پاکستان اس وقت کسی ایک سیاسی بحران کا نہیں بلکہ مسلسل ٹکراؤ کی سیاست کا شکار ہے۔ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جاری کشمکش محض شخصی یا جماعتی اختلاف نہیں رہی، بلکہ یہ تصادم اب براہِ راست ریاستی استحکام، معیشت، داخلی سلامتی اور عالمی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان میں سیاست اور طاقت کے مراکز آمنے سامنے آئے، نقصان ہمیشہ ملک کو ہوا ، نہ کوئی سیاستدان مکمل جیت سکا، نہ کوئی ادارہ مستقل فتح حاصل کر پایا۔
آج سوال یہ نہیں کہ کون درست ہے اور کون غلط، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان مزید محاذ آرائی برداشت کر سکتا ہے؟
گزشتہ چند برسوں میں سیاست سڑکوں، جیلوں اور بیانیوں کی جنگ میں بدل چکی ہے۔ عمران خان ایک بڑی عوامی حقیقت ہیں جن کے کروڑوں ووٹر موجود ہیں، جبکہ اسٹیبلشمنٹ ایک ریاستی ادارہ ہے جس کی طاقت اور کردار سے انکار ممکن نہیں۔ ان دونوں کے درمیان تصادم دراصل ریاست کے دو ستونوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کرتا ہے، اور یہی وہ صورتحال ہے جس سے ہر سنجیدہ ریاست بچنے کی کوشش کرتی ہے۔
مفاہمت کا راستہ نہ کسی خفیہ ڈیل سے نکل سکتا ہے اور نہ کسی ایک فریق کی مکمل پسپائی سے۔ اصل ضرورت قابلِ عمل، آئینی اور باعزت مفاہمتی فریم ورک کی ہے جس میں نہ فتح کا جشن ہو اور نہ شکست کا اعلان۔
عمران خان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اداروں کے خلاف براہِ راست محاذ آرائی کے بیانیے سے فاصلہ اختیار کریں۔ ریاستی اداروں پر تنقید اور اداروں کو کمزور کرنے میں واضح فرق ہوتا ہے۔ 9 مئی جیسے واقعات نے ان کی سیاسی جدوجہد کو نقصان پہنچایا، اس لیے تشدد اور غیر آئینی احتجاج سے مکمل لاتعلقی ہی وہ دروازہ ہے جس سے سیاسی بحالی ممکن ہو سکتی ہے۔ طاقت کے بجائے قانون، اور سڑک کے بجائے عدالت کو ترجیح دینا عمران خان کو کمزور نہیں بلکہ ایک بالغ سیاستدان ثابت کرے گا۔
دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ناگزیر ہے کہ کسی مقبول سیاسی قوت کو مستقل دیوار سے لگانا نہ ممکن ہے اور نہ دانشمندانہ۔ سیاسی انجینئرنگ، انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے اور سیاسی صف بندیوں کے تجربات ماضی میں بھی ناکام ہوئے اور مستقبل میں بھی استحکام نہیں لا سکتے۔ اگر ریاست واقعی سیاسی نارملائزیشن چاہتی ہے تو اسے عملی طور پر سیاست سے فاصلہ اور آئینی حدود میں واپسی کا واضح پیغام دینا ہوگا۔
مفاہمت کی بنیاد اس اصول پر ہونی چاہیے کہ نہ انتقام ہوگا، نہ سیاسی صفایا۔ سیاسی کارکنوں کے خلاف ایسے مقدمات جن میں سنگین جرائم ثابت نہ ہوں، ان پر مرحلہ وار نرمی اعتماد سازی کے لیے ناگزیر ہے۔ ریاست کی طاقت گرفت میں نہیں بلکہ توازن میں ہوتی ہے۔
اس پورے عمل میں غیر جانبدار ثالثی کا کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔سینئر سیاستدان ، سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججز، معتبر قومی شخصیات اور غیر متنازع صحافیوں پر مشتمل ایک محدود مگر بااختیار کمیٹی وہ پل بن سکتی ہے جو دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد بحال کرے۔ یہ عمل خفیہ نہیں بلکہ آئینی دائرے میں ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں کوئی فریق اسے سازش یا ڈیل قرار نہ دے۔
اصل ہدف کسی فرد کی انا نہیں اقتدار نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی ماحول ہے جہاں شفاف انتخابات ممکن ہوں، عوام کو فیصلہ کرنے کا حق ملے اور ریاست مسلسل بحران سے نکل سکے۔ دنیا کی کوئی بھی ریاست سیاسی اختلاف کو طاقت کے ذریعے ہمیشہ کے لیے دفن نہیں کر سکی۔ بالآخر بات چیت ہی وہ راستہ بنتی ہے جس سے قومیں آگے بڑھتی ہیں۔
آج پاکستان کو فتح یا شکست نہیں بلکہ سیاسی ٹھنڈک درکار ہے۔ اگر یہ تصادم جاری رہا تو نہ عمران خان جیتیں گے، نہ اسٹیبلشمنٹ، اور نہ ہی ریاست۔ لیکن اگر فریقین ایک قدم پیچھے ہٹ کر پاکستان کو آگے رکھنے پر متفق ہو جائیں تو یہی مفاہمت ملک کو اندھی سرنگ سے نکال سکتی ہے۔
یہ وقت ضد کا نہیں،
یہ وقت سمجھوتے کا نہیں بلکہ سمجھ داری کا ہے۔
اور تاریخ ہمیشہ انہیں کو یاد رکھتی ہے جو طاقت نہیں،
دانش سے فیصلے کرتے ہیں.