چین میں روبوٹکس کی دنیا ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں محض مشینیں بنانے کے بجائے انہیں "سمجھنے ” اور خود فیصلہ کرنے کے قابل بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اس میدان کو مادی ذہانت (Embodied Intelligence) کہا جاتا ہے، یعنی ایسی مصنوعی ذہانت جو صرف اسکرین یا سافٹ ویئر تک محدود نہ ہو بلکہ ایک جسم رکھتی ہو، ماحول کو محسوس کر سکے اور اس کے مطابق خود عمل کرے۔
ہیومنائیڈ روبوٹس، روبوٹک ڈاگ اور انٹیلیجنٹ روبوٹک بازو ،یہ سب اسی تصور کے عملی مظاہر ہیں۔ عوامی سطح پر توقعات بہت بلند ہیں۔ لوگ ایسی مشینیں دیکھنا چاہتے ہیں جو انسانوں کی طرح چل سکیں، چیزیں اٹھا سکیں، فیصلے کر سکیں اور بغیر انسانی مداخلت کے کام انجام دے سکیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ آج کے بیشتر روبوٹس اب بھی مکمل خودمختار نہیں۔ وہ یا تو پہلے سے پروگرام شدہ ہدایات پر انحصار کرتے ہیں یا پھر انہیں انسانی آپریٹر کی نگرانی درکار ہوتی ہے۔
اسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش چین میں تیزی سے جاری ہے۔ بیجنگ اور شینژن جیسے ٹیکنالوجی مراکز میں ایسی کمپنیاں ابھر رہی ہیں جو روبوٹس کے جسم سے زیادہ ان کے “دماغ” پر کام کر رہی ہیں۔ اے سی ای روبوٹکس کے چیئرمین ڈاکٹر وانگ زیاؤگانگ اس رجحان کی نمایاں مثال ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف روبوٹ کو مستحکم بنانے یا چلانے کا نہیں، بلکہ اسے ایسے فیصلے کرنے کے قابل بنانا ہے جو حقیقی دنیا میں بدلتے حالات کے مطابق ہوں۔ڈاکٹر وانگ کے مطابق، روبوٹکس کی اصل کمزوری یہی رہی ہے کہ مشینیں غیر متوقع حالات میں خود مسئلہ حل نہیں کر پاتیں۔
ہارڈویئر اور کنٹرول اہم ہیں، لیکن اصل ضرورت خاص ذہانت کی ہے۔ ڈاکٹر وانگ کی کمپنی ایسے سافٹ ویئر سسٹمز تیار کر رہی ہے جو روبوٹس کو اپنے اردگرد کے ماحول کو سمجھنے، رکاوٹوں کا اندازہ لگانے اور آزادانہ طور پر کام انجام دینے کے قابل بناتے ہیں۔
چین میں مادی ذہانت کی ترقی محض تحقیقی لیبارٹریز تک محدود نہیں۔ اس کے پیچھے ایک مضبوط صنعتی بنیاد موجود ہے۔ چین کی مکمل اور تیز رفتار سپلائی چین، سینسرز، موٹرز اور چپس تک آسان رسائی، اور تربیت یافتہ انجینئرز کی بڑی تعداد اس میدان میں ایک قدرتی برتری فراہم کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین میں اب مصنوعی ذہانت کے ماہرین کی کمی نہیں ، جو اس شعبے کے لیے ایک اہم اثاثہ ہے۔
سرمایہ کاری کے اعداد و شمار اس رجحان کی تصدیق کرتے ہیں۔ صرف 2025 کے پہلے پانچ مہینوں میں، مادی ذہانت پر کام کرنے والے نئے اسٹارٹ اپس نے 23 ارب یوآن سے زیادہ فنڈز اکٹھے کیے، جو پورے 2024 کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ یہ رقم تقریباً 3.2 ارب امریکی ڈالر کے برابر ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کار اس شعبے کو مستقبل کی کلیدی ٹیکنالوجی سمجھ رہے ہیں۔
چینی مالیاتی ادارے بھی اس پیش رفت کو بڑے کینوس میں دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق 2025 کے آغاز میں ڈیپ سیک جیسے اے آئی پلیٹ فارمز کے سامنے آنے سے مارکیٹ کا اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے۔ ٹیکنالوجی سے متعلق اسٹاکس میں واضح بحالی دیکھی گئی ہے، اور سرمایہ کار مستقبل کی نمو کو مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔
ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو اے آئی اور روبوٹکس پر مبنی ٹیکنالوجیکل انقلاب چین کی مجموعی پیداوار کے عمل کو بہتر بنائے گا اور طویل المدتی اقتصادی نمو میں اضافہ کرے گا۔ یہ وہی وژن ہے جسے چینی حکومت بھی اپنی پالیسیوں میں شامل کر رہی ہے، جہاں جدید مینوفیکچرنگ، ذہین مشینری اور ڈیجیٹل معیشت کو ترقی کے نئے انجن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یقیناً، مکمل طور پر خودمختار روبوٹس کا خواب ابھی حقیقت نہیں بنا۔ تکنیکی رکاوٹیں، سیکیورٹی خدشات اور اخلاقی سوالات اب بھی موجود ہیں۔ لیکن چین میں جس رفتار سے ہارڈویئر، مصنوعی ذہانت اور سرمایہ ایک ہی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، اس سے یہ واضح ہے کہ مادی ذہانت محض ایک تجرباتی تصور نہیں رہی۔
تحقیقی لیبارٹریز سے لے کر وینچر کیپیٹل کے دفاتر تک، اس دوڑ میں تیزی آ چکی ہے۔ اگر یہ رفتار برقرار رہی تو وہ دن زیادہ دور نہیں جب روبوٹس صرف انسانوں کے احکامات پر عمل کرنے والی مشینیں نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں خودمختار ساتھی بن جائیں گے، اور چین اس تبدیلی کے مرکز میں کھڑا ہو گا۔