بلوچستان کے مختلف اضلاع میں حالیہ مربوط حملوں نے ایک تلخ حقیقت کو نمایاں کر دیا ہے کہ کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اپنی عملی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کر چکی ہے۔ یہ تنظیم اب محض محدود اور وقتی کارروائیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ بیک وقت مختلف مقامات پر منظم حملوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس صورتِ حال نے نہ صرف سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ ریاستی حکمتِ عملی میں موجود گہرے ساختی مسائل کو بھی بے نقاب کیا ہے۔
کالعدم تنظیم بی ایل اے کے عروج کو بلوچستان کی تاریخی اور سیاسی حقیقتوں سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے باوجود بلوچستان طویل عرصے سے سیاسی شمولیت، معاشی ترقی اور ادارہ جاتی نمائندگی کے حوالے سے محرومی کا شکار رہا ہے۔ وسائل کی موجودگی کے باوجود مقامی آبادی کو ان کے ثمرات نہ ملنے کا احساس وقت کے ساتھ گہرا ہوتا گیا۔ یہی احساسِ محرومی شدت پسند بیانیے کے لیے زرخیز زمین فراہم کرتا رہا ہے، جسے کالعدم تنظیم بی ایل اے جیسی تنظیموں نے منظم انداز میں استعمال کیا۔
کالعدم تنظیم بی ایل اے کی عسکری اور تنظیمی ارتقا اچانک نہیں ہوا۔ ابتدا میں یہ تنظیم چھوٹی سطح کی گوریلا کارروائیوں تک محدود تھی، مگر وقت کے ساتھ اس نے منصوبہ بندی، نگرانی، رسد، اور ابلاغ کے نظام کو بہتر بنایا۔ حالیہ حملے واضح کرتے ہیں کہ تنظیم کے پاس ایسا اندرونی کمانڈ ڈھانچہ موجود ہے جو دور دراز علاقوں میں بیک وقت کارروائیاں ہم آہنگ کر سکتا ہے۔ اس سطح کی مہارت تجربے، سیکھنے اور ریاستی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کا نتیجہ ہوتی ہے۔
ایک اور تشویشناک پہلو کالعدم تنظیم بی ایل اے کی جغرافیائی وسعت ہے۔ اب یہ تنظیم صرف دشوار گزار پہاڑی علاقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ شہری مراکز، شاہراہوں اور اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ تنظیم کو مقامی سہولت کاری حاصل ہے اور وہ سکیورٹی معمولات سے بخوبی واقف ہے۔ یہ صورتِ حال اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ بلوچستان میں انسانی انٹیلیجنس کا دائرہ کمزور پڑ چکا ہے، جہاں ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی کمی گہری ہوتی جا رہی ہے۔
مالی وسائل اور تنظیمی تسلسل بھی کالعدم تنظیم بی ایل اے کی بقا میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ سرکاری بیانات میں اکثر بیرونی پشت پناہی کا ذکر کیا جاتا ہے، تاہم دستیاب شواہد کے مطابق تنظیم کی بڑی طاقت مقامی عوامل سے جڑی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم ہمدرد، مقامی سہولت کار، غیر رسمی مالی ذرائع اور جھڑپوں میں حاصل ہونے والا اسلحہ تنظیم کو سرگرم رکھے ہوئے ہیں۔ مسلسل سیاسی اور معاشی محرومی نوجوانوں کو شدت پسند تنظیموں کی طرف دھکیلنے میں بھی مدد دیتی ہے۔
بلوچستان میں انٹیلیجنس کی ناکامی کو محض تکنیکی کوتاہی قرار دینا حقیقت سے چشم پوشی ہو گی۔ ہر قسم کی دہشتگردی کے انسداد کی کامیابی کا دارومدار عوامی اعتماد پر ہوتا ہے، اور جب ریاستی اقدامات خوف اور بداعتمادی کو جنم دیں تو معلومات کا بہاؤ رک جاتا ہے۔ جبری گمشدگیوں، سخت سکیورٹی اقدامات اور اجتماعی سزاؤں کے الزامات نے مقامی آبادی کو ریاستی اداروں سے دور کیا ہے، جس کا فائدہ براہِ راست کالعدم تنظیم بی ایل اے کو پہنچتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ صرف فوجی کارروائیاں کالعدم تنظیم بی ایل اے جیسے مسئلے کا حل نہیں۔ یہ مسئلہ محض سکیورٹی نہیں بلکہ حکمرانی، شمولیت اور انصاف کا ہے۔ جب تک سیاسی مکالمہ، منصفانہ ترقی اور ادارہ جاتی اصلاحات کو سنجیدگی سے نہیں اپنایا جاتا، اس وقت تک عارضی کامیابیاں پائیدار امن میں تبدیل نہیں ہو سکتیں۔ بلوچستان کا بحران ریاست کے لیے ایک انتباہ ہے کہ طاقت کے ساتھ ساتھ اعتماد بھی قومی سلامتی کی بنیاد ہوتا ہے.