شبِ برات: محاسبے کی رات

انسان کی زندگی میں کچھ راتیں ایسی آتی ہیں جو محض وقت کا ایک گزر جانے والا حصہ نہیں ہوتیں بلکہ پورے وجود کو مخاطب کرتی ہیں۔ یہ راتیں انسان کو اس کے باطن سے آشنا کرتی ہیں، اس کے ضمیر کو جھنجھوڑتی ہیں اور اسے یاد دلاتی ہیں کہ زندگی محض سانس لینے کا نام نہیں بلکہ ایک دن جواب دہی کا سامنا بھی ہے۔

شبِ برات بھی انہیں راتوں میں سے ایک ہے۔ یہ رات انسان کو یہ احساس دلانے آتی ہے کہ دنیا کی چمک دمک عارضی ہےطاقت، دولت اور شہرت فانی ہیں، اور اصل کامیابی اس دن ہے جب بندہ اپنے رب کے حضور سرخرو ہو۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے اس عظیم رات کو بھی دیگر مذہبی مواقع کی طرح رسموں، عادتوں اور ظاہری اہتمام کی نذر کر دیا ہے، حالانکہ یہ رات انسان کو اندر سے بدلنے، دل کو نرم کرنے اور زندگی کی سمت درست کرنے کے لیے آتی ہے۔

شبِ برات کا مفہوم ہی نجات اور آزادی کا ہے، یعنی وہ رات جس میں بندے کو گناہوں کے بوجھ سے چھٹکارا نصیب ہو سکتا ہے۔ مگر یہ چھٹکارا کسی خودکار عمل کے ذریعے نہیں ملتا بلکہ اس کے لیے ندامت، عاجزی اور سچی توبہ شرط ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اپنی شانِ رحمت سے بے شمار بندوں کی مغفرت فرما دیتے ہیں، مگر مشرک اور کینہ رکھنے والا اس عام مغفرت سے محروم رہتا ہے (سنن ابن ماجہ)۔ اس ایک حدیث میں ہمارے لیے پورا پیغام موجود ہے کہ عبادت کے ساتھ دل کی صفائی بھی ضروری ہے، اور اللہ سے تعلق کے ساتھ بندوں سے تعلق درست ہونا بھی لازم ہے۔

قرآنِ کریم ہمیں یہ حقیقت بتاتا ہے کہ کچھ راتیں ایسی ہیں جن میں بڑے بڑے فیصلے ہوتے ہیں۔ سورۃ الدخان میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس رات ہر حکمت والا معاملہ طے کیا جاتا ہے۔ مفسرین کی ایک جماعت کے مطابق اگرچہ حتمی فیصلے اللہ کے علمِ ازلی میں پہلے سے موجود ہیں اور ان کا تعلق لیلۃ القدر سے بھی ہے، مگر شعبان کی اس رات سال بھر کے معاملات کی تفصیل فرشتوں کے حوالے کی جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین اس رات کو بے فکری میں گزارنے کے بجائے عبادت، دعا اور محاسبے میں بسر کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ رات انسان کو خود سے سوال کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ اگر آج زندگی کا فیصلہ ہو جائے تو اس کے پاس اپنے رب کے حضور پیش کرنے کے لیے کیا ہے۔

نبی کریم ﷺ کا اس رات کے بارے میں طرزِ عمل ہمارے لیے سب سے روشن رہنمائی ہے۔ آپ ﷺ نے نہ کبھی اس رات کو تہوار بنایا، نہ اس کے لیے کسی خاص رسم کا اہتمام فرمایا، نہ چراغاں کیا اور نہ شور و غوغا کو پسند فرمایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے بستر پر نہ پایا، تلاش کیا تو آپ ﷺ جنت البقیع میں دعا فرما رہے تھے (سنن ترمذی)۔ یہ منظر ہمیں بتاتا ہے کہ شبِ برات کی اصل روح خاموش دعا، عاجزی اور امت کے لیے خیر خواہی ہے، نہ کہ دکھاوا اور نمائش۔

آج ہمارے معاشرے میں شبِ برات کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اس رات کے اصل پیغام سے کوسوں دور ہے۔ آتش بازی، چراغاں، غیر ضروری ہجوم اور محض روایتی عبادت نے اس رات کی روح کو دھندلا دیا ہے۔ ہم اس رات آنسو بھی بہاتے ہیں، دعائیں بھی مانگتے ہیں، مگر اگلے ہی دن وہی زبانیں جھوٹ بولتی ہیں، وہی ہاتھ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں اور وہی دل حسد اور کینہ سے بھرے رہتے ہیں۔ اگر شبِ برات واقعی ہماری زندگی میں اتر جاتی تو ہمارے بازاروں میں دھوکہ نہ ہوتا، ہمارے لین دین میں خیانت نہ ہوتی اور ہمارے گھروں میں ناانصافیاں نہ ہوتیں۔

یہ رات ہمیں حقوق العباد کی اہمیت بھی یاد دلاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے قیامت کے دن مفلس کی جو تعریف بیان فرمائی، وہ دلوں کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ فرمایا کہ مفلس وہ ہے جو نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے، مگر اس نے کسی کو گالی دی، کسی پر ظلم کیا، کسی کا مال کھایا، تو اس کی نیکیاں ان لوگوں میں بانٹ دی جائیں گی اور آخرکار وہ خسارے میں رہے گا (صحیح مسلم)۔ شبِ برات ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ کے حقوق کے ساتھ بندوں کے حقوق ادا کرنا بھی نجات کے لیے ضروری ہے۔

آج ہمارا معاشرہ اخلاقی بحران کا شکار ہے۔ ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، جھوٹ، وعدہ خلافی، سود، ناانصافی اور بے حسی عام ہو چکی ہے۔ ایسے حالات میں شبِ برات ہمیں آئینہ دکھاتی ہے کہ اگر آج ہمارے اعمال کا فیصلہ ہو جائے تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے۔ یہ رات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی مہلت ہے، ضمانت نہیں، اور ہر لمحہ ہمیں اللہ کے قریب بھی لے جا سکتا ہے اور اس سے دور بھی۔

شبِ برات کے نام پر رائج بدعات بھی اسی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ دین نے ہمیں سادگی، اعتدال اور اخلاص سکھایا ہے، مگر ہم نے دین کو رسموں اور ظاہری اہتمام کا مجموعہ بنا لیا ہے۔ نہ نبی ﷺ سے آتش بازی ثابت ہے، نہ مخصوص کھانوں کا اہتمام، نہ کسی خاص اجتماعی نماز کا التزام۔ اصل عمل وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ نے سکھایا: توبہ، دعا، استغفار اور دل کی اصلاح۔ اگر ہم نے اس رات کو بدعات میں گنوا دیا تو ہم نے اس کے مقصد کو کھو دیا۔

یہ رات فرد ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کو بدلنے کا پیغام دیتی ہے۔ اگر ہر شخص اس رات یہ عہد کر لے کہ وہ ظلم نہیں کرے گا، دھوکہ نہیں دے گا، حق تلفی نہیں کرے گا اور اپنے معاملات کو درست کرے گا، تو معاشرہ خود بخود سنورنے لگے۔ شبِ برات دراصل نئی شروعات کی دعوت ہے، پرانی غلطیوں کو دفن کرنے اور آئندہ زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزارنے کا عزم کرنے کی رات ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ شبِ برات کوئی جادوئی رات نہیں جو ہمیں بغیر بدلے معاف کر دے، بلکہ یہ ایک موقع ہے، ایک امتحان ہے اور ایک پکار ہے۔

جو اس پکار پر لبیک کہتا ہے، وہ کامیاب ہو جاتا ہے، اور جو اسے محض رسم سمجھ کر گزار دیتا ہے، وہ محروم رہ جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس رات کو آتش بازی سے نہیں، آنسوؤں سے منائیں، چراغاں سے نہیں، دلوں کی روشنی سے سجائیں، اور محض عبادت سے نہیں بلکہ کردار کی اصلاح سے زندہ کریں۔ اگر شبِ برات کے بعد ہمارے دل نرم ہو جائیں، ہماری زبانیں سچ بولنے لگیں، ہمارے ہاتھ ظلم سے رک جائیں اور ہمارے قدم نیکی کی طرف بڑھنے لگیں، تو سمجھ لیجیے کہ ہم نے اس رات کو پا لیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس رات کی قدر پہچاننے، اس کے پیغام کو سمجھنے اور اسے اپنی زندگی میں اتارنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں ان خوش نصیب بندوں میں شامل فرمائے جنہیں حقیقی برات نصیب ہو۔ آمین

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے