔ اس کے کچھ کردار نکال سکتے ہیں۔ کچھ نام چھپا سکتے ہیں۔ کچھ ابواب بند کر سکتے ہیں۔ مگر جو ہوا، وہ ہوا۔ اور جن لوگوں نے اسے جیا، وہ بھی ہوئے۔

وہ محض ایک فٹ نوٹ نہیں بن جاتے۔ آپ ہماری تاریخ کا فٹ نوٹ نہیں ہیں۔ آپ کسی فائل کا کلوزڈ کیس نہیں ہیں۔ آپ کوئی اَن کمفرٹیبل پاپولیشن نہیں ہیں۔ آپ کسی ایڈمنسٹریٹو ڈسیشن کا نتیجہ نہیں ہیں۔ آپ انسان ہیں۔ میرے لوگ ہیں۔ اور شاید اسی لیے میں آج بھی آپ سے ایسے بات کرتی ہوں جیسے آپ میرے سامنے بیٹھے ہوں۔

کیونکہ میرے لیے وہ فاصلہ سچ نہیں۔ جھوٹ ہیں یہ دوریاں، جھوٹ فاصلہ ہے۔ آپ بھولے نہیں گئے۔ آپ کو بھلایا گیا ہے۔ اور بھلائے جانے اور مٹ جانے میں فرق ہوتا ہے۔ جب تک کوئی ایک شخص بھی یاد رکھتا ہے آپ مٹے نہیں ہیں۔ اور جب تک میرے اندر یاد باقی ہے۔ آپ میرے پاس ہیں۔

جیسے پیاسے کے پاس پانی
جیسے دل کے پاس دلاسا
جیسے سانسوں میں لکھی ہوئی کوئی نظم

اور شاید

جیسے تو ہے پاس میرے، تیرے پاس میں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے