کیا پاکستان میں ڈمی مدارس اور دینی بورڈز ہیں ؟

حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک جملہ "ڈمی مدارس اور جعلی بورڈز” گردش میں ہے ۔ اس جملہ کی تکرار نے فطری طور پر یہ سوال پیدا کیا کہ آخر اس میں استعمال ہونے والے لفظ "ڈمی”کی لغوی اور فکری بنیاد کیا ہے؟ اسی تجسس کے تحت جب مختلف لغات اور کتبِ معانی میں”ڈمی مدارس”کی ترکیب تلاش کی گئی تو حیرت انگیز طور پر اس کا کوئی باقاعدہ اندراج کہیں نہ ملا۔ اس تلاش کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرنا بعید از قیاس نہیں کہ "ڈمی مدارس”دراصل لغت کا نہیں بلکہ پاکستانی مذہبی و سیاسی بیانیے کا ایک نیا اضافہ ہے۔

پاکستانی عوام اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ میدانِ سیاست کے ماہرین اور مختلف مکاتبِ فکر کے بعض نمائندگان اپنی خطابت اور بیانیے میں وقتاً فوقتاً ایسے الفاظ اور اصطلاحات متعارف کرواتے رہتے ہیں، جو بظاہر معلومات میں اضافے کا سبب بنتے ہیں، مگر ان کے اثرات کبھی مثبت اور کبھی منفی رخ اختیار کر لیتے ہیں۔ ایسے الفاظ جن کی کوئی واضح لغوی یا فکری بنیاد موجود نہ ہو، دراصل زو معنی کہلاتے ہیں یعنی وہ اصطلاحات جو وقت، مفاد اور نظریاتی ضرورت کے تحت اپنے معنی بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اور جن کا اطلاق حقیقت سے زیادہ تاثر سازی پر مبنی ہوتا ہے۔

تحریر کو طول دینے کے بجائے اگر لفظ "ڈمی مدارس”تک محدود رکھا جائے تو سب سے پہلا سوال یہی بنتا ہے کہ آخر لفظ "ڈمی”کی اصل کیا ہے اور یہ کن لسانی روایتوں سے ماخوذ ہے؟ اسی مقصد کے تحت جب اردو کی معتبر کتبِ لغات،جیسے نوراللغات، المعجم الاعظم، المنجد اور شائق اللغات کا مطالعہ کیا گیا تو ان میں لفظ "ڈمی”یا اس سے ملتی جلتی کوئی واضح اصطلاح موجود نہ ملی۔ البتہ فرہنگِ آصفیہ اور فیروز اللغات میں تلاش کرنے پر لفظ "ڈمی”تو نہیں ملا، تاہم قریب المعنی لفظ "ڈوم”ضرور ملتا ہے، جس کے معنی مغنی، میراثی، قوال یا گانا بجانے والے طبقے کے بیان کیے گئے ہیں۔ اسی طرح جامع اللغات میں”ڈوم”اور "ڈومبھ”کے معانی ایک مخصوص قوم کے طور پر درج ہیں، جو مختلف معاشرتی پیشوں،جیسے گانا بجانا، ٹوکریاں اور چٹائیاں بنانا یا مرگھٹوں سے متعلق کام سے وابستہ رہی ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اردو لغات میں لفظ”ڈمی”اپنی موجودہ معنوی صورت کے ساتھ کہیں رائج نہیں۔

فارسی اور عربی لغات میں اس لفظ کی تلاش اس لیے بھی بے معنی ٹھہرتی ہے کہ ان زبانوں میں حرف”ڈ”سرے سے موجود ہی نہیں۔ تاہم جب انگریزی لغات کی طرف رجوع کیا گیا تو حقیقت واضح ہو گئی کہ”ڈمی”دراصل انگریزی لفظ (Dummy) ہے، جو اردو میں براہِ راست مستعار لیا گیا ہے۔ انگریزی میں Dummyکے بنیادی معانی جعلی، نقلی، مصنوعی یا نمائشی شے کے ہیں۔یعنی وہ چیز جو اصل کی جگہ وقتی طور پر استعمال کی جائے۔

اس کی مثالوں میں کپڑوں کی نمائش کے لیے استعمال ہونے والا پُتلا (Mannequin)، کتاب یا اخبار کی اشاعت سے قبل تیار کیا جانے والا عارضی خاکہ (Mock-up)، کسی نظام کی جانچ کے لیے بنایا گیا فرضی ڈیٹا یا اکاؤنٹ (Dummy Data)، حتیٰ کہ تاش کے کھیل بریج میں وہ کھلاڑی بھی شامل ہے جس کے پتے سب کے سامنے کھلے ہوتے ہیں۔

اسی مفہوم کی تائید اردو کے معروف ادبی ذخیرے "ریختہ” سے بھی ہوتی ہے، جہاں "ڈمی” کو زیرِطباعت کتاب، اخبار یا رسالے کے اس عارضی ڈھانچے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ جو چھپائی سے پہلے سادے یا ردّی کاغذ پر تیار کیا جاتا ہے۔ اور ڈمی سے مراد عموماً وہ شے، شخص یا اصطلاح ہوتی ہے جو اصل کی نمائندگی تو کرتی ہو مگر اپنی حیثیت میں حقیقی نہ ہو۔چاہے وہ تربیت کے لیے استعمال ہونے والا انسانی ماڈل ہو، کمپیوٹر سسٹم کا فرضی ڈیٹا، یا سیاست و سماج میں ایسا فرد جو بظاہر عہدے پر فائز ہو مگر اصل اختیار کہیں اور ہو۔مختصراً "ڈمی” ایسی چیز یا صورت کا نام ہے جو حقیقت نہیں بلکہ محض نمائش، آزمائش یا نمائندگی کے لیے اصل کا روپ دھارے ہوتی ہے۔ یہی مفہوم جب کسی سماجی یا دینی اصطلاح کے ساتھ جوڑا جائے تو اس کے مضمرات کو سمجھنا اور پرکھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

مصنوعی ذہانت اور چیٹ جی پی ٹی سے بھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ "ڈمی مدارس”سے آخر کیا مراد لی جاتی ہے۔ اس استفسار کے جواب میں جو توضیح سامنے آئی، وہ اس اصطلاح کے رائج مفہوم کو نسبتاً واضح کرتی ہے۔ چیٹ جی پی ٹی کے مطابق ڈمی مدارس سے مراد ایسے مدارس یا دینی ادارے ہوتے ہیں جو نام اور کاغذی ریکارڈ میں تو مدرسہ کہلاتے ہیں، مگر عملاً ان میں نہ کوئی منظم تعلیمی نظام موجود ہوتا ہے، نہ تدریس کا تسلسل اور نہ ہی دینی مقاصد کی حقیقی تکمیل۔ اسی بنا پر اس اصطلاح کا استعمال عموماً تنقیدی اور منفی معنوں میں کیا جاتا ہے۔

اس مفہوم کے تحت” ڈمی مدارس” کی چند نمایاں صورتیں بیان کی جاتی ہیں: بعض ادارے محض رجسٹریشن کی حد تک وجود رکھتے ہیں، جہاں نہ باقاعدہ طلبہ ہوتے ہیں، نہ اساتذہ اور نہ ہی تعلیم کا کوئی مؤثر سلسلہ۔ کہیں مدارس کا قیام محض فنڈز، چندے یا سرکاری و غیر سرکاری مراعات کے حصول کے لیے کیا جاتا ہے۔ بعض جگہ ریکارڈ میں فرضی طلبہ اور اساتذہ درج کر دیے جاتے ہیں، جبکہ حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ اسی طرح بعض ادارے صرف معائنہ یا کسی وزٹ کے موقع پر عارضی طور پر سرگرم دکھائی دیتے ہیں، باقی اوقات میں وہ غیر فعال رہتے ہیں۔ بعض صورتوں میں مدرسہ اپنے اصل دینی مقصد سے ہٹ کر ذاتی، سیاسی یا مالی مفادات کے لیے استعمال ہونے لگتا ہے”۔یوں یہ اصطلاح کسی ایک مخصوص ادارے کی نشاندہی نہیں کرتی، بلکہ ایک ایسے طرزِ عمل اور رویّے کی عکاس ہے جس میں دینی تعلیم کے نام پر محض ظاہری ڈھانچا قائم رکھا جاتا ہے، جبکہ اس کے اندر وہ روح اور مقصد مفقود ہوتا ہے جس پر دینی اداروں کی اصل بنیاد قائم ہوتی ہے۔

مذکورہ تحقیق سےیہ بات واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ پاکستان میں”ڈمی”کی اصطلاح محض اخبارات و رسائل تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ مختلف فکری، سماجی اور انتظامی میدانوں میں بھی پوری شدت کے ساتھ متحرک دکھائی دیتی ہے۔ آج ہمیں ڈمی تحریریں، ڈمی مقالات، ڈمی بیانات، ڈمی خیالات، ڈمی گفتگو، ڈمی معاملات، ڈمی ادارے، ڈمی جماعتیں، حتیٰ کہ ڈمی حکمران اور ڈمی شخصیات تک کثرت سے نظر آتی ہیں۔ گویا یہ اصطلاح اب صرف ایک لفظ نہیں رہی بلکہ ایک طرزِ فکر اور رویّے کی علامت بن چکی ہے۔

لیکن اب اصل تحقیق طلب سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ڈمی مدارس کون سے ہیں؟ اور وہ کون سا پیمانہ ہے کہ جعلی، نیم حقیقی اور اصلی مدارس ودینی وفاق کو با آسانی پہچانا جاسکتا ہے ؟ اس سوال کا جواب محض الزامات یا تاثرات کی بنیاد پر نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ نتیجہ قائم کرنے سے پہلے مدارس اور وفاقات کے قیام، ان کے تاریخی پس منظر اور ارتقائی مراحل پر ایک سنجیدہ نظر ڈالی جائے، تاکہ مسئلے کو صحیح تناظر میں سمجھا جا سکے اور رائے قائم کرنے میں سہولت اور توازن پیدا ہو۔

حکومتِ پاکستان کے تحت اعلیٰ تعلیمی اداروں کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) کا قیام 1974ء میں عمل میں آیا۔ بعد ازاں جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں ملک میں قائم دینی مدارس کے چار بڑے پرائیویٹ امتحانی و تعلیمی وفاق۔وفاق المدارس العربیہ (دیوبند)، تنظیم المدارس اہلِ سنت (بریلوی)، وفاق المدارس السلفیہ (اہلِ حدیث) اور وفاق المدارس الشیعہ،اپنے اپنے مدارس کا نصابی اور امتحانی نظام منظم انداز میں چلا رہے تھے۔ جنرل ضیاء کے دور میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر 17 نومبر 1982ء کو ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے ان وفاقات کی آخری درجہ کی سند شہادة العالمیہ کو ایم اے کے مساوی درجہ دے کر UGC کو باقاعدہ منظوری کا پابند بنایا گیا۔ اس اقدام کے نتیجے میں ان چاروں وفاقات سے منسلک مدارس کی آخری سند کو سرکاری سطح پر عمومی قبولیت حاصل ہو گئی۔

اس منظوری کے کچھ عرصے بعد جنرل ضیاء الحق کو کچھ اور دینی اداروں کی جانب سے درخواستیں بھی موصول ہوئیں کہ قومی سطح( یعنی وفاق) کے علاوہ کچھ نمایاں دینی اداروں کی اسناد کو براہِ راست UGC سے تسلیم کیا جائے۔ چنانچہ سرکار کی جانب سے خصوصی شفقت کےتحت جامعہ تعلیماتِ اسلامیہ فیصل آباد (اہلِ حدیث)، دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف (بریلوی)، جامعہ اشرفیہ لاہور (دیوبندی) اور دارالعلوم کورنگی کراچی (دیوبندی) کو یہ اعزاز حاصل ہوا۔ حالانکہ اُسی دور میں پاکستان کے دیگر بڑے اور معروف دینی ادارے،جیسے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ سید یوسف بنوری ٹاؤن کراچی، جامعہ مظہر العلوم کھڈہ کراچی، دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک اور جامعۃ الامام محمد طاہر پنج پیر صوابی، بھی موجود تھے۔ لیکن ان اداروں کو اس مرحلے پر براہِ راست منظوری کیوں نہ مل سکی، یا انہوں نے اس سمت میں پیش رفت کیوں نہ کی۔؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اپنی جگہ گہرے غور و فکر کا متقاضی ہے، تاہم تحریر کی طوالت کے پیش نظر اس پر مزید گفتگو فی الحال مناسب نہیں۔

چند برس بعد یہی سلسلہ مزید وسعت اختیار کرتا ہے۔ تقریباً پانچ سال بعد جماعت اسلامی کے امیرِ پاکستان کی جانب سے جنرل ضیاء الحق کو ارسال کی گئی درخواست کے نتیجے میں 12 اگست 1987ء کو دینی مدرسہ بورڈ "رابطۃ المدارس الاسلامیہ”کو بھی سرکاری فہرست میں منظوری حاصل ہوئی اور یوں یہ وفاق بھی UGC کی فہرست میں شامل ہو گیا۔ اس طرح پانچ دینی وفاقات ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت سرکاری دائرہ کار میں آ چکے تھے۔ بعد ازاں وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں 27 اپریل 1992ء کو ڈاکٹر طاہرالقادری کا ادار ہ "جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن لاہور” کو بھی اسی سرکاری فہرست میں شامل کر لیا گیا۔

تاہم زمینی حقائق اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ رہے۔ ان پانچ معروف وفاقات کے اندر بھی مختلف علاقوں، خصوصاً مردان، چارسدہ، پشاور، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے بعض حصوں، کے مدارس کی جانب سے اپنے ہی وفاق کے نصابی، امتحانی اور انتظامی امور پر تحفظات سامنے آتے رہے۔ انہی خدشات کے باعث بعض مدارس خاموشی سے وفاق المدارس العربیہ سے الگ ہو کر ایک غیر اعلانیہ وفاق "اتحاد المدارس”میں شامل ہوتے چلے گئے۔ اسی طرح دعوت وتبلیغی کے مرکز سے وابستہ پنجاب کے مدارس اور پنج پیر صوابی میں جامعۃ الامام محمد طاہر پنج پیر کےبھی ہزاروں مکاتیب اور مدارس بھی کبھی وفاق المدارس العربیہ کا حصہ نہ بنے اور ابتداء سے ہی اپنا علیحدہ نظم قائم رکھا تھا جو اب تک جاری و ساری ہے۔ دوسری طرف جامعہ غوثیہ بھیرہ شریف بھی علیحدہ سے اپنا تعلیمی و امتحانی نظام چلاتی رہی، جبکہ وفاق المدارس السلفیہ سے الگ ہو کر "جماعۃ دعوہ” کے مدارس بھی اپنے نظم میں فعال رہے۔ اسی طرح تنظیم المدارس اور وفاق الشیعہ کے بھی بعض مدارس میں علیحدگی کے رجحانات پائے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ جماعت اسلامی” رابطۃ المدارس کے بھی چند مدارس پر مشتمل "سید مودودی انسٹی ٹیوٹ” کے نام سے علیحدہ ہوکر 2001 میں پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے الحاق بھی کیاتھا۔

یہ تمام حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پانچ معروف وفاقات کے علاوہ بھی پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں مکاتیب اور مدارس مختلف سطحوں پر منظم انداز سے اپنا تعلیمی نظام پہلے سے چلا رہے تھے۔ جب کہ ان پانچ معروف وفاقات کے اندر رہتے ہوئے بھی ، ان کے اپنے کچھ مدارس اپنے ہی وفاق کی پالیسیوں سے اختلاف ضرور رکھتے تھے، مگر نظم و ضبط اور اجتماعی وابستگی کے باعث خاموشی اختیار کیے رہے۔ جس کے نتائج آگے چل کر واضح ہوئے۔

یہ بھی ایک مسلم حقیقت ہے کہ تقریباً ہر حکومت نے دینی مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کی، تاکہ انہیں قانونی طور پر قومی تعلیمی اعداد و شمار کا حصہ بنایا جا سکے۔ اسی مقصد کے تحت 2005ء، 2010ء، 2016ء اور 2019ء میں پانچ معروف وفاقات کے ساتھ مختلف تحریری معاہدات بھی طے پائے جاتے رہے ۔ تاہم کبھی حکومتی پالیسیوں کی کمزوری اور اور لاعلمی غالب رہی اور کبھی دینی وفاقات کی جانب سے بعض اہم وجوہ کے باعث معاہدات اپنی اصل روح کے مطابق مکمل نافذ نہ ہو سکے۔ البتہ تمام معاہدات کی ضمن میں ایک مثبت پیش رفت یہ ضرور ہوتی رہی کہ مدارس کے ابتدائی درجات میں عصری علوم کا آغاز کردیا گیا اور میٹرک تک کی تعلیم پر عمل در آمد شروع ہوا، جو دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کی سمت ایک اہم قدم سمجھا جا سکتا ہے۔ جب کہ ماضی بعید میں بعض اہل علم کی جانب سے مدارس میں دینی علوم کے ساتھ، عصری علوم کی آمیزش کو خدشات کا باعث اور غیر متوازن بھی قرار دیا جاتا رہا تھا۔

یہ امر بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ مرحوم ڈاکٹر محمود احمد غازی کی علمی بصیرت اور سنجیدہ کاوشوں کے نتیجے میں حکومتی سطح پر "پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ” کا قیام عمل میں آیا، جس میں ملک کے پانچوں معروف دینی وفاقات کی نمائندگی کو بھی شامل رکھا گیا تھا۔ اس بورڈ کا بنیادی مقصد مدارس اور ریاست کے درمیان ایک منظم، باوقار اور قابلِ قبول رابطہ قائم کرنا تھا، تاکہ دینی تعلیم اداروں کو قومی تعلیمی دھارے میں لاتے ہوئے کسی تصادم کے بجائے مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے۔تاہم جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں اختیار کی گئی بعض پالیسیوں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر اس بورڈ کی مزاحمت سامنے آئی۔ اس مخالفت نے محض نظری اختلاف کی صورت اختیار نہیں کی بلکہ عملی طور پر ایک منظم محاذ کی شکل اختیار کر گئی۔ چنانچہ 2005ء میں ان پانچوں وفاقات نے مشترکہ طور پر ایک سیاسی و تنظیمی اتحاد "اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ”قائم کر لیا ، جس کا مقصد ریاستی پالیسیوں کے مقابل ایک متحد موقف اختیار کرنا تھا۔

اسی سیاسی کشمکش اور عدم اعتماد کی فضا کے باعث پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ تقریباً چودہ برس تک وہ مؤثر کردار ادا نہ کر سکا جس کے لیے اس کا قیام عمل میں آیا تھا۔ مختلف ادوار میں آنے والی مذہبی و سیاسی حکومتوں کی وقتی مفاہمتی حکمتِ عملی، ریاستی اداروں کی عدم دلچسپی اور مسلسل پالیسی عدم تسلسل نے اس بورڈ کو جامع اور دور رس نتائج تک پہنچنے سے محروم رکھا۔ یوں ایک ایسا ادارہ، جو دینی مدارس اور ریاست کے درمیان پُل بن سکتا تھا، طویل عرصے تک عملی اثر پذیری سے دور رہا۔تاہم اس جمود کے باوجود ایک اہم پہلو قابلِ ذکر ہے۔ 2014ء میں پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے باضابطہ اوپن میرٹ پر جو پہلے چیئرمین منتخب ہوئے تھے، انہوں نے مدرسہ بورڈ کو فعالیت کے لیے سنجیدہ اور عملی کوششیں کیں تھیں۔

انہوں نے پانچ وفاقات کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں قائم ان ہزاروں دینی مدارس ( وفاق وحدت المدارس پنچ پیر، وفاق اتحاد المدارس مردان، وفاق الجامعات منڈی بہاؤالدین، جمعیت اشاعت توحید و السنہ جنوبی پنجاب، تبلیغی جماعت ، جامعہ نعیمیہ لاہور، جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی، جامعہ مظہرالعلوم کھڈہ کراچی ودیگر مدارس) کے ذمہ داران سے براہِ راست ملاقاتیں کیں اور باہمی رضامندی کے بعد، انہیں مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے بورڈ کے اجلاس سے باقاعدہ منظوری بھی حاصل کی۔ تاہم ان کی کوششوں کے سامنے بھی وہی پرانی انتظامی، سیاسی اور پالیسی سطح کی رکاوٹیں حائل رہیں، اس کے باوجود وہ تمام کوششیں سرکاری ریکارڈ کا حصہ بن گئیں، جو اس امر کی گواہی دیتی ہیں کہ اصلاح اور مفاہمت کی سنجیدہ سعی ایک مرحلے پر ضرور کی گئی تھی، اگرچہ وہ اپنے مطلوبہ اہداف تک نہ پہنچ سکی۔

