سانحہ گل پلازہ ایک بار پھر ہمیں یہ یاد دلانے کے لیے کافی ہے کہ اس ملک میں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں رہی۔ آتشزدگی کا یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ برسوں کی غفلت، بدانتظامی، کرپشن اور مجرمانہ لاپرواہی کا منطقی نتیجہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آگ کیسے لگی، اصل سوال یہ ہے کہ ایسے درجنوں سانحات کے بعد بھی ہم نے کچھ سیکھا کیوں نہیں؟ ہر بار لاشیں اٹھتی ہیں، چند دن شور مچتا ہے، پھر سب کچھ ویسا ہی چلنے لگتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
گل پلازہ جیسے کمرشل پلازے کسی ایک شخص کی غلطی سے نہیں بنتے، یہ پورا ایک نظام ہے جس میں بلڈرز، بلدیاتی ادارے، فائر ڈیپارٹمنٹ، اور ضلعی انتظامیہ سب شریک ہوتے ہیں۔ نقشے کی منظوری سے لے کر تکمیل تک ہر مرحلے پر رشوت، جعلی سرٹیفکیٹس اور آنکھیں بند کرنے کا کھیل جاری رہتا ہے۔ نہ فائر ایگزٹ ہوتی ہے، نہ ایمرجنسی سیڑھیاں، نہ اسپرنکلر سسٹم، نہ الارم، اور نہ ہی فائر فائٹنگ کا کوئی مناسب انتظام، مگر کاغذوں میں سب کچھ ”مکمل“ اور ”محفوظ“ ہوتا ہے۔
حکومت اور انتظامیہ کا روایتی ردعمل بھی حسبِ توقع رہا، وزراء کے بیانات، نوٹس، انکوائری کمیٹیاں، اور چند معطلیاں۔ ماضی گواہ ہے کہ ایسی انکوائریاں زیادہ تر فائلوں میں دفن ہو جاتی ہیں اور اصل مجرم بچ نکلتے ہیں۔ کوئی بڑا بلڈر، کوئی اعلیٰ افسر، اور کوئی سیاسی سرپرست کبھی سزا پاتا نظر نہیں آتا۔ نتیجہ یہ کہ اگلا گل پلازہ، اگلا بلدیہ فیکٹری، اور اگلا کوئی اور المیہ ہمارا مقدر بن جاتا ہے۔
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے انسانی جان کو صرف ایک عدد بنا دیا ہے۔ میڈیا چند دن چیختا ہے، سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ چلتے ہیں، پھر نیا اسکینڈل آ جاتا ہے اور پرانا سانحہ فراموش کر دیا جاتا ہے۔ مرنے والوں کے لواحقین نہ صرف اپنے پیاروں سے محروم ہوتے ہیں بلکہ انہیں انصاف کے لیے دربدر کی ٹھوکریں بھی کھانی پڑتی ہیں۔ حکومت، جو شہریوں کی جان و مال کی محافظ ہونی چاہیے، خود المناک غفلت کی مجرم بن چکی ہے۔
یہ سانحہ دراصل ہمارے پورے گورننس سسٹم پر فردِ جرم ہے۔ جب تک بلڈنگ کوڈز پر سختی سے عمل درآمد نہیں ہوگا، جب تک ہر کمرشل عمارت کا سالانہ سیفٹی آڈٹ نہیں ہوگا، اور جب تک فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ میرٹ پر جاری نہیں ہوں گے، ایسے حادثات ہوتے رہیں گے۔ ہمیں وقتی ہمدردی کے بجائے مستقل اصلاحات کی ضرورت ہے ورنہ ہر چند ماہ بعد ایک نیا گل پلازہ ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑتا رہے گا۔
آخر میں سوال یہ ہے کہ کیا اس بار بھی ہم سب خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟ کیا اس بار بھی چند دن کے بعد سب کچھ بھلا دیا جائے گا؟ کیا واقعی ذمہ داروں کو بے نقاب کر کے مثال عبرت بنایا جائے؟ سانحہ گل پلازہ محض ایک حادثہ نہیں، یہ ہمارے اجتماعی ضمیر کا امتحان ہے۔ اگر ہم اب بھی نہ جاگے تو اگلی آگ شاید ہمارے ہی گھر کی دہلیز پر لگی ہو۔