روزمرہ کثیر لسانیت اور گلگت بلتستان میں شینا زبان کا مستقبل

گلگت بلتستان ایک ایسا خطہ ہے جہاں قدیم ثقافتیں اور زبانیں آج بھی زندہ ہیں۔ اس خطے کی سب سے بڑی مقامی زبان شینا ہزاروں افراد کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ شینا نہ صرف ایک رابطے کا ذریعہ ہے بلکہ اس خطے کی ثقافتی شناخت، تاریخ، اور روایات کا بھی اہم جزو ہے۔ لیکن موجودہ دور میں عالمی رجحانات اور تعلیمی و سماجی دباؤ نے شینا کی اہمیت کو کم کر دیا ہے۔ نوجوان نسل میں اردو اور انگریزی کو ترجیح دینا، ملازمتوں کے مواقع، تعلیم میں تسلسل، اور میڈیا کی ترقی نے شینا کو محدود علاقوں تک محدود کر دیا ہے۔

دنیا کے کچھ ممالک میں کاروباری اور تعلیمی ادارے روزمرہ کی بنیاد پر کثیر لسانی کمیونیکیشن کو اپنا رہے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مختلف زبانیں بولنے والے افراد بغیر کسی رکاوٹ کے ایک ساتھ مؤثر انداز میں کام کر سکیں۔ یہ تصور صرف کاروباری اداروں تک محدود نہیں، بلکہ شینا کے لیے بھی روزمرہ زندگی میں اسے اپنانا ضروری ہے۔ اگر شینا کو صرف ثقافتی یا گھریلو زبان سمجھا جائے تو یہ مستقبل میں خطرے کا شکار ہو سکتی ہے۔ لہٰذا ہمیں شینا کو روزمرہ استعمال اور عملی زندگی میں شامل کرنے کے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ یہ زبان زندہ اور قابل عمل رہے۔

شینا زبان کی اہمیت اور تاریخی پس منظر

شینا زبان گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں بولی جاتی ہے، جن میں گلگت، دیامر، استور، دریل-تنگیر، روندو اور پونیال غذر شامل ہیں۔ یہ زبان نہ صرف مقامی لوگوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے بلکہ اس کی ادبی روایت بھی قدیم ہے، جس میں کہانیاں، لوک قصے، گانے، اور روایتی اشعار شامل ہیں۔ شینا میں تاریخی دستاویزات اور مقامی روایات محفوظ ہیں، جو خطے کی تاریخ، مذہبی تعلیمات، اور سماجی رسم و رواج کو بیان کرتی ہیں۔

تاہم آج کے دور میں شینا کو خطرات لاحق ہیں۔ اسکولوں میں اردو اور انگریزی کا غلبہ، سرکاری اور کاروباری اداروں میں غیر مقامی زبانوں کا استعمال، اور میڈیا میں شینا کی کمی نے اسے محدود اور کمزور کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، نوجوان نسل کی زندگی میں موبائل فون، سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع پر اردو و انگریزی کا غلبہ بھی شینا کے استعمال کو کم کر رہا ہے۔

روزمرہ کثیر لسانیت کا تصور اور شینا

دنیا میں کثیر لسانی کام کی مثالیں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ زبان کو روزمرہ کے معمولات میں شامل کرنا اسے زندہ رکھتا ہے۔ عرب دنیا میں، کمپنیوں نے روزانہ کی بنیاد پر مختلف زبانوں میں رابطہ، تربیت، اور اجلاس اپنائے ہیں، اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر شخص اپنی مادری زبان یا دوسرا جانا پہچانا ذریعہ استعمال کر کے بہتر کام کر سکے۔ اسی اصول کو شینا کے لیے مقامی سطح پر ڈھالا جا سکتا ہے۔

شینا کے لیے روزمرہ کثیر لسانیت کا مطلب یہ ہے کہ زبان کو صرف ثقافتی یا گھریلو استعمال تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ تعلیم، میڈیا، مقامی کاروبار، اور کمیونٹی پروگرامز میں شامل کیا جائے۔ اس سے زبان کی بقا کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل میں اس کے استعمال کی عادت پیدا ہوگی۔

شینا کے لیے عملی اقدامات

1. تعلیمی اداروں میں شینا کا ادغام

ابتدائی تعلیمی اداروں میں شینا کو نصاب میں شامل کیا جائے۔ یہ بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے ضروری ہے کیونکہ ماں بولی میں تعلیم سے سیکھنے کی صلاحیت زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ شینا میں کتابیں، نصاب، اور پڑھائی کے وسائل تیار کیے جائیں تاکہ بچوں کو اپنی مادری زبان میں علم حاصل کرنے کا موقع ملے۔ ابتدائی تعلیم میں شینا کی شمولیت ثقافتی شناخت کو مضبوط کرتی ہے اور بچوں کو اپنی جڑوں سے جوڑتی ہے۔

2. ڈیجیٹل وسائل اور ٹیکنالوجی کا استعمال

شینا کو زندہ رکھنے کے لیے ڈیجیٹل وسائل تیار کرنا ضروری ہے۔ موبائل ایپلیکیشنز، آن لائن لغات، آڈیو اور ویڈیو کورپس، اور سوشل میڈیا چینلز کے ذریعے نوجوان شینا میں بات چیت کر سکیں۔ یہ عمل عرب دنیا کی طرح روزانہ کثیر لسانیت کو فروغ دیتا ہے، مگر اس کا مقصد ثقافت کی بقا اور روزمرہ میں زبان کا استعمال ہے۔

3. مقامی کاروبار اور مارکیٹ میں شینا

بازاروں، سیاحت، ہوٹلوں، اور مقامی کاروباری مراکز میں شینا کا استعمال بڑھایا جائے۔ سائن بورڈز، اشتہارات، اور کسٹمر سروس میں شینا کو شامل کرنا نہ صرف زبان کو زندہ رکھتا ہے بلکہ مقامی معیشت میں اس کی عملی اہمیت کو بھی بڑھاتا ہے۔ اس طرح نوجوان شینا کو بطور عملی زبان استعمال کرنے کی عادت پیدا کریں گے۔

4. میڈیا اور نشریات

شینا میں ریڈیو پروگرامز، پوڈکاسٹ، خبریں، اور تفریحی مواد نشر کیے جائیں۔ اس سے زبان روزمرہ زندگی میں استعمال ہوتی رہے گی اور نوجوان نسل کو اپنی مادری زبان سے جوڑے گی۔ میڈیا میں شینا کی موجودگی اس کی بقا کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ نوجوان زیادہ تر معلومات اور تفریحی مواد میڈیا کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔

5. کمیونٹی اور پالیسی سازی

شینا کے فروغ کے لیے مقامی کمیونٹی گروپس، لسانی ادارے، اور والدین کے تنظیمیں سرکاری سطح پر اقدامات کی حمایت کریں۔ اسکولوں، سرکاری دفاتر، اور کمیونٹی پروگراموں میں شینا کو شامل کرنا زبان کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ مقامی پالیسی سازی میں شینا کو شامل کرنے سے نہ صرف زبان محفوظ ہوگی بلکہ نوجوان نسل میں اس کے استعمال کی اہمیت بھی بڑھے گی۔

شینا کی بقا اور مستقبل

شینا کے لیے یہ اقدامات نہ صرف زبان کی بقا کے لیے اہم ہیں بلکہ ثقافتی شناخت، تعلیم، اور سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی ضروری ہیں۔ اگر شینا کو روزمرہ زندگی میں شامل نہ کیا گیا تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے صرف ایک یادگار زبان بن جائے گی۔ روزانہ کی بنیاد پر شینا کا استعمال، چاہے تعلیم، میڈیا، یا کاروبار میں ہو، اس کے مستقبل کی ضمانت ہے۔

دنیا کے کاروباری ماڈلز سے سبق لیتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ زبان کا روزانہ استعمال اس کی بقا کی کلید ہے۔ شینا کو صرف تاریخی یا ثقافتی زبان کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ اسے عملی، تعلیمی اور سماجی زبان کے طور پر اپنانا ہوگا۔ اس طرح یہ نسلوں تک زندہ رہے گی اور گلگت بلتستان کی ثقافت، ادب، اور شناخت کو مضبوط کرے گی۔

نتیجہ

شینا زبان گلگت بلتستان کا ثقافتی اور تعلیمی ورثہ ہے۔ موجودہ دور میں اسے خطرات لاحق ہیں، مگر درست حکمت عملی اور روزمرہ میں اس کے استعمال سے اسے زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ تعلیمی ادارے، میڈیا، کمیونٹی پروگرامز، اور مقامی معیشت میں شینا کا استعمال بڑھا کر ہم اس زبان کی بقا، نوجوان نسل کی شناخت، اور خطے کی ثقافت کو محفوظ کر سکتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے