مصنوعی ذہانت کا انقلاب اور 2026 کا انسان

تہذیبِ انسانی اور مصنوعی ذہانت کے ملاپ نے ایک ایسے دَور کا دروازہ کھول دیا ہے، جہاں 2026ء ایک نئے عہد کی تشکیل بن کر نمودار ہونے والا ہے۔ وہ دَور جو کبھی افسانوں میں کھویا ہوا تھا، اب حقیقت میں سامنے آرہا ہے۔ تیز تر تراکیب، چھوٹی، مگر طاقت وَر دماغی چِپس، کارخانے میں چلنے والے انسان نما روبوٹ اور ایسی مواصلاتی بنیادیں ،جو رفتارِ فکر کے قریب تر ہوں گی۔

مگر یہ پیش رفت، ٹیکنالوجی میں اضافے کے ساتھ زندگی کے اتار چڑھاؤ، انسان کے اخلاق حتیٰ کہ پورے سماج کی معنویت تبدیل کرتی نظر آرہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ٹیکنالوجی کو انسان کے پورے حیاتیاتی، معاشرتی اور اخلاقی سفر کے تناظر میں پرکھا ہے؟

پیدائش سے لے کر موت تک، طفولیت، تربیت، لباس، سفر، تعلیم، روزگار انفرادیت سے قومی اور قومی سے بین الاقوامی معیشت تک یہ تبدیلیاں ہمیں کس سمت لے جائیں گی؟ تو اس کا واضح جواب ہے کہ وہ بنیادیں، جن پر اگلے برسوں کی برق رفتاری استوار ہوگی، مواصلاتی ستون ہیں۔ دنیا 5G کے ارتقاء سے آگے بڑھ کر اگلی نسل کے مواصلاتی معیارات کی طرف بڑھ رہی ہے اور 6G کی منصوبہ بندی اب عملی شکل اختیار کر رہی ہے، جس کا مقصد رفتارمیں اضافہ، تاخیر میں کمی اور نئی قسم کی خدمات کے لیے تیارکردہ نیٹ ورک مہیّا کرنا ہے۔ اس سے جہاں بزنس ماڈلز بدلیں گے، وہیں روزمرّہ زندگی میں بھی ربطِ خارجی کا معیار بلند ہوگا اور بسا اوقات محسوس ہوگا کہ فاصلہ اور تاخیر ہماری لغت سے مٹ رہے ہیں۔

دوسری بڑی تبدیلی دماغ اور مشین کے درمیاں بننے والی کم و بیش غیر مرئی دیوار کا نتھارا ہے۔ چند کمپنیوں اور تحقیقی مراکز نے ایسی چِپس اور نیم جرّاحی آلات کی طرف قدم بڑھایا ہے، جو انسان کے خیالات، ارادے اور حرکات پڑھنے اور ترجمہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی طبی میدان کے لیے کافی امید افزا ہے کہ جو لوگ سننے، بولنے کی قوت سے محروم یا چلنے پھرنے سے معذور ہیں، ان کے لیے امید کی ایک کرن جگمگائی ہے۔

مگر اس پیش رفت کے ساتھ کچھ اخلاقی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں کہ پھر ذہنی خلوت کے تقدّس کا کیا ہوگا۔ خیالات کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ یا منتقل کیا جا سکتا ہے، تو اس کا غلط استعمال کس حد تک سنگین اثرات پیدا کرے گا؟ تازہ تجربات اور طبی آزمائشوں نے ثابت کیا ہے کہ یہ راستہ عملی حد تک پہنچ رہا ہے۔ تاہم، اس ضمن میں بے حد احتیاط کی ضرورت ہے۔

تیسرا انقلاب، روبوٹکس اور خودکار مشینوں کا سنگم ہے، جس میں سافٹ ویئرز فزیکل مشینری مل کر اس دنیا کو بدل رہے ہیں، جس میں ہم چلتے پھرتے ہیں۔ کارخانوں، شعبہ طب، حتیٰ کہ کمرشل اور گھریلو میدانوں میں انسان نما روبوٹس یا مخصوص کام انجام دینے والے روبوٹس درجہ بہ درجہ منظرِ عام پر آرہے ہیں۔

کچھ ادارے بڑے پیمانے پر انسان نما روبوٹس کی تیاری کے دعوے کر رہے ہیں اور یہ توقع ہے کہ 2026 ء میں ان کی موجودگی محسوس کی جائے گی، مگر فی الحال، پیداواری اہداف، خام مال کی رسد اور تیکنیکی چیلنجز ان دعووں کو حقیقت میں بدلنے میں اہم رکاوٹ ہیں۔

ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ روبوٹک قوت جہاں کام کی جگہوں کو بدل دے گی، وہیں انسانی مہارت اور روزگار کے نئے تقاضے بھی جنم لیں گے۔ چہارم، ایک بڑا ستون کوانٹم کمپیوٹنگ بھی ہے۔ ایک ایسا عمل، جو روایتی حساب کتاب کی حدود پار کر کے نئے مسائل حل کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔ بڑے ادارے اور تحقیقی مراکز ایسے ہدف مقرر کر چکے ہیں، جن کے تحت آئندہ برسوں میں کوانٹم مشینیں منطقی اور بہتر کوبِٹس کے ساتھ صنعتی حد تک قابلِ استعمال ہوں گی۔ اگر یہ دعوے سچ ہوگئے، تو کیمیائی مرکّبات، ادویہ کے نمونوں، مالی ماڈلز اور پیچیدہ آپٹیمائزیشن کے ضمن میں مزید انقلاب آسکتا ہے۔

تاہم، فی الحال کوانٹم کی راہ میں تیکنیکی دشواریاں اور معیارات کے سوال اپنی جگہ موجود ہیں، جس پر دنیا بھر کے ماہرین کام کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ جب کوانٹم کمپیوٹنگ اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے، تو اسی کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے خودکار ایجنٹس ایک نئے عہد کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ یہ انسان کے احساسات، جذبات اور رفاقت کا حصّہ بنتے جا رہے ہیں۔

رواں برس دنیا بھر میں ایسے ’’جنریٹیو اے آئی ایجنٹس‘‘ کا استعمال تیزی سے بڑھا، جو انسانوں کے لیے بات چیت، مشورے اور نفسیاتی سکون کا ذریعہ بنے۔ یہ ایجنٹس ہماری گفتگو اور طرزِ احساس کو پیشِ نظر رکھ کر وقت کے ساتھ ہمیں بہتر سمجھنے لگتے ہیں۔ یوں یہ کسی حد تک تنہائی کے علاج اور ذہنی دباؤ کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ مصنوعی ساتھی، حقیقی انسانی تعلقات کا مکمل نعم البدل کبھی نہیں بن سکتے، کیوں کہ جذبات کی اصل ترجمانی صرف انسان ہی کرسکتا ہے۔

دوسری طرف، ان ہی ایجنٹس کا ایک اور چہرہ بھی ابھر رہا ہے، جو سائبر دنیا کے محافظ اور جنگجو کے طور پر ہے۔ 2026ء میں جب ڈیجیٹل خطرات نئی شکلیں اختیار کریں گے، تو یہی اے آئی ایجنٹس فِشنگ، رینسم ویئر اور ڈیٹا چوری جیسے حملوں کے خلاف صفِ اول میں ہوں گے۔ خودکار ایجنٹس ڈیجیٹل حملوں کو پہچاننے، روکنے اور ان کا فوری جواب دینے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں۔تاہم، اگر بدقسمتی سے یہی ٹیکنالوجی اگر غلط ہاتھوں میں چلی گئی، تو ان ہی ایجنٹس کو ڈیجیٹل ہتھیار بھی بنایا جا سکتا ہے۔

اس لیے دنیا کو اب ایسے قوانین، اخلاقی اصول اور حفاظتی نظام درکار ہیں، جو اس طاقت کو درست سمت میں رہنمائی فراہم کرسکیں، کیوں کہ مستقبل قریب میں جب کوانٹم کمپیوٹنگ ان ایجنٹس کو مزید طاقت ور بنا دے گی، تو نہ صرف وہ انسانوں کی باتیں سمجھنے، بلکہ ان کے ارادوں، عادات اور ترجیحات تک رسائی حاصل کر لیں گے۔ یہی وہ مقام ہے، جہاں رازداری، اعتماد اور اخلاقی توازن سب سے اہم مسئلہ بن جائے گا۔
بہرحال،اس ساری تیکنیکی پیش رفت کا جوہر یہ ہے کہ یہ معاشرتی ڈھانچے، انسانی رشتوں اور اخلاقی اقدار میں بھی ردِ عمل برپا کریں گی۔ جب ذہین مشینیں دیکھ بھال، تعلیم، اور فیصلہ سازی میں حصّے دار بنیں گی، تو ہمیں دوبارہ سوچنا ہوگا کہ انسان کا مقام کیا ہے۔

کیا ہم اپنی ذمّے داریوں سے محروم ہو جائیں گے، کیا ہم اخلاقی فیصلے مشینوں پر چھوڑ دیں گے، یا ہم مشینوں کو ایسے اوزار بنائیں گے، جوہم دردی، شرافت اور عدل کو تقویت دیں؟ اہم نکتہ یہی ہے کہ ٹیکنالوجی کا ہر استعمال اخلاقیات اور انسانی انتباہ کا متقاضی ہے، بصورتِ دیگر ہم خود اپنی ہی تخلیق کے ہاتھوں سماجی زوال کا شکار بھی ہوسکتے ہیں۔

عصرِ حاضر میں بچّوں کی اوّلین نشوونما میں بھی ڈیجیٹل مانیٹرنگ، اسکولز میں خودکار طور پر ڈھلے ہوئے تدریسی نمونے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع اور معمر افراد کے لیے طبی نگرانی کا خودکار نظام موجود ہے۔ یہ سب عوامل ایک طرف انسان کی زندگی سہل، تو دوسری جانب پیچیدہ بھی بنارہے ہیں۔

شعبہ تعلیم میں ذاتی نوعیت کے اسباق، آن لائن کلاسز اور خودکار اسیسمنٹس نے روایتی استاد، شاگرد کے رشتے کو یک سر بدل دیا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے، کیا یہ نظام بچّوں میں اخلاقی وقار، ہم دردی اور تنقیدی سوچ پروان چڑھارہا ہے یا محض ڈیجیٹل ڈیٹا کی بنیاد پر سطحی کام یابی حاصل ہورہی ہے۔

اسی طرح ہر شعبہ ہائے زندگی میں جدّت جیسا کہ خود کار گاڑیاں، خود کار راستہ نما سسٹم، روبوٹ اور فاصلے کم کرنے والے مواصلاتی رابطے وغیرہ، ہماری جغرافیائی دنیا کو اندرونی طور پر تبدیل کر رہے ہیں۔ آخر کار وہی سوال سرِ فہرست رہے گا، کیا یہ اختراعی جدّت انسانیت کو فوائد منتقل کرے گی، غربت کم کرسکے گی، یا نئی مشکلات جنم دے گی؟ اس کے ساتھ یہ سوالات بھی پیدا ہورہے ہیں کہ مستقبل میں انسان کی بقا، کردار اور معاشرتی حیثیت کیا ہوگی۔

نوبیل انعام یافتہ سائنس دان، جیفری ہنٹن نے، جنہیں دنیا ’’اے آئی گاڈ فادر‘‘ کے طور پر جانتی ہے، حال ہی میں ایک چونکا دینے والی پیش گوئی کی ہےکہ آرٹیفیشل انٹیلی جینس میں برق رفتاری سے ہونے والی پیش رفت ایک ایسے دَور کا آغاز کرے گی، جہاں دولت چند ہاتھوں میں سمٹ کے رہ جائے گی۔ ارب پتی افراد، جیسا کہ ایلون مسک، مزید امیر ہوں گے اور دنیا بھر کے لاکھوں افراد اپنی ملازمتوں سے محروم ہوجائیں گے۔

ان کے بقول یہ محض تیکنیکی نہیں، سماجی بحران ہے، جس میں انسانی محنت کو مشین کی کارکردگی تلے دبا دیا جائے گا۔ مگر وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ یہ راستہ بند نہیں کیا جاسکتا، بلکہ چیلنج یہ ہے کہ اے آئی کے فوائد کو منصفانہ طور پر تقسیم کیا جائے، تاکہ ٹیکنالوجی چند طبقات کی ملکیت بننے کے بجائے اجتماعی فلاح کا ذریعہ بن سکے۔ یہی وہ نکتہ ہے، جو انسان کو یاد رکھنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی کبھی خود خطرہ نہیں ہوتی، خطرہ اس کے غیر منصفانہ استعمال سے پیدا ہوتا ہے۔

اگر ہم نے مصنوعی ذہانت کو انسانی شعور، انصاف اور ہم دردی کے تابع نہ بنایا، تو یہ انقلاب ہمیں ترقی نہیں، بلکہ عدم توازن، بے روزگاری اور اخلاقی انجماد کے عہد میں دھکیل دے گا۔ تاہم، یاد رہے، قدیم و جدید کتابوں، فلسفوں اور مذہبی تعلیمات میں انسانی عزت، عدل اور رحمت کے جو اصول درج ہیں، وہی بنیادی اصول آج بھی ٹیکنالوجی کے میدان میں ہماری رہنمائی کر سکتے ہیں۔

یہ تمام تر ترقی، ٹیکنالوجی کی سہولتیں اور مصنوعی ذہانت دراصل انسان کی اپنی ایجاد نہیں، اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ: اور وہ اس کے علم میں کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے، مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی کی وُسعت نے زمین اور آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت سے نہ تھکتا ہے اور نہ اُکتاتا ہے، وہ تو بہت بلند اوربہت بڑا ہے۔ (سورۃ البقرہ، آیت 255)۔یعنی انسان کی عقل و علم کی وسعت بھی اُسی حد تک ہے، جس قدر ربّ العالمین چاہے۔

یہ حقیقت یاد رکھنا ضروری ہے کہ انسان کو ہر نئی ٹیکنالوجی، ہر نیا علم اور ہر ایجاد دراصل اللّٰہ تعالیٰ کی اجازت اور حکمت کے دائرے ہی میں عطا ہوتی ہے، تاکہ وہ زمین پر اپنی خلافت کا درست حق ادا کر سکے۔ سیرت النبی ﷺ سے بھی ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ علم، ہنر اور طاقت کا مقصد انسانیت کی خدمت، عدل کا قیام، اور نقصان سے اجتناب ہونا چاہیے۔

رسولِ اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ’’تم میں سے بہترین وہ ہے، جو دوسروں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔‘‘ اسی طرح ایک اور موقعے پر رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا۔’’لوگوں میں سے سب سے افضل کون ہے؟‘‘ آپﷺ نے فرمایا۔’’وہ شخص، جو دل کا پاک اور زبان کا سچا ہو۔‘‘ صحابہؓ نے عرض کیا۔ ’’زبان کے سچّے کو تو ہم جانتے ہیں، یہ دل کے پاک سے کیا مراد ہے۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا۔’’ایسے باصفا دل والا کہ جس میں نہ کوئی گناہ ہو،نہ کوئی سرکشی، نہ کسی کے لیے کینہ ہو اور نہ حسد۔‘‘ (ابنِ ماجہ4216)۔

یہی اصول مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی لاگو ہوتا ہے کہ ترقی انسانیت کے فائدے، فلاح اور خیر کے لیے ہو، نہ کہ فساد، استحصال یا سرکشی کے لیے۔ بلاشبہ، اسلام نے ہمیشہ خیر، اعتدال، نیت کی صفائی اور امانت داری پر زور دیا۔ چناں چہ ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی یہی توازن درکار ہے کہ جہاں ترقی ہو، مگر تخریب نہ ہو، جہاں سہولت ہو، مگر انسانیت قربان نہ ہو۔ لہٰذا لازم ہے کہ ہم اس ترقی کو اللّٰہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت سمجھ کر اس کا استعمال عدل، خیر اور رحمت کے دائرے میں رکھیں۔

یہی رویّہ انسان کو ٹیکنالوجی کا غلام بننے سے بچاتا ہے اور اسے خالقِ کائنات کا شکر گزار بندہ بناتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ نئی ایجادات کو قبول کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اثرات کو بھی پرکھیں۔ انسانی وقار مقدم رکھیں اور اپنے معاشرتی رشتوں کی حفاظت کے لیے قوانین اور اخلاقی ضوابط، قرآن و حدیث کے اصولوں کی روشنی میں مرتّب کریں۔ یہ ایک نظریاتی و فکری چیلنج ہے۔ ہمیں اپنے بچّوں کو وہ اخلاق سکھانے ہوں گے، جو ٹیکنالوجی کے دَور میں بھی انہیں اشرف المخلوقات کے اوصاف زندہ رکھتے ہوئے آگے بڑھنے میں مدد دیں۔

ہر نئی طاقت کے انسانی ذمّے داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ اخلاقی تعلیم، شفّاف قوانین اور سماجی شعور میں بھی اضافہ ہو۔ یاد رہے، مستقبل کا انسان ایک ایسے عہد میں قدم رکھے گا، جہاں طاقت صرف جسمانی نہیں ہوگی، جدید ٹیکنالوجی اور اے آئی طاقت کے اصل محور ہوں گے۔ وہ انسان، جن کی زندگیوں کے ہر گوشے میں ڈیجیٹل عنصر نفوذ کرچکا ہوگا۔

تعلیم، کام، لباس، سفر، حتیٰ کہ خواب اور یادیں بھی ڈیجیٹل دنیا میں ملیں گی، تو اس تبدیلی کے معنی یہ نہیں کہ انسانیت مر جائے گی، بلکہ اس سے ہمیں اپنی فطرت کو ایک نئی، بہتر اور زیادہ باہمی کمک دینے والی شکل میں تشکیل دینے کا موقع بھی فراہم ہوگا۔ بس، شرط صرف یہ ہے کہ ہم اپنے قلب و ضمیر کو زندہ اور ہر نئی ٹیکنالوجی کو انسانی قدر و قیمت کے تابع رکھیں کہ ایسی روش ہی ہمیں ایک بہتر اور شعور و آگہی سے متصف سماج کی طرف لے جائے گی۔

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے