سیاست سے انتقام تک۔ اخلاقی اقدار سے زوال کا سفر

یہ طرزِ عمل انصاف نہیں سیاسی انتقام ہے۔

کسی بھی ریاست کا اصل چہرہ اس وقت بے نقاب ہوتا ہے جب وہ اپنے سیاسی مخالفین کو قید میں رکھتی ہے۔ جمہوریت کی سچائی تقریروں سے نہیں، بلکہ سیاسی قیدیوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک سے پرکھی جاتی ہے۔ آج پاکستان ایک ایسے ہی نازک اور تاریخی موڑ پر کھڑا ہے، جہاں قانون نہیں بلکہ نیت سوال بن چکی ہے۔

سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو آنکھوں کے علاج کے لیے ہسپتال منتقل کرنا، وہ بھی بغیر اہلِ خانہ اور وکلا کی قانونی اجازت کے، محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سنگین آئینی اور اخلاقی معاملہ ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 9 کے تحت ہر شہری کو زندگی اور عزت کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہے، جبکہ آرٹیکل 10-A شفاف قانونی عمل کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ حقوق قید کے ساتھ معطل نہیں ہو جاتے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ آج طبی سہولت کو شفاف علاج کے بجائے کنٹرول کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ نہ اہلِ خانہ کو اعتماد میں لیا گیا، نہ وکلا کو، اور نہ ہی آزاد طبی نگرانی کی اجازت دی گئی۔ ایسی صورتحال میں علاج بھی خوف کی علامت بن جاتا ہے، اور ریاستی نیت مشکوک۔

اس منظرنامے کو اگر چند سال پیچھے جا کر دیکھا جائے تو تصویر بالکل مختلف دکھائی دیتی ہے۔

جب میاں نواز شریف شدید علیل ہوئے، اس وقت اقتدار میں عمران خان تھے۔ سیاسی دشمنی اپنے عروج پر تھی، مگر اس کے باوجود انسانی ہمدردی کو سیاست پر فوقیت دی گئی۔ پنجاب کی اُس وقت کی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد — جو خود ایک سینئر میڈیکل پروفیشنل ہیں نے ذاتی طور پر نواز شریف کے علاج کی نگرانی کی۔ لاہور کے ہسپتالوں میں علاج، ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت، اور مکمل طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔

ڈاکٹر شیریں مزاری، جو اس وقت وفاقی کابینہ کا حصہ تھیں، نے بھی واضح مؤقف اپنایا کہ بیماری کو سزا نہیں بنایا جا سکتا۔ شدید سیاسی دباؤ، میڈیا تنقید اور عوامی ردعمل کے باوجود، عمران خان کی حکومت نے بالآخر نواز شریف کو علاج کے لیے لندن جانے کی اجازت دی۔

یہ فیصلہ سیاسی فائدے کے لیے نہیں تھا بلکہ اخلاقی اصول کے تحت تھا۔

آج تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ وہی ڈاکٹر یاسمین راشد جیل میں ہیں۔ وہی ڈاکٹر شیریں مزاری بار بار گرفتاری، تضحیک اور ذہنی اذیت کا سامنا کر چکی ہیں۔ ان کا اصل جرم کوئی مالی یا اخلاقی بدعنوانی نہیں، بلکہ وہ انسانیت ہے جس کا مظاہرہ انہوں نے اقتدار میں رہتے ہوئے کیا تھا۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول میں رحم کمزوری بن چکا ہے، اور شرافت ایک ناقابلِ معافی جرم۔

عمران خان آج خود اسی آزمائش سے گزر رہے ہیں جس سے انہوں نے اپنے سیاسی مخالف کو وقار کے ساتھ گزارنے دیا تھا۔ ایک سیاسی قیدی کے بنیادی طبی حقوق پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ علاج کو خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ اہلِ خانہ اور وکلا کو دور رکھا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ آئین کے نام پر، مگر آئین کی روح کے خلاف ہو رہا ہے۔

یہ طرزِ عمل انصاف نہیں سیاسی انتقام ہے۔

یہ صرف عمران خان کا معاملہ نہیں رہا۔ یہ پاکستان کے جمہوری وجود کا سوال بن چکا ہے۔ کیونکہ جب ریاست طبی حق بھی چھین لے، تو پھر شہری اور قیدی میں فرق باقی نہیں رہتا — صرف طاقت رہ جاتی ہے۔

دنیا ایسی مثالوں کو غور سے دیکھتی ہے۔ اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کے ادارے، اور بین الاقوامی جمہوری حلقے کسی ملک کو نعروں سے نہیں، رویوں سے جانچتے ہیں۔ خاص طور پر اس وقت، جب ایک مقبول سیاسی رہنما قید میں ہو۔

تاریخ گواہ ہے کہ جو ریاستیں علاج کو انتقام بناتی ہیں، وہ کبھی استحکام حاصل نہیں کرتیں۔ اقتدار وقتی ہو سکتا ہے، مگر اخلاقی شکست مستقل ہوتی ہے۔

عمران خان نے اپنے شدید ترین سیاسی حریف کو ہسپتال تک عزت کے ساتھ جانے دیا۔
آج وہ خود شفاف علاج کے لیے ترس رہے ہیں۔
ان کے وزرا نے انسانیت کو ترجیح دی۔
آج وہی انسانیت ان کے لیے سزا بن گئی ہے۔
یہ تضاد صرف سیاسی نہیں اخلاقی ہے۔
پاکستان کے سامنے آج ایک واضح انتخاب ہے:
یا تو وہ آئین کی روح کی طرف لوٹے،
یا پھر ایسی تاریخ رقم کرے جسے آنے والی نسلیں شرمندگی سے پڑھیں۔
کیونکہ اقتدار یہ طے نہیں کرتا کہ کون صحیح تھا ؟
یہ تاریخ طے کرتی ہے کہ کس نے طاقت کے باوجود انسانیت نہیں چھوڑی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے