کیا دنیا چلانے کی بھی کوئی عمر ہوتی ہے ؟

دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے ۔ ہم نے چند ہی دہائیوں میں اتنا کچھ دیکھ لیا ہے جو پچھلی ہزار نسلوں نے مل کر بھی نہ دیکھا ہوگا۔ اور آج ہم نے چند ہی سالوں میں مصنوعی ذہانت کے انقلاب کو بھی پالیا۔ مگر ایک چیز جو بہت ہی سست روی سے بدلتی ہے وہ ہے ہماری قیادت۔

کیا دنیا چلانے کی بھی کوئی عمر ہوتی ہے ؟

ہمارے قائدین باری باری حکومت کرتے رہتے ہیں اور تب تک ریٹائر نہیں ہوتے جب تک مر نہیں جاتے۔ دنیا کے بڑے ممالک کے حکمرانوں کی عمریں دیکھیں تو تقریبا سارے ہی 70 سال سے اوپر کے ہیں۔صدر ٹرمپ 79، ولادمیر پوٹن ،73 شی چنگ پنگ ،72 نریندر مودی 75 اور ہمارے شہباز شریف بھی 74 سال کے ہیں یعنی 70 سے اوپر کے ہی ہے۔ اب ذرا سوچیے کہ اگلے 20 سالوں میں شاید ہی یہ لوگ ہوں گے لیکن ان کے کیے فیصلوں کا اثر 50 سالوں تک جاتا ہے۔

کیا اپ کو نہیں لگتا کہ حکمرانی کرنے کے لیے بھی کوئی عمر کی حد ہونی چاہیے ؟ یہ بات تو بجا ہے کہ عمر کے ساتھ ساتھ تجربہ بڑھتا ہے لیکن پہلے کے لوگ بھی محض جنگی تجربے کی بنا پر بوڑھے گھوڑے کو جنگ میں نہیں اتارتے تھے۔ مطلب یہ کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ کچھ کمزوریاں بھی آتی ہیں۔

ہمارے دماغ کا ایک مینجمنٹ سسٹم ہوتا ہے جسے ایگزیکٹو فنکشن کہتے ہیں یہ ہمیں منصوبہ بنانے توجہ دینے اور ہدایات یاد کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ حالات بدلنے پر اپنی سوچ بدلنا ، جذباتی عمل سے رکنا اور غلط فیصلے سے رکنا جیسے کام بھی دماغ کا یہی سسٹم کنٹرول کرتا ہے۔ یہ دماغ کا وہ حصہ ہے جسے میچور ہونے میں بہت دیر لگتی ہے مگر سب سے پہلے کمزور یہی ہوتا ہے۔

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی پروسیسنگ سپیڈ کم ہو جاتی ہے ۔یادداشت کمزور ہوتی ہے، دباؤ برداشت کرنے میں مشکل ہوتی ہے اور فالتو چیزوں کو فلٹر کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً انسان پرانے طریقوں پر انحصار کرنے لگتا ہے اور جب حالات نئے طریقے مانگیں تو ذہن مزاحمت کرتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ عمر رسیدہ اور بزرگ لوگ تھوڑے ضدی ہو جاتے ہیں. اپنے فیصلوں پر اڑے رہتے ہیں اور نئے طور طریقوں کو نہیں اپناتے .یہ تمام دنیا میں اسی طرح موجود ہے۔ اب ذرا دیکھئے کہ مصنوعی ذہانت نے پچھلے دو تین سالوں میں خوب ترقی کی۔ معاشرے پر اس کے مثبت اثرات کے ساتھ ساتھ منفی اثرات بھی خوب نظر آرہے ہیں۔ مگر ابھی تک اس ضمن میں خاص پالیسیاں نہیں بن پا رہی۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو لوگ پالیسی بنانے کے ذمہ دار ہیں وہ سرے سے ہی اس ٹیکنالوجی کو نہیں سمجھتے لہذا وہ کیا ہی پالیسی بنائیں گے؟

یہ مسئلے کا صرف ایک پہلو ہے ۔ہماری کئی ایسے مسائل ہیں جو آنے والے دور کے لیے بہت ضروری ہیں کہ حل ہوں لیکن ہمارے بوڑھے حکمرانوں کو سمجھ نہیں آتے ۔حال ہی میں نیپال کے وزیراعظم ایک نوجوان شخص بنے جو پیشے کے اعتبار سے گلوکار تھے۔ حکومت میں آتے ہی انہوں نے نئی اصلاحات کی اور اسے تمام عوام کے لیے شائع بھی کیا کہ وہ آگے کیا کیا کرنے جا رہے ہیں۔ وہاں کی عوام اب ان کے ساتھ زیادہ تعلق محسوس کر رہی ہے کیونکہ نئے مسائل کا حل انہیں پرانے ذہنوں میں نظر نہیں آرہا۔

ذرا خود سے ایک سوال پوچھئے ۔ حکومت و سیاست نوکری ہے یا خدمت ؟ اگر یہ خدمت ہے تو پھر بڑی بڑی تنخواہیں اور اتنی ساری مراعات کیوں؟ اور اگر یہ نوکری ہے تو پھر عمر کی حد کیوں نہیں ؟؟؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے