انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا:ایک تجزیہ

اللہ تعالیٰ نے انسان کی نفسیات کو اس طرح بنایا
اور ڈیزائن کیا ہے کہ وہ کسی حال میں مستقل خوش نہیں رہتا۔ خود ہمارا تجربہ بھی یہی ہے کہ جب ہم کسی چیز کی تلاش میں ہوں اور وہ ہمیں حاصل ہو جائے تو ابتدا میں تو ہمیں خوشی محسوس ہوتی ہے، مگر کچھ عرصے بعد وہی مقام ہمیں کم محسوس ہونے لگتا ہے۔ پھر ہمارے اندر ایک نئی منزل کی تلاش، بے چینی، بے قراری اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔

انسان کی ان نفسیاتی کیفیات پر اگر غور کیا جائے تو یہی احساسات بالآخر اسے قناعت کی طرف ابھارتے ہیں۔ وہ جب دیکھتا ہے کہ میں جس چیز کی تمنا کرتا ہوں، اگر وہ حاصل بھی ہو جائے تو بھی میں مستقل خوش نہیں رہتا، بلکہ اس کے بعد بھی کوئی نہ کوئی ایسی وجہ باقی رہتی ہے جو مجھے پھر سے بے چین اور بے قرار کر دیتی ہے۔

اور یہی قناعت انسان کے دل و دماغ پر اس بے چینی کو غالب نہیں آنے دیتی کہ وہ اس کے زیرِ اثر احساسِ کمتری، احساسِ محرومی یا نفسیاتی امراض کا شکار ہو جائے۔ دراصل یہی قناعت اسے اطمینان بھی عطا کرتی ہے، کیونکہ وہ جس حال میں بھی ہوتا ہے، شکر گزار اور راضی رہتا ہے۔

دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو انسان کے کسی حال میں خوش نہ رہنے کی فطرت ہی اسے ہمیشہ بہتر سے بہتر اور اچھے سے اچھے کی تلاش میں بے چین و بے قرار رکھتی ہے۔ یہی بے چینی اور بے قراری اسے ترقی کی راہیں تلاش کرنے پر آمادہ کرتی ہے، اور اسی کے نتیجے میں وہ عملِ زندگی میں ترقی کے سفر کو مسلسل جاری رکھتا ہے۔

اگر اس منطق پر غور کیا جائے کہ انسان کسی حال میں مکمل طور پر خوش نہیں رہتا، تو یہ کیفیت انسان کے اندر ایک طرف اطمینان پیدا کرتی ہے اور دوسری طرف بے چینی اور بے قراری بھی۔ تاہم یہ اطمینان ایسا نہیں ہوتا کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر مطمئن ہو جائے اور ترقی یا جدوجہد کے بارے میں کوئی منصوبہ بندی نہ کرے، بلکہ یہ اطمینان اسے اس بے چینی اور بے قراری کے اُن منفی اثرات سے محفوظ رکھتا ہے جو کسی چیز کے حصول کی تگ و دو میں انسان کے دل و دماغ اور نفسیات پر پڑ سکتے ہیں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا کسی حال میں خوش نہ رہنا دراصل اس کی نفسیات کا وہ پہلو ہے جو اس کے اندر بے چینی، بے قراری اور اطمینان کے درمیان ایک ایسا توازن پیدا کرتا ہے جس کی وجہ سے انسان نہ تو احساسِ کمتری، احساسِ محرومی یا نفسیاتی امراض کا شکار ہوتا ہے، اور نہ ہی بے کار بیٹھ جاتا ہے۔ یہی توازن ایک طرف اسے ترقی کی سیڑھیاں چڑھنے پر آمادہ کرتا ہے اور دوسری طرف اسے اُن منفی اثرات سے محفوظ رکھتا ہے جو کسی چیز کے حصول کی جدوجہد میں اس کی نفسیات پر پڑ سکتے ہیں۔

غور کیا جائے تو انسان کی یہی کیفیت کہ وہ کسی حال میں مکمل خوش نہیں رہ سکتا، دراصل ترقی کا ایک بڑا سبب ہے۔ البتہ اگر یہی بے چینی انسان کو احساسِ کمتری، احساسِ محرومی یا نفسیاتی امراض میں مبتلا کر دے تو وہ اپنی صلاحیتوں کو درست طور پر بروئے کار نہیں لا سکتا۔

اس کے برعکس جو شخص قناعت اور اطمینان کے ساتھ اپنی بے چینی کو متوازن رکھتا ہے، اس کا کیا ہوا کام زیادہ بہتر، بامقصد اور نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے