رحیم اللہ یوسفزئی : صحافیوں کو مشورے دیتے رہتے تھے ۔

اکتوبر 2017 میں قبائلی ضلع باجوڑ سابقہ ایجنسی کے صحافیوں کیلئے رائٹ ٹو انفارمیشن نامی قانون سے آگاہی کے بارے میں باجوڑ میں 2 روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ جس کے روح رواں رحیم اللہ یوسفزئی صاحب تھے ۔ خوش قسمتی سے میں بھی اس ورکشاپ کا حصہ تھا۔ اس دن مجھے اس شخصیت سے ملنے کا اولین موقع میسر آیا ، جسے بچپن سے پڑھتے اور سنتے آرہے تھے ، اس موقع پر بندہ ناچیز نے ادب و صحافت کے کہکشاں ستارے رحیم اللہ یوسفزئی صاحب کو اپنی اولین تصنیف کردہ کتاب تحفے میں پیش کی۔ انہوں نے اپنے پیشانی پر مسکراہٹ ظاہر کرتے ہوئے قبول کی۔ میری کم عمری اور علم و ادب کے لیے تھوڑی بہت خدمات کو اپنی دل آویز مسکراہٹ کے ساتھ سراہا۔

اس کے بعد رحیم اللہ یوسفزئی صاحب کے ساتھ ایک استاد شاگرد کا ایک رشتہ بن گیا۔ اور یہ سلسلہ ان کے حیات میں ان کے بیٹے ارشد یوسفزئی کے ساتھ تعلق بن جانے کے بعد مزید طویل ہوگیا۔

رحیم اللہ یوسفزئی صاحب طویل عرصے سے کینسر جیسی موذی مرض کے خلاف جنگ لڑتے رہے ان کی رحلت نے صحافت کے شعبے میں بہت بڑا خلا پیدا کیا۔ رحیم اللہ یوسفزئی کو افغان امور کے ماہر کے طور پر جانا جاتا تھا۔ رحیم اللہ صاحب وہ واحد صحافی تھے جنہوں نے اسامہ بن لادن اور ملا عمر کا انٹرویو کیا تھا۔ صحافتی خوبیوں کے ساتھ ساتھ میں ان میں قوم علاقے اور غریبوں کیلئے بے پناہ خدمات انجام دینے کے حوالے سے شاندار صفات بھی موجود تھیں۔

رواں سال کے شروع سی ای جے کراچی کے زیر اہتمام زوم پر آن لائن منعقدہ راضیہ بھٹی میموریل لیکچر میں ہم نے شرکت کی جس میں رحیم اللہ مہمان خصوصی مدعو تھے۔ اس دوران ان کی صحت نہایت کمزور تھی انہیں بولنے میں مشکلات کا بھی سامنا کیا مگر ایک دن اسامہ بن لادن کے ساتھ ، کے عنوان سے منعقدہ اس تقریب میں ان کی گفتگو اور لیکچر لاجواب تھا۔

رحیم اللہ صاحب نہایت نرم رویے اور نرم لہجے کے حامل اور سامعین کو متاثر کرنے والے تھے ، انہوں نے اس لیکچر میں اپنی کچھ یادگار کہانیوں کو کھل کر شرکاء کے ساتھ شیئر کیا ، لیکن اس لیکچر میں شریک صحافیوں اور صحافت کے طلباء کو بھی کچھ ایماندارانہ مشورے دیئے جو بڑی تعداد میں موجود تھے ۔ دوران لیکچر تمام سامعین نہایت اہتمام کے ساتھ ان کی گفتگو سنتے رہے۔

انہوں نے دوران لیکچر موجودہ صحافت میں فالو اپ کی عدم موجودگی پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب کوئی صحافی انٹرویو کے لیے جاتا ہے تو پہلے اس موضوع اور موضوع کے پس منظر کی تحقیق کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے شرکاء کو وہ تمام ضروری مشورے دیئے جنہیں عام طور پر نوجوان اور سنیئر صحافی یکساں طور پر نظرانداز کرتے ہیں۔ صحافیوں کی جانب سے غیر جانبدار رہنے کی ضرورت پر اظہار خیال کرتے ہوئے رحیم اللہ صاحب نے کہا کہ صحافی کی حفاظت تبھی یقینی ہوسکتی ہے جب وہ غیر جانبدار رہے۔

رحیم اللہ صاحب کریڈٹ لینے دینے ، شہرت ، نمود ونمائش سے کوسوں دور اپنی عادات و روایات کے مطابق زندگی بسر کرتے تھے ، اور ان کی غیر جانبداری کی وجہ سے دنیا بھر میں ان کا نام قابل احترام تھا۔ وہ ممکنہ طور پر پاکستان کے واحد صحافی تھے جنہوں نے افغان تنازعے کے ہر فریق سے بات کی اور ان کا احترام کیا۔ غیر جانبداری ان کی سب سے بڑی طاقت تھی۔

کم از کم میرےنزدیک پشتون معاشرے نے اب تک اس پائے کا صحافی نہیں پیدا کیا۔ ان کے تحریریں جاندار شاندار اور صداقت پر مبنی ہوتی تھی۔ ان کی رحلت سے ہمارے دلوں میں خلا پیدا ہوگیا وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے ۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائیں ۔
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے