چینی جامعات کی عالمی درجہ بندی میں برتری

کچھ خبروں کا شور اس لیے نہیں ہوتا کہ وہ اچانک آتی ہیں، بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ وہ ہمارے مانوس تصورات کو خاموشی سے بدل دیتی ہیں۔ نیدرلینڈز کی لائڈن یونیورسٹی کی حالیہ عالمی درجہ بندی بھی کچھ ایسی ہی خبر ہے۔ اس فہرست میں جب دنیا کی دس نمایاں جامعات میں سے آٹھ چین کی نکلیں، تو بحث کا آغاز خودبخود ہو گیا۔ مغربی اخبارات میں حیرت، تشویش اور تجزیے ایک ساتھ نظر آئے، گویا علمی دنیا کا نقشہ اچانک تبدیل ہو گیا ہو۔لیکن اگر جذباتی ردعمل سے ہٹ کر دیکھا جائے تو یہ تبدیلی اتنی غیر متوقع بھی نہیں۔ دراصل یہ نتیجہ ایک طویل سفر کی نشاندہی کرتا ہے، نہ کہ کسی اچانک چھلانگ کی۔

گزشتہ بیس برسوں میں چین نے تعلیم اور تحقیق کو محض ایک سماجی شعبہ نہیں بلکہ قومی ترقی کی بنیاد سمجھ کر آگے بڑھایا ہے۔ جامعات کو کہا گیا کہ وہ صرف کلاس روم تک محدود نہ رہیں بلکہ صنعت، معیشت اور ٹیکنالوجی کے ساتھ جڑیں۔ اسی سوچ کے تحت تحقیق پر بھاری سرمایہ کاری کی گئی، لیبارٹریوں کو جدید بنایا گیا اور نوجوان محققین کو مواقع فراہم کیے گئے۔ وقت کے ساتھ اس کا اثر سائنسی اشاعتوں، پیٹنٹس اور نئی ٹیکنالوجیز کی صورت میں سامنے آیا۔

لائڈن رینکنگ اسی پہلو کو ناپتی ہے۔ یہ درجہ بندی اس بات کو دیکھتی ہے کہ کسی جامعہ کا تحقیقی کام عالمی سطح کے سائنسی جرائد میں کس حد تک اثر رکھتا ہے۔ چنانچہ جب چینی جامعات فہرست میں اوپر نظر آئیں تو یہ دراصل ان کی تحقیقی سرگرمیوں کی عکاسی تھی، نہ کہ اچانک پیدا ہونے والی شہرت کی۔

جہ جیانگ ،شنہوا اور شنگھائی جیاو تھونگ جیسی جامعات نے خاص طور پر انجینئرنگ، طبیعیات، کیمسٹری اور جدید مٹیریلز میں نمایاں کام کیا ہے۔ یہی ادارے چین کی ان ٹیکنالوجیکل کامیابیوں کے پیچھے ہیں جن کا ذکر آج عالمی سطح پر ہوتا ہے، چاہے وہ تیز رفتار کمیونی کیشن ہو، سپر کمپیوٹنگ ہو یا کوانٹم سسٹمز۔ ان کامیابیوں نے چین کے تعلیمی اداروں کو عالمی منظرنامے میں ایک نئی پہچان دی ہے۔

اس کے باوجود، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر درجہ بندی کا اپنا زاویہ ہوتا ہے۔ لائڈن رینکنگ تحقیق کے ایک خاص پیمانے کو اہمیت دیتی ہے، جب کہ تعلیم کا معیار، طلبہ کا تجربہ، یا بین الاقوامی تنوع جیسے پہلو اس میں مرکزی حیثیت نہیں رکھتے۔ اسی لیے دیگر عالمی درجہ بندیاں، جیسے کیو ایس یا ٹائمز ہائر ایجوکیشن، اب بھی امریکہ اور برطانیہ کی جامعات کو نمایاں مقام دیتی ہیں۔ یہ ادارے صدیوں پر محیط تعلیمی روایت، آزاد علمی ماحول اور عالمی ٹیلنٹ کو متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ فرق دراصل کسی ایک کی جیت یا ہار کا اعلان نہیں بلکہ مختلف تعلیمی ماڈلز کے فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ چینی جامعات تحقیق میں تیزی سے آگے بڑھی ہیں، اور تخلیقی سوچ، بین الشعبہ جاتی تعلیم اور انسانی علوم کے فروغ جیسے میدانوں میں اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر ہم ماضی میں جھانکیں تو آج کی بحث مزید واضح ہو جاتی ہے۔ دو دہائیاں قبل عالمی درجہ بندیوں میں امریکی جامعات کا غلبہ تقریباً مسلمہ حقیقت تھا۔ اس وقت چینی جامعات عالمی نقشے پر موجود تو تھیں، مگر مرکزِ نگاہ نہیں۔ آج وہ منظر بدل چکا ہے۔ یہی تبدیلی کچھ حلقوں کو بے چین کر رہی ہے، کیونکہ یہ اس تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ علمی برتری ہمیشہ چند مخصوص خطوں تک محدود رہے گی۔

تاہم اس صورت حال کو مقابلے کی عینک سے دیکھنا شاید درست نہ ہو۔ علم کسی ایک قوم یا تہذیب کی میراث نہیں ہوتا۔ چین نے بھی اپنی تعلیمی ترقی میں دنیا کے ہر خطے کے تجربات سے سیکھا ہے، اور آج اس کا فائدہ پوری دنیا کو مل رہا ہے۔ عالمی تحقیق اب پہلے سے کہیں زیادہ باہم جڑی ہوئی ہے، جہاں مختلف ممالک کے سائنس دان ایک دوسرے کے کام پر آگے بڑھتے ہیں۔

لائڈن رینکنگ کو اگر ایک پیغام سمجھا جائے تو وہ یہ ہے کہ تعلیمی دنیا بدل رہی ہے۔ یہ نہ تو مغرب کے زوال کا اعلان ہے اور نہ ہی مشرق کی حتمی فتح۔ یہ صرف اس بات کی نشاندہی ہے کہ علم کے نئے مراکز ابھر رہے ہیں۔آج بھی بے شمار طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے ہارورڈ، آکسفورڈ یا اسٹینفرڈ کا خواب دیکھتے ہیں۔ساتھ ہی اگر کوئی بیجنگ، ہانگژو یا شنگھائی کی جامعات کے خواب بھی دیکھے تو سے دنیا کی کامیابی سمجھنا چاہئیے نا کہ کوئی مقابلہ۔جیت صرف علم کی اور علم حاصل کرنے کی جستجو کی ہونی چاہئیے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے