پرائیویٹ سکولوں میں اینول فنڈ: ایک سوالیہ نشان

تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، مگر ہمارے ہاں پرائیویٹ اسکولوں نے اسے ایک منافع بخش کاروبار بنا دیا ہے۔ فیسوں کے نت نئے ناموں میں سب سے زیادہ مبہم اور قابلِ اعتراض مد "اینول فنڈ” ہے، جو ہر سال بچوں اور والدین سے باقاعدہ وصول کیا جاتا ہے، مگر اس کے مصرف کی کوئی واضح تفصیل سامنے نہیں آتی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب والدین باقاعدگی سے ماہانہ فیس ادا کرتے ہیں، داخلے کے وقت ایڈمیشن فیس اور بعض اسکولوں میں ایڈوانس فیس بھی دی جاتی ہے، تو پھر اینول فنڈ آخر کس لیے لیا جاتا ہے؟ کیا یہ فنڈ بچوں کی تعلیمی سہولیات کو بہتر بنانے پر خرچ ہوتا ہے یا محض اسکول انتظامیہ کی آمدنی بڑھانے کا ذریعہ ہے؟

عملاً دیکھا جائے تو اینول فنڈ کا بچوں کو کوئی واضح فائدہ نظر نہیں آتا۔ نہ اسکولوں کی عمارتوں میں بہتری دکھائی دیتی ہے، نہ کلاس رومز میں سہولیات بڑھتی ہیں، نہ لائبریری، لیبارٹری یا کھیل کے میدان بنائے جاتے ہیں۔ بیشتر پرائیویٹ اسکول ڈربہ نما عمارتوں میں قائم ہیں، جہاں بچوں کو سارا دن بند کمروں میں رکھا جاتا ہے، جبکہ اینول فنڈ کے نام پر ہر سال ہزاروں روپے وصول کر لیے جاتے ہیں۔

اگر اینول فنڈ ہم نصابی سرگرمیوں کے لیے لیا جاتا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ وہ سرگرمیاں کہاں ہیں؟ اکثر اسکولوں میں نہ بزمِ ادب ہوتی ہے، نہ جسمانی تربیت (پی ٹی)، نہ کھیلوں کا باقاعدہ پیریڈ۔ بریک بھی صرف نام کی ہوتی ہے۔ چھوٹے بچوں کو کھیل کود اور ذہنی آسودگی سے محروم رکھا جاتا ہے، جو ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے نقصان دہ ہے۔

مزید یہ کہ اگر اسکول میں کبھی کوئی تقریب، فنکشن یا ایکٹیویٹی منعقد بھی ہو تو اس کے چارجز بچوں سے الگ سے وصول کیے جاتے ہیں۔ اس صورت میں اینول فنڈ لینے کا جواز اور بھی کمزور ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ بعض اسکولوں میں امتحانی شیٹس تک بچوں کو گھر سے لانے پر مجبور کیا جاتا ہے اور اسٹیشنری کے نام پر ہر سال سامان بھی بچوں سے جمع کروایا جاتا ہے، جو اکثر زبردستی لیا جاتا ہے۔

اینول فنڈ کے استعمال میں شفافیت کا شدید فقدان ہے۔ والدین کو کبھی یہ نہیں بتایا جاتا کہ اس فنڈ سے کون سے اخراجات پورے کیے گئے، کتنی رقم کہاں خرچ ہوئی اور بچوں کو اس سے کیا فائدہ پہنچا۔ یہ رویہ والدین کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے اور تعلیمی اداروں کی ساکھ پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ اسکول انتظامیہ تعلیمی سال کے آغاز پر مخصوص سلیبس اور مخصوص دکانوں سے کتابیں خریدنے کی پابندی بھی عائد کرتی ہے، جس سے والدین پر ہزاروں روپے کا اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ اگر اینول فنڈ واقعی تعلیمی بہتری کے لیے ہوتا تو کم از کم بنیادی تعلیمی مواد میں سہولت فراہم کی جاتی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اینول فنڈ کے نام پر وصول کی جانے والی رقم کا واضح اور تحریری حساب والدین کو دیا جائے۔ حکومت اور متعلقہ تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اس مد کی سخت نگرانی کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ اینول فنڈ واقعی بچوں کی فلاح و بہبود، سہولیات اور ہمہ جہت تربیت پر خرچ ہو۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تعلیم کو کاروبار نہیں بلکہ قومی امانت سمجھا جانا چاہیے۔ جب تک اینول فنڈ جیسے مبہم اور غیر شفاف نظام کا احتساب نہیں ہوگا، اس وقت تک تعلیمی انصاف اور معیار کی بہتری محض ایک خواب ہی رہے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے