امریکہ ڈائریز: قسط نمبر 5

ڈلاس میں شاندار تقریبات کے بعد جناب ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی صاحب کچھ ذاتی کاموں کے سلسلے میں کسی اور ریاست میں چلے گئے۔ میرے سامنے تھا امریکہ کا ایک لمبا سفر۔ اسی دوران فیس بک پہ ایک تصویر شیئر کرنے کے بعد ہمارے ایک کلاس فیلو کا میسج آیا کہ رحیم شاہ آپ ہمارے مہمان بنیں اور جارجیا آجائیں۔

انسان کے کلاس فیلوز عمر گزرنے کے بعد بہن بھائیوں جیسا روپ دھار لیتے ہیں۔ ان سے مل کر کیا خوب وقت گزرتا ہے یہ ہم سب زندگی کے کسی نہ کسی لمحے پہ سمجھ ہی جاتے ہیں۔

مجھے اس سے قبل جارجیا اور اس کے مرکزی شہر اٹلانٹا کا کوئی خاص اتا پتا نہ تھا۔ اللہ وقار صاحب کو خوش رکھے انہوں نے غالباً 65 ڈالر کی ایک فلائٹ بک کی اور ندیم بھائی نے ایئرپورٹ پہ چھوڑ آنے کا بندوبست کیا۔ شام کی 6:45 کی فلائٹ تھی۔اور ہم خوشی خوشی 5 بجے ایئرپورٹ پہ پہنچ چکے تھے۔ ویسے پی آئی اے کا نام بدنام ہے لیٹ ہونے کے حوالے سے۔ میں تو کہتا ہوں پی آئی اے اب بھی بہت شاندار سروسز مہیا کرتی ہے۔

میرے بھائی حمید شاہ پی آئی اے میں ملازم ہیں۔

پی آئی اے نے جس طرح والد صاحب اور والدہ کے آخری ایام میں بیماری کی مد میں ہماری امداد کی اس وجہ سے ہم سب بہن بھائی تا مرگ پی آئی اے کو دعا دیتے رہیں گے۔اللہ پی آئی اے کو ہمیشہ دنیا کی بہترین ایئر لائن میں رکھے آمین۔

امریکن ایئرلائن کی فلائٹ جو 6:45 پہ اڑنی تھی پہلے ایک دفعہ لیٹ کوئی 2 گھنٹے لیٹ ہوئی اور پھر ایک ایک گھنٹہ کرتے مزید 3 گھنٹے لیٹ ہوئی۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ میری پریشانی میں اضافہ ہوتا رہا۔کیونکہ 3 گھنٹے کی مسافت کے بعد مجھے اٹلانٹا پہنچنا تھا۔

مزید پریشانی یہ تھی کہ میری کلاس فیلو خاتون تھیں۔ پاکستانی فیملی چاہے پاکستان میں ہو یا امریکہ میں روایات ایک جیسی ہوتی ہیں۔ اب میری کلاس فیلو رات کو 3 بجے تو مجھے ایئرپورٹ سے پک کرنے سے رہی اور اس بات کا اندازہ مجھے 11 بجے جہاز کے ٹیک آف کے وقت ہی پتا چل گیا تھا۔ بہر حال ہم نے واپسی کے سب راستے زیاد کی طرح کشتیاں جلا کر ختم کر دیے تھے۔

کہانی مختصر مگر پورے جہاز میں ساتھ بیٹھی خاتون شراب پی پی کے نیم مدہوش تھیں اور ان کے منہ سے بھیانک بدبو میری پریشانی میں مزید اضافہ کر رہی تھی۔
ویسے اس رات اندازہ ہوا شراب کتنی خبیث چیز ہے۔ نہ بندے کو اپنی خبر نہ ساتھ والوں کی۔

اٹلانٹا ایئرپورٹ پہ اترے تو شکر کیا اور باہر آئے۔ اپنی کلاس فیلو کو بہت کالز ملائیں لیکن سب بے سود۔ اب سوچا کیا کیا جائے باہر آیا ایڈریس پہ جانے کے لیے ٹیکسی والے سے کرایہ پوچھا تو قریباً 125 ڈالرز مانگے۔ میں جو خود جیب میں 300 ڈالر لے کر امریکہ گھومنے چلا تھا دل ہی دل میں سر ہلایا اور فیصلہ کیا کہ بھائی کوئی لوکل بس یا ٹرین دیکھ لو ورنہ بینچ پہ ہی سو جانا۔

اسی تگ و دو میں ایئرپورٹ پہ آگے پیچھے گھوم رہا تھا کہ اچانک ایک چھوٹے قد کا سیاہ فام ہنستے مسکراتے چہرے کے ساتھ میری طرف آتا ہوا دکھا۔

میں نے چونکہ پشتون پکول پہنی ہوئی تھی اسی لیے چابکدستی کے ساتھ بولا کیا آپ افغانستان سے ہیں۔ میں نے کہا بھائی میں افغانستان پاکستان سرحدی علاقے سے ہوں اور ہوں پاکستانی مگر آپ نے کیسے پہچانا۔ انہوں نے کہا میں افغانستان میں ڈسپنسر تھا۔ پھر پیراگلائڈنگ کے دوران ٹانگ ٹوٹی اور اب ایئرپورٹ پہ ڈیوٹی کرتا ہوں۔ آپ کی پکول سے آپ کو پہچانا کہ آپ شاید افغانستان سے ہیں۔

اور مزید یہ کہ آپ لوگ تو بہت مہمان نواز ہیں۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی پوچھا کہ کوئی لوکل ٹرین ہے جو مجھے بتائے ہوئے پتے کے آس پاس اتار دے۔
اس بندے کی مہربانی جس نے جلدی سے میرا ہاتھ پکڑ کر۔کہا ابھی آخری ٹرین نکل رہی ہے جلدی آجاؤ۔ میں نے کہا ٹکٹ، کہتے ہیں میرے کارڈ میں پیسے ہیں ڈبل سوائپ کر لیں گے۔ آپ بس جلدی آجائیں۔

ڈوبتے کو تنکے کا سہارا اور جلدی سے ٹرین میں بیٹھے۔
انہوں نے بھی میری کلاس میٹ کو ڈھیر ساری کالز ملائیں مگر کوئی افاقہ نہ ہو سکا۔ میں نے قریب کسی ہوٹل کا پوچھا تو کہا کہ بہتر ہے آپ ہوٹل میں نہ رہیں سیف نہیں ہے۔ یہاں زیادہ تر ڈرگز ڈیلر اور مافیا ہوتے ہیں۔ رات کے اس پہر آپ کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ میں مزید ڈر گیا مگر خود کو سنبھالے رکھا اور اس بندے سے پوچھا بھائی آپ کے گھر ہی ٹھہر لیتا ہوں صبح نکل جاؤں گا۔

اس نے کہا بھائی میرا چھوٹا سا کاٹیج ہے پتہ نہیں آپ کو پسند آئے یا نہ آئے۔ اسی دوران پلیٹ فارم آیا ہم اترے مگر سانس تب رکی جب جیسے ہی ہم سب وے سے باہر آئے اور وہاں ایمبولینس اور پولیس کی گاڑیاں کھڑی تھیں۔ مجھے لگا شاید آج گوانتانامو کی جیل میں لے جائیں گے۔ مجھے کیا پتا تھا کہ ایک اور سیاہ فام کے پیٹ میں مروڑ تھا اور اس نے ایمبولینس کو کال ملائی تھی۔ پہلے بہت ڈرا پھر امریکی نظام پہ رشک آیا کہ دیکھو کس قدر ایمرجنسی رسپانس کے ماہر ہیں یہ لوگ اور مربوط نظام بنایا ہوا ہے شاید یہی چیز ان کو سپر پاور بنا دیتی ہے۔

اس بندے کو جس نے مجھے ایئرپورٹ پہ مدد کی اس کو روزانہ کی بنیاد پہ ایک ٹیکسی اس مقام سے اپنے ساتھ 15 منٹ کی مسافت پہ ایک کاؤنٹی میں 5 ڈالر پہ ڈراپ کرتی تھی۔ اس بھائی نے مجھے ٹیکسی میں بیٹھنے کا کہا اور ساتھ دوسرے سیاہ فام جس کے پیٹ میں مروڑ تھا اس کی مدد میں مصروف ہو گیا۔ ٹیکسی والے نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ وہ افریقہ کے کسی ملک سے ہے اور میرے پاکستانی ہونے کا پتا چلتے ہی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی تعریف کرنے لگا۔ مجھے اور میرے خاندان میں سب کو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو بہت اچھی لگتی ہیں۔

ایسی ایمرجنسی ٹائم میں ان کا نام سن کر عجیب خوشی اور فخر کا احساس ہونے لگا۔

اس بھائی نے بھی یہی مشورہ دیا کہ میں اپنی کلاس فیلو کا انتظار کروں مگر سود مند نہ ہوئی کوششِ تمام، تو ہم نے سوچا دیارِ غیر میں نیم شب سے سورج کی پہلی کرنوں تک یہ رات صبح کرنے کا محفوظ طریقہ یہی ہے کہ اسٹیون چیسٹ نٹ (Steven Chestnut) کے ساتھ رکا جائے۔

میں نے یہی بات اس نائیجیرین ٹیکسی ڈرائیور سے کہی اور انہوں نے "ہاں سر” کہا کیونکہ وہ اسٹیون کو کافی سالوں سے جانتے تھے۔ جب ہم ایک کاؤنٹی میں، جہاں اسٹیون کا گھر تھا، پہنچے تو دھیمی دھیمی بارش کی بوندیں برس رہی تھیں۔ رم جھم بارش اور سامنے اسٹیون کا دو کمروں کا چھوٹا سا کاٹیج۔ اللہ نے کل تک پاکستانی مہمان نوازی سے نوازا، آج ایک کرسچن سیاہ فام کے گھر تشریف آوری ہوئی، سب پہ اللہ کا شکر۔

میں نے اسٹیون کو راستے میں اس کی باتوں سے ایک اچھا اور سلجھا ہوا انسان پایا تھا، اس لیے گھر میں داخل ہونے کے بعد ہی اس سے درخواست کی کہ ہم مسلمان چونکہ پانچ وقت نماز پڑھتے ہیں اور میری مغرب اور عشاء کی دو نمازیں جہازوں کی اس بھاگ دوڑ اور دیر سویر میں رہ گئی ہیں، لہٰذا اگر آپ برا نہ مانیں تو میں نماز پڑھ لوں۔ اس کرسچن نے جس محبت سے مجھے ہاں کہا اور خوش ہوا اور بولا: "بھائی چھوٹا سا کاٹیج ہے، جہاں جگہ ملے نماز پڑھ لو۔” وضو کیا، ایک کونے میں نماز پڑھی اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس نے ایک کپ اچھی سی کافی پلائی۔

اسٹیون ایک انتہائی باادب اور ادبی ذوق کا حامل آدمی ہے۔ آج بھی رابطہ رہتا ہے۔ وہ موسیقی کا دلدادہ ہے۔ میں جب اس کے گھر میں داخل ہوا تو اس نے اپنے کمرے میں پورا اسٹوڈیو بنایا ہوا تھا۔ کی بورڈ سامنے، اسٹوڈیو مائیک اور ایک بڑا کمپیوٹر۔ مجھے کہتا ہے: "رحیم! میں جب تھک جاتا ہوں تو موسیقی سے اپنا دل بہلاتا ہوں۔” باتوں باتوں میں اس کو میں نے اپنی آواز گنگنا کر سنائی جو اسے پسند آئی اور ہم نے پشتو شاعری کے ساتھ انگریزی موسیقی کا ایک فیوژن گانا بھی گایا اور وہ ریکارڈ کیا جو آج تک میرے پاس محفوظ ہے۔

موسیقی سے فراغت کے بعد میں نے اور اسٹیون نے بین المذاہب مضامین پر گھنٹوں گفتگو کی۔ مجھے سورۂ فلق کی تمام تفصیلات جو ایک کمزور مسلمان کی حیثیت سے آتی تھیں، وہ ان کو سمجھائیں۔ اور جس بلا کی خاموشی اور سنجیدگی سے اسٹیون نے میری باتیں سنیں، میں آج تک حیران ہوں۔

ہمارے علماء کہیں بھی بیٹھ کر امریکہ کو بددعائیں دینا شروع کر دیتے ہیں۔ میری گزارش اتنی سی ہے کہ وہاں تو اسٹیون جیسے عیسائی بھی رہتے ہیں جو سنجیدگی میں اپنا مقام رکھتے ہیں۔ ہمیں بددعائیں دینے سے پہلے نبی ﷺ کے ایسے امتیوں کو اپنا پیغام بھی دینا چاہیے۔

صبح ہوئی، ناشتہ کہاں کیا اور بالآخر اٹلانٹا میں اپنے کلاس فیلو کے دفتر کیسے پہنچے، یہ سب اگلی قسط میں انشاء اللہ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے