سیاسی محاذ آرائی نہیں، مکالمہ ہی پاکستان کو بچا سکتا ہے

جب ریاست اندرونی کشمکش میں الجھ جائے تو سرحدوں پر کھڑے محافظ بھی تنہا ہو جاتے ہیں.

پاکستان آج ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں سیاسی عدم استحکام محض حکومت یا اپوزیشن کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ قومی سلامتی، معاشی بقا اور ریاستی وقار سے جڑ چکا ہے۔ تحریکِ انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جاری کشیدگی نے ملک کو ایک ایسے دائرے میں دھکیل دیا ہے جہاں ہر دن غیر یقینی، ہر فیصلہ متنازع اور ہر سمت دھند میں لپٹی دکھائی دیتی ہے۔ ایسے میں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ کون جیتے گا، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان کب سنبھلے گا؟

ملک کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سیاست اور ادارے آمنے سامنے آئے، ریاست کمزور ہوئی۔ نوّے کی دہائی میں بار بار حکومتوں کی برطرفی، سیاسی انجینئرنگ اور محاذ آرائی نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا۔ بعد ازاں بھی طاقت کے مراکز میں عدم اعتماد نے سیاسی نظام کو مستحکم نہ ہونے دیا۔ اس کے برعکس جن ادوار میں سیاسی قیادت اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی رہی، ملک نے نسبتی استحکام دیکھا۔

چارٹر آف ڈیموکریسی اس کی واضح مثال ہے جس نے ایک طویل آمریت کے بعد جمہوری سفر کو ممکن بنایا۔ اسی طرح دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاقِ رائے نے ریاست کو دوبارہ سانس لینے کا موقع دیا۔ یہ تمام تجربات ایک ہی سبق دیتے ہیں کہ قومی مسائل طاقت سے نہیں، مکالمے سے حل ہوتے ہیں۔

تحریکِ انصاف آج بھی عوام کے ایک بڑے طبقے کی نمائندہ جماعت ہے۔ کسی سیاسی قوت کو مستقل طور پر دیوار سے لگانا نہ جمہوری ہے اور نہ ہی ریاستی مفاد میں۔ سیاسی استحکام اسی وقت ممکن ہے جب تمام فریق ایک دوسرے کو تسلیم کریں۔ اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان مکالمہ کسی رعایت یا کمزوری کی علامت نہیں بلکہ سیاسی بلوغت کا اظہار ہے۔

یہ ضرورت اس وقت مزید نمایاں ہو جاتی ہے جب ہم خیبر پختونخوا کی صورتحال پر نظر ڈالتے ہیں۔ وادیٔ تیراہ میں جاری سیکیورٹی آپریشن انتہائی سخت موسم اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں کیا جا رہا ہے۔ شدید سردی، برفباری اور محدود سہولیات کے باوجود سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف صفِ اول میں کھڑی ہیں۔

ان حالات میں مقامی آبادی کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ نقل مکانی، روزمرہ ضروریات کی کمی اور موسم کی شدت نے عام شہریوں کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ ایسے وقت میں قومی قیادت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دے، نہ کہ سیاسی انتشار کو مزید بڑھائے۔

جب دارالحکومت میں سیاسی جنگ جاری ہو اور سرحدی و قبائلی علاقوں میں جوان اپنی جانیں قربان کر رہے ہوں تو یہ منظر کسی مضبوط ریاست کے شایانِ شان نہیں۔ سیاسی عدم استحکام نہ صرف سیکیورٹی اداروں کی توجہ متاثر کرتا ہے بلکہ دشمن عناصر کو یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ ریاست اندر سے تقسیم ہے۔

پاکستان کو آج نعروں، الزامات اور ضد کی نہیں بلکہ سنجیدہ مکالمے، تحمل اور قومی سوچ کی ضرورت ہے۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ضرور ہے، مگر مستقل محاذ آرائی ریاست کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ قومیں اختلاف سے نہیں ٹوٹتیں، ہٹ دھرمی سے ٹوٹتی ہیں۔

اگر آج مکالمے کا دروازہ کھولا گیا تو کل استحکام ممکن ہے۔ بصورتِ دیگر تاریخ یہی لکھے گی کہ ہم نے انا کو ریاست پر ترجیح دی ، اور یہی سب سے بڑا قومی نقصان ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے