8 ملین لوگ تاریخی بسنت 2026 کو اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ منائیں گے۔
محفوظ بسنت کیلئے خاتون وزیر اعلیٰ مریم نواز کو کریڈیٹ جاتا ہے۔ والدین بچوں کی محفوظ پتنگ بازی پر رہنمائی کریں۔
محفوظ بسنت کے حوالے سے مقامی تعلیمی ادارے میں خصوصی ٹاک پر پروگرام طالبات نے سوالوں جواب کے سیشن میں حصہ لیا۔
لاہور بسنت فیسٹیول کے سابق آرگنائزر سید ذوالفقار حسین نے کہا کہ بسنت منانا لاہور شہر کی ثقافت کو برقرار رکھنے، لوگوں کو مختلف ذہنی دباؤ سے باہر نکالنے اور بین الاقوامی برادری کے سامنے پاکستان کی سافٹ امیج اجاگر کرنے کے لیے ضروری ہے۔ آخری بسنت 2007 پانچ میلن لوگوں نے منائی تھی لیکن اب تقریباً 8 ملین لوگ اس تاریخی بسنت 2026 کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ساتھ منائیں گے۔ اس فیسٹیول سے تقریباً 20 ارب روپے سے زائد کاروباری سرگرمیاں جس میں سیاحت، ہوٹل کی صنعت، ٹرانسپورٹ، دھاگے اور کاغذ، خوراک کی صنعت، اور تجارتی صنعت وغیرہ کو فروغ ملے گا۔
سید ذوالفقار حسین مقامی تعلیمی ادارے طالبات سے محفوظ بسنت کیسے منائی جائے، تاریخی پس منظر کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہں۔ پروگرام انگلش لٹریری سوسائٹی کی جانب سے نفسیات ڈیپارٹمنٹ، سوشل ورک اور ڈرگ ایڈوایزری ٹریننگ حب لاہور کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیسٹیول ایک صنعت بن چکا ہے، جس کے ذریعے ہزاروں لوگ کا روز گار وابستہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سارا کریڈٹ ہماری خاتون وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو جاتا ہے جنہوں نے بسنت تہوار کی اجازت دی ہے اگر پنجاب میں مرد وزیر اعلیٰ ہوتا تو لاہور شہر میں بسنت کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ تقریبا 5.6 ملین موٹر سائیکلیں ایکسائز ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ میں رجسٹرڈ ہیں لیکن 0.7 ملین موٹر سائیکلیں لاہور شہر میں غیر رجسٹرڈ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 کے تحت اس تقریب کے لیے نئے قواعد و ضوابط وضع کیے ہیں اور لاہور کے لوگوں کو 6، 7 اور 8 فروری 2026 کو پتنگ بازی کے ساتھ بسنت کی اجازت دی۔ نوجوان گڈا تاوا، ڈھیر تاوا اور 9 پلائی تاروں کے ساتھ دور پینہ استعمال کر سکتے ہیں نوجوان 1 فروری سے پتنگیں اور ڈور خرید سکتے ہیں اور 8 فروری کے بعد تمام گڈی ڈور ختم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی بہت اہم ہے اور والدین اپنے بچوں کو پتنگ اڑانے کے محفوظ طریقے سکھائیں۔