2018 میں جب وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت قائم ہوئی۔توحکومت نے ایک ایگزیکٹیو حکم نامے اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے ذریعے مدارس کی رجسٹریشن کے لیے وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کے ماتحت "ڈائریکٹوریٹ آف ریلیجس ایجوکیشن”کے نام سے نیا ادارہ قائم کر دیا۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ ادارہ عملاً” پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ” ہی کا تسلسل اور متبادل کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کے ذریعے ریاست نے دینی مدارس کے انتظام، رجسٹریشن اور نگرانی کے لیے ایک نیا راستہ اختیار کیا ہے۔

بالآخر 4فروری 2021ء کو ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے دینی مدارس کے پانچ امتحانی بورڈز کی باضابطہ منظوری دے دی۔ ان میں اتحاد المدارس العربیہ مردان، اتحاد المدارس الاسلامیہ پاکستان لاہور، نظام المدارس پاکستان لاہور، مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمت لاہور اور وفاق المدارس الاسلامیہ والرضویہ پاکستان شامل تھے۔ اس کے تقریباً دو ماہ اور دس دن بعد، یعنی 15 اپریل 2021ء کو مزید تین امتحانی بورڈز کو منظوری دی گئی، جن میں وفاق المدارس والجمعیت الدینیہ پاکستان، مجمع العلوم الاسلامیہ پاکستان اور وحدت المدارس الاسلامیہ پاکستان شامل ہیں۔اس کے بعد 27 اپریل 2021ء کو دو مزید بورڈز۔بورڈ آف اسلامک ایجوکیشن اور کنز المدارس پاکستان،کو بھی سرکاری طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ یوں مختصر عرصے میں امتحانی بورڈز کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اسی تسلسل میں، 1992ء کے بعد پہلی مرتبہ ماضی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے چار بڑے اور معروف دینی تعلیمی اداروں جامعۃ الرشید کراچی، دارالعلوم جامعہ نعیمیہ لاہور، جامعة المدینہ کراچی (دعوتِ اسلامی) اور جامعہ الدراسات الاسلامیہ کے مدارس کی آخری سند "عالمیہ”کو بھی ایم اے کے مساوی درجہ دے دیا گیا۔یہ اقدامات نہ صرف دینی مدارس کے تعلیمی ڈھانچے میں ایک اہم تبدیلی کی علامت ہیں، بلکہ اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتے ہیں کہ ریاست نے اس مرحلے پر مدارس کی تنظیم، رجسٹریشن اور اسناد کی قبولیت کے معاملے میں ایک وسیع تر اور نسبتاً کھلے دائرۂ کار کی پالیسی اختیار کی، جس کے اثرات آنے والے وقت میں دینی و عصری تعلیم کے باہمی تعلق پر گہرے اثرات مرتب کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

نئے اور پرانے دینی مدارس کے وفاقات اور امتحانی بورڈز کے درمیان اختلاف اس وقت شدت اختیار کر گیا جب موجودہ حکومت کی جانب سے چھبیسویں آئینی ترمیم کا معاملہ منظرِ عام پر آیا۔ اس تناظر میں پہلے سے موجود پانچ دینی وفاقات کے مشترکہ پلیٹ فارم "اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ”نے مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے میں وہی رویہ اختیار کیا ،جو ماضی میں پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے معاملے میں اپنایا گیا تھا، یعنی “ڈائریکٹوریٹ آف ریلیجس ایجوکیشن” کو بھی مسترد کر دیا گیا۔حالانکہ ریکارڈ کے مطابق 7،اکتوبر 2010ء کو دستخط شدہ معاہدے کی شق نمبر 4 میں واضح طور پر تحریر تھا کہ( قانونی شناخت میں توسیع کے تحت ITMP کے پانچ بورڈز کو وزارتِ تعلیم کے دائرہ کار میں لایا جائے گا)، جسے وفاقات نے تسلیم بھی کیا تھا۔

اسی طرح 2019ء میں تحریری معاہدے الف کے مطابق ( آئندہ تمام دینی مدارس و جامعات، اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کے ساتھ طے شدہ رجسٹریشن فارم کے مطابق وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ رجسٹرڈ ہوں گے)، اور اس پر پانچ وفاقات کے اکابرین کے دستخط بھی موجود تھے۔اس سب کے باوجود، چھبیسویں آئینی ترمیم میں حکومت نے مولانا فضل الرحمن کی شرائط کو ترجیح دی، اور فیصلہ کیا کہ جو مدارس سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کروانا چاہتے ہیں، وہ اسی راستے سے رجسٹرڈ ہوسکتے ہیں ۔ یوں حکومتی دستاویزی معاہدات کے باوجود، وفاقات کی سیاسی طاقت اور رضامندی نے رجسٹریشن کے عمل اور ادارہ جاتی اختیار کے منظر نامے کو نئے تناظر میں ڈھال دیا۔

اس تمام صورتِ حال کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو یہ فیصلہ کرنا کسی بھی ذی شعور فرد کے لیے آسان نہیں کہ” ڈمی مدارس” اور” وفاق/ بورڈز "کون سے ہیں ؟۔ اگر 2021ء کے بعد قائم ہونے والے نئے بورڈز یا وفاقات کے تحت چلنے والے مدارس کو جعلی قرار دیا جائے تو تاریخی پس منظر ،اس دعوے کی نفی کرتا ہے، کیونکہ ان میں سے بیشتر دینی ادارے طویل عرصے سے عملاً موجود اور فعال رہے ہیں۔اسی طرح، اگر وہ مدارس جو پہلے پانچ معروف وفاقات میں شامل تھے اور 2021ء کے بعد علیحدہ ہو گئے، ان کی زمینی حقیقت اور عرصہ دراز فعالیت کو کس معیار پر اور کس بنیاد پر” ڈمی مدارس اور بورڈ”قرار دیا جا سکتا ہے؟ اگر چہ اسے غیر سنجیدہ الزام سمجھ لیا جائے تو یہ الزام ماضی بعید ( ضیائی دور اور اس کے بعد) ایک دوسرے مدارس اور بورڈز پر لگایا جاتا رہا ہے۔ یوں یہ معاملہ محض ایک سادہ درجہ بندی یا اصطلاحی اختلاف کا نہیں رہا۔ بلکہ اب ایک پیچیدہ تاریخی، انتظامی اور سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔اس پس منظر میں ایک ناگزیر سوال اور ابھرتا ہے۔کیا واقعی پاکستان میں” ڈمی مدارس” اور "جعلی بورڈز” کا بیانیہ کسی ٹھوس تعلیمی اور انتظامی حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے، یا یہ صرف وقتی سیاسی بیان بازی ، ضد، ہٹ دھرمی اور باہمی کشمکش کا شاخسانہ ہے، جس میں اصل حقائق کی پیچیدگی کو جان بوجھ کرنظر انداز کیا جا رہا ہے۔

سنجیدہ تقاضہ تو یہ ہے کہ اب 15 بورڈز/وفاق کے درمیان مقابلہ اس نوعیت کا ہونا چاہیئے کہ اپنے طلبہ و طالبات کودینی علوم میں مہارت کے ساتھ عصری چیلنجز سے نمٹنے اور معاشی ضرورت کا کتنا خیال رکھتے ہیں ۔ اس کے لیے لازمی ہے کہ دینی وفاقات تعداد یا اثر و رسوخ کی دوڑ میں وقت ضائع کرنے کے بجائے کارکردگی اور تعلیمی معیار کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ جب یہ اصولی قدم اٹھایا جائے گا تو یقیناً یہ مدارس معاشرے کو زیادہ مستحکم، علمی اور مفید نتائج فراہم کرنے کی صلاحیت کے حامل ہوجائیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے