ڈاکٹر اخلاق احمد اعوان کا تعلق ڈیرہ اسمٰعیل خان سے ہے۔وہ فارماسیوٹکس میں پی ایچ ڈی ہے اور آج کل ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ میں فارمیسی کے شعبے کا صدرنشیں ہے۔ میں نے اخلاق احمد پر مضمون کا آغاز صیغہ واحد سے بے تکلف انداز میں اس لیے کیا ہے کہ میں اسے زمانہ طالب علمی سے جانتا ہوں اور اس کے شعری سفر کا چشم دید گواہ ہوں۔2001ء میں جب میری تعیناتی غلام محمد قاصر کے شہر ڈیرہ اسمٰعیل خان میں تھی، تو اس سے پہلی ملاقات ہوئی۔وہ اس وقت گومل یونیورسٹی کے شعبہ فارمیسی میں داخلے کے لیے جدوجہد کررہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ اپنے شعری ذوق کی تسکین کے لیے ادبی محفلوں میں تواتر سے شریک ہوتا تھا۔
میں اس وقت قاصر ادبی فورم کا سرپرست اعلیٰ تھا اور میرے گھر پر فورم کے اجلاس اور ادبی نشستیں منعقد ہوتی تھیں جس میں اخلاق احمد دیے گئے وقت سے پہلے موجود ہوتا۔اس کو مطالعے کا بے حد شوق تھا اور اکثر شعرا کا کلام اسے ازبر تھا۔یہ وہ زمانہ تھا جب احمد ندیم قاسمی صاحب کا ادبی مجلہ”فنون“ شوق سے پڑھا جاتا تھا اور اس میں کسی نوآموز کے کلام کا شائع ہونا بڑی بات تصور ہوتی تھی۔اخلاق احمد نے یہ معراج زمانہ طالب علمی کے دوران اپنے شعری سفر کے آغاز ہی میں اس وقت حاصل کر لی تھی جب 2003ء میں اس کی غزل سہ ماہی فنون میں شائع ہوئی۔
اخلاق احمد اعوان کے ماموں سرور سودائی اردو اور پشتو زبان کے شاعر ہیں۔شاید بچپن میں کہیں ان کی لوریاں اس کے کانوں میں پڑیں جن سے اخلاق احمد شاعری کی طرف راغب ہو گیا یا پھر کوئی اور وجہ بھی ہو سکتی ہے۔لیکن ایک بات طے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر شاعری کی بے پناہ صلاحیتیں رکھی ہیں اور اس نے اپنی محنت اور لگن سے ان صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کیا ہے۔اخلاق احمد اعوان منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہونے والوں میں نہیں لیکن اس نے اپنی صلاحیتوں اور وقت کا بہترین استعمال کیا۔وہ ایک متوسط الحال خاندان میں پیدا ہوا جس کا کفیل صرف اس کا والد تھا۔گھر میں اخلاق احمد اعوان کی دو بہنیں بھی تھیں جن کے ہاتھ پیلے کرنے کی فکر ان کے والد کو لاحق تھی مگر بیٹے کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا اس کے والد کی پہلی ترجیح تھی۔اس لئے اخلاق احمد کے والد نے اس سرمایہ کاری پر اپنی توجہ مرکوز کی۔
اخلاق احمد کو بھی اپنے محدود وسائل کا بخوبی علم تھا اس لئے اس نے بھی خوب محنت کی اور ایک محنت کش کا بیٹا نہ صرف پی ایچ ڈی کرنے میں کامیاب ہوا بلکہ اسی تعلیمی ادارے(گومل یونیورسٹی)میں لیکچرار تعینات ہو گیا۔اس نے اپنی تعلیمی اڑان بھی جاری رکھی اور اپنے شعری ذوق کی تکمیل بھی کرتا رہا۔بیک وقت دونوں محاذوں پر لڑنا مشکل ہوتا ہے مگر اخلاق احمد نے یہ کر دکھایا۔اخلاق احمد اعوان کی شاعری پر تبصرے سے قبل یہ تمہید ضروری تھی کیوں کہ شاعر اپنے گردوپیش سے اپنا شعری مواد کشید کرتا ہے اور اخلاق احمد اعوان کی شاعری میں جا بہ جا آپ کو اس کے حالات کی عکاسی ملے گی۔ایک غزل کے کچھ اشعار ملاحظہ ہوں:
ہم خواب میں اُلجھے ہوئے بے دید کہاں تک
کرتے رہیں حالات کی تقلید کہاں تک
وہ پیڑ تھا میں جس سے رقابت تھی زمیں کو
کرتیں یہ بہاریں مری تجدید کہاں تک
دکھ درد کی بے رحم ہوا میں سرِ احساس
پرواز کرے طائر ِ اُمّیدکہاں تک
تقدیر کے کاتب سے میں پوچھوں گا کسی دن
باندھی ہے مرے درد کی تمہید کہاں تک
اُس پار کا منظر بھی کھلے کورنظر پر
دیکھوں میں ترا روزنِ خورشید کہاں تک
ڈاکٹراخلاق احمد اعوان شعرگوئی میں اپنی عمر اور وقت سے بہت آگے ہے۔عصری ادب کے وسیع مطالعے نے اس کی شاعری کو ایک نیا آہنگ عطا کیا ہے اور وہ شعر گوئی میں نہایت سنجیدگی سے آگے بڑھ رہا ہے۔وہ حرمتِ حرف سے آشنا ہے اور اس کا احترام کرتا ہے۔وہ اپنا ایک ایک حرف آدمیت کے نام کرنا چاہتا ہے۔وہ ہواؤں پر رقص کا متمنی ہے اور پانیوں پر خرام چاہتا ہے،مگراس کے ساتھ ساتھ اپنی مٹی سے بھی رشتہ استوار رکھنے کا خواہش مند ہے۔وہ اپنے کہے کو غم کا وظیفہ گردانتا ہے اور دل کو دنیا سے جوڑ کر اپنے درد کو ناتمام کرنا چاہتا ہے۔
درودیوارپہ مضمون کیا خوشبوکو
اورآنگن میں کسی پھول کا چہرہ لکھا
تم ہی لکھو یہ قصیدے سرِ دربار،پہ میں
جس کو جو پایااُسے ویسے کا ویسا لکھا
دنیا والوں کے لئے تو یہ فقط غزلیں ہیں
میں سمجھتا ہوں کہ میں غم کا وظیفہ لکھا
شعر کے محاسن میں جہاں اور بہت کچھ شامل ہے وہاں تلمیح کا برجستہ استعمال بھی شعر کی خوبصورتی میں اضافے کاسبب ہے۔اردوشاعری باالخصوص غزل میں شعرا نے تلمیحات کو بہت اچھی طرح برتا ہے۔یہ تلمیحات قرآن و حدیث سے بھی اخذ شدہ ہیں اور قدیم تہذیبوں کے نامور لوگوں کے کارناموں اور اساطیر سے بھی ماخوذ ہیں۔ڈاکٹر اخلاق احمد کے ہاں بھی یہ شعری حُسن پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ گرہے۔بعض اوقات اس کی ایک غزل میں ہی ہمیں کئی تلمیحات دیکھنے کو ملتی ہیں۔ تلمیحات سے مرصع ایک غزل کے کچھ اشعار قارئین کی دلچسبی کے لیے درج کئے جا رہے ہیں
آج پھر اپنے عزیزوں کی عنایت کے طفیل
کوئی یوسف ہے جو بازار تک آ پہنچا ہے
ہے سماعت پہ گراں عدل کی زنجیر کا شور
پھر سوالی کوئی دربار تک آپہنچا ہے
جانے کیا ہوگیا اعجازِ مسیحا اخلاقؔ
موت کا ہاتھ تو بیمار تک آ پہنچا ہے
ڈاکٹراخلاق احمد اعوان ایک سیلف میڈ آدمی ہے۔اس نے یہ مقام اپنی محنت کے بل بوتے پر حاصل کیا ہے اس لئے وہ انکارکے آزار اور اس کی لذت، دونوں سے ہی آشنا ہے۔انکار کی راہ پر چلنا اگرچہ مشکل ہے تاہم اس میں ایک لذتِ مدام بھی ہے جس کا نشہ وکھری ٹائپ کا ہے۔ڈاکٹر اخلاق احمد اعوان اس نشے کا عادی ہو چکا ہے۔وہ اپنے سر پر انکار کی گٹھڑی اُٹھائے اپنی مادرِ علمی گومل یونی ورسٹی اور اپنی جنم بھومی ڈیرہ اسمٰعیل خان کی تن آسانیاں چھوڑ کر سیکڑوں کلومیٹر دور ہزارہ یونیورسٹی کے مانسہرہ کیمپس میں آ بیٹھاہے جہاں وہ اپنی علمی پیاس بھی بجھا رہا ہے اور اپنے طالب علموں میں بھی علم کے موتی بانٹ رہا ہے۔سہل پسندی اسے ہر گز نہیں بھاتی اور اپنے شعری سفر میں بھی اس نے نئے اور مشکل راستوں کا انتخاب کیا ہے۔ اس کی غزلوں میں یہ وکھری ٹائپ کا نشہ جا بہ جا ملتا ہے۔ایک غزل میں اس کا یہ انداز ملاحظہ ہو
سبز موسم یہ کرامت بھی دکھا سکتا ہے
پھول روٹھی ہوئی خوشبو بھی منا سکتا ہے
رونقیں تیری سلامت مگر اے شہرِ جمال
دل وہ پاگل کہ تجھے چھوڑ کے جا سکتا ہے
جذبہئ شوق سلامت ہے تو اُجڑا ہوا دل
گھر تو گھر ہے نئی دنیا بھی بسا سکتا ہے
یہی آنکھوں سے برستا ہواپانی کسی دن
کشتِ ہجراں میں نئے خواب اُگا سکتا ہے
ڈاکٹراخلاق احمد اعوان کی شاعری پر پہروں گفتگو ہو سکتی ہیں اوراس کے جدیدتر شعری تجربات پربہت کچھ لکھا جا سکتا ہے کیونکہ اس نے شعرگوئی کے لئے گھسے پٹے راستوں پر چلنے سے ہمیشہ اجتناب کیا ہے۔اس کے ہنر میں قوسِ بت شکنی موجود ہے اورسومنات کی تسخیر اس کے لئے کوئی بڑی بات نہیں۔ اس نے اپنے شعری سفر کے آغاز میں ہی اتنے عمدہ اور
معاصرشاعری میں دیر تک زندہ رکھیں گے۔مندرجہ ذیل اشعار دیکھیں اور خود فیصلہ کریں۔ برجستہ اشعار کہہ ڈالے ہیں جو اسے
وہ ایک موم کی چڑیا شجر سے کہتی ہے
میں آسمان کو چھو لوں گر آفتاب نہ ہو
۔۔۔۔۔
کششِ شوق مری آنکھوں میں اتنی تھی کہ رات
مجھ سے ملنے کوئی تصویر سے باہر آیا
۔۔۔۔۔
اک نئے رنگ نئے روپ میں ڈھالے گا مجھے
غم وہ تیشہ ہے کہ پتھر سے نکالے گا مجھے