ڈاکٹر حسن منظر کے بنگلے پر ادبی نشستیں

ڈاکٹر حسن منظر دنیائے اردو ادب کا نہایت معتبر نام ہیں۔ اُنہیں ستارۂ امتیاز سمیت ادب کے کئی بڑے ایوارڈز مل چکے ہیں۔ اس وقت حسن منظر چوٹی کے افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ میری خوش قسمتی ہے کہ میں نے ڈاکٹر حسن منظر صاحب کو قریب سے دیکھا ہے۔

آج سے تقریباً پندرہ برس پہلے کی بات ہے۔ ڈاکٹر الیاس عشقی صاحب کے گھر ایک ادبی نشست منعقد ہوئی تھی۔ معروف افسانہ نگار و شاعر، والدِ محترم آفاق اللہ خان مجھے اس نشست میں لے گئے۔ یہ پہلا اتفاق تھا کہ مجھے کسی ادبی نشست میں جانے کا موقع ملا۔ وہاں ڈاکٹر حسن منظر صاحب کو دیکھا۔

بعد ازاں یہ نشستیں ڈاکٹر حسن منظر صاحب کے بنگلے پر ہونے لگیں، جو لطیف آباد نمبر ۸، حیدرآباد میں واقع تھا۔ ادبی تنظیم ادراک کی نشستوں میں مجھے وہاں جانے کا موقع ملا، اور پھر دھیرے دھیرے میری ان نشستوں میں مستقل شمولیت ہو گئی۔ میں ادراک کی محفل میں آنے والے ادبی لوگوں کے نام ادراک کے رجسٹر میں درج کرتا اور ان ادبی شخصیات سے دستخط کرواتا تھا۔

ڈاکٹر حسن منظر شائستہ مزاج کے نہایت نفیس انسان ہیں۔ بہت کم بولتے ہیں، اور کبھی کبھار تو کسی افسانے پر اُن سے زبردستی رائے لینی پڑتی تھی۔ جب میں پابندی سے والدِ محترم کے ساتھ ادراک کی نشستوں میں جانے لگا تو ڈاکٹر صاحب سرگوشی میں اپنے پاس بیٹھے ہوئے شخص سے میرے بارے میں پوچھتے:

“یہ کون صاحب ہیں؟”

رفتہ رفتہ وہ مجھے جاننے لگے اور ہماری بات چیت شروع ہو گئی۔ جب میں نے ادراک کی نشست میں پہلی مرتبہ اپنی غزل تنقید کے لیے پیش کی تو میری غزل کو پسند کیا گیا۔ غزل کا مطلع تھا:

حقیقت تو نے پہچانی نہیں ہے
مرے آنسو ہیں، یہ پانی نہیں ہے

غزل کے ایک شعر پر ڈاکٹر حسن منظر صاحب نے تبصرہ کیا، جو مجھے بہت اچھا لگا۔ اس لیے بھی کہ ڈاکٹر صاحب کم ہی تبصرہ کیا کرتے تھے، اور انہوں نے میرے ایک شعر پر اپنی رائے پیش کی۔ پہلے وہ شعر ملاحظہ کیجیے:

سمندر سو رہا ہے آج شاید
کہ لہروں میں بھی طغیانی نہیں ہے

اس شعر پر ڈاکٹر صاحب نے کہا:

“میں نے کئی ملکوں کا دورہ کیا ہے اور پانی کے جہاز میں بھی سفر کیا ہے۔ میں نے سمندر کو سوتے ہوئے اور خاموش ہوتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ مجھے یہ شعر اچھا لگا۔”

ڈاکٹر صاحب کی یہ رائے مجھے آج تک یاد ہے اور بے حد عزیز ہے۔ کبھی کبھی آپ شعر تو کہہ دیتے ہیں مگر اُس کا مشاہدہ نہیں کیا ہوتا، مگر ایسا بھی ہوتا ہے کہ شعر آپ نے لکھا ہوتا ہے اور مشاہدہ کسی اور نے پہلے ہی کر رکھا ہوتا ہے۔

وقت گزرتا گیا اور میں ڈاکٹر صاحب سے فرینک ہوتا گیا۔ اب نشستوں میں خوب باتیں ہوتیں۔ معتمد کی حیثیت سے نشست کے انعقاد کے حوالے سے پہلے میں ڈاکٹر صاحب سے فون پر بات کرتا، پھر دوسرے لوگوں کو اطلاع دی جاتی۔

ڈاکٹر صاحب کا شاندار بنگلہ ایک ہزار گز پر محیط تھا۔ گرمیوں میں نشست لان میں ہوتی اور سردیوں میں اُن کی بیٹھک میں، جہاں ایک بڑی سی تصویر لگی ہوتی تھی جس میں ایک خوبصورت عورت اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہوتی تھی۔ اکثر شرکاء اس تصویر کو دیکھ کر مسکرا دیتے، مگر کسی میں یہ ہمت نہیں ہوتی تھی کہ ڈاکٹر صاحب سے اس تصویر کے بارے میں کچھ پوچھ سکے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ڈاکٹر صاحب کا رعب بھی تھا۔ وہ کم بولتے تھے، مگر یہی ان کی طاقت بھی تھی۔

وہ شہر کے معزز لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔ ادب میں اُن کا بڑا مقام تھا اور پیشے کے اعتبار سے وہ معروف سائیکاٹرسٹ تھے۔ ڈاکٹر صاحب کا لباس سادہ اور باوقار ہوتا۔ کلینک اور ادبی تقاریب میں پینٹ شرٹ پہنتے، جبکہ گھر میں ہمیشہ کرتا پاجامہ پہنے دیکھا۔

ہمارے ایک بزرگ شاعر اور براڈ کاسٹر، جناب محمود صدیقی مرحوم،جو ہمارے دل کے بہت قریب تھے،نے ایک محفل میں کہا کہ ڈاکٹر صاحب نے زندگی میں کبھی شلوار نہیں پہنی۔ اس بات پر سب بے ساختہ ہنس پڑے اور ڈاکٹر صاحب بھی مسکرا دیے۔ ایسی باتیں صرف محمود صدیقی ہی کر سکتے تھے، اور ڈاکٹر صاحب ان کی بات کا برا بھی نہیں مانتے تھے۔

ایک مرتبہ ایک سینئر شاعر، جو سگریٹ بہت شوق سے پیتے تھے، ڈاکٹر صاحب کے بنگلے پر نشست میں شریک ہوئے اور مسلسل سگریٹ پینے لگے۔ ڈاکٹر صاحب اس حرکت سے خوش نہیں تھے۔ جب اُن شاعر صاحب نے نشست کے دوران سگریٹ پینی بند نہ کی تو ڈاکٹر صاحب غصے میں آ گئے اور ایک ایش ٹرے لا کر اُن کے سامنے رکھ دی۔ شاعر صاحب شرمندہ ہو گئے۔

ایک مرتبہ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اگر پریم چند پر کوئی فلم بنے تو وہ اس کا اسکرین پلے لکھیں گے۔ میں نے دل میں سوچا کہ اگر ڈاکٹر صاحب جتنا پیسہ میرے پاس ہوتا تو میں خود فلم بنا لیتا۔

ڈاکٹر صاحب آزاد نظمیں بھی لکھتے ہیں۔ جب میں نے بھی کچھ آزاد نظمیں لکھیں تو انہیں دکھائیں۔ وہ بہت خوش ہوئے۔

پھر یہ خبر ملی کہ ڈاکٹر صاحب کراچی منتقل ہو رہے ہیں۔ ایک دن مجھ سے کہنے لگے:

“مجھے یہ گھر اور حیدرآباد شہر بہت پسند ہے۔ میں نے لکھنے پڑھنے کا بہت سا کام یہیں کیا ہے۔ میں نے اپنے چار ناول اسی گھر میں لکھے ہیں۔”

اُن کے چہرے پر ایک اداسی محسوس ہو رہی تھی۔ دراصل اُن کی پوتیوں کی تعلیم کے سلسلے میں کراچی جانا ضروری تھا، اور اُن کے بیٹے ڈاکٹر نوفل بھی کراچی منتقل ہو رہے تھے۔ آخرکار ایک دن ڈاکٹر صاحب کراچی شفٹ ہو گئے۔

مگر میری اُن سے محبت قائم رہی۔ میں نے عید پر ڈاکٹر صاحب کو عید کارڈ اور گفٹ بھیجا۔ کچھ دن بعد اُن کا فون آیا۔ وہ بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے:
“آپ اتنے پیسے کیوں ضائع کرتے ہیں؟”

ڈاکٹر صاحب کبھی کبھار حیدرآباد اپنے بنگلے پر آتے۔ میں نے اُن کے چوکیدار کو اپنا نمبر دے رکھا تھا۔ وہ ہمیں اطلاع دے دیتا۔ ایک دن میں اور ابو اُن سے ملنے گئے۔ چوکیدار نے ہمیں لان میں بٹھا دیا۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر صاحب تشریف لائے،وہی نفیس انداز، کلین شیو، سفید کرتا پاجامہ، سلیقے سے ٹھہر ٹھہر کر گفتگو۔

کبھی کبھی تو اپنے اسلوب، شکل و صورت اور لب و لہجے کی بدولت وہ مجھے دلیپ کمار لگتے تھے۔

باتوں کے دوران ڈاکٹر صاحب نے اچانک ایک ڈبہ، جو گفٹ پیپر میں لپٹا ہوا تھا، مجھے تھما دیا۔ میں حیران رہ گیا۔ پہلے تو میں نے سمجھا کہ یہ سگریٹ کا پیکٹ ہے۔ میں نے پوچھا بھی کہ یہ کیا ہے؟ کہنے لگے:
“آپ کے لیے ہے۔”

گھر آ کر جب میں نے وہ گفٹ کھولا تو معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب نے مجھے پرفیوم تحفے میں دیا تھا۔ اسی طرح ڈاکٹر صاحب کا ایک عید کارڈ بھی، اُن کی اپنی لکھائی میں، آج تک میرے پاس محفوظ ہے۔

ڈاکٹر صاحب کی کتنی کتابیں ہیں، کتنے افسانوی مجموعے اور ناول ہیں، اور ادب میں اُن کی کیا خدمات ہیں،یہ سب لوگوں کو معلوم ہے، اور جنہیں نہیں معلوم وہ گوگل پر تلاش کر سکتے ہیں۔ مگر اس کالم میں جو باتیں اور لمحات میری یادداشت میں محفوظ ہیں، وہ شاید آپ کے لیے منفرد ہوں، اور وہی بیان کر سکتا ہے جس نے اُن کے ساتھ وقت گزارا ہو۔

ڈاکٹر صاحب کے بنگلے پر ہونے والی وہ ادبی نشستیں پھر کبھی میسر نہ آ سکیں۔ میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ مجھے اُن میں شرکت کا موقع ملا۔ ایک مدت سے ڈاکٹر صاحب سے بات نہیں ہو سکی۔ وہ اب بہت ضعیف ہو چکے ہیں۔ فیس بک پر اُن کی ایک تصویر دیکھی، سفید داڑھی میں نہایت خوبصورت نظر آ رہے تھے،ویسے ہی خوبصورت جیسے اُن کی تحریریں ہوتی ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے