پی ٹی آئی میں دائرے کا ایک دلچسپ سفرچل رہا ہے۔نمبر نمبر سے ایک انقلابی آتا ہے، دائرے کا چکر کاٹتا ہے اور گھر چلاجاتا ہے۔انقلابی اس شخص کو کہتے ہیں جس کے کندھوں پر فیصلے کا بوجھ نہیں ہوتا۔طبیعت میں اکڑ ہوتی ہے۔بات کاٹتا ہے راستہ روکتا ہے۔ رکھ رکھائو اور وضع داری کو منافقت سمجھتا ہے۔بات چیت کا امکان آجائے تو فورا مسترد کر دیتا ہے۔گاڑی کی بیک اسکرین پر بھی ایبسولٹلی ناٹ لکھوا دیتا ہے۔پرچی دیکھے بغیر تقریر کرنے کولیڈر شپ کوالٹی سمجھتا ہے۔وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ صوبائی حکومت کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ عمران خان کو رہا کروائے۔
ان صفات کا حامل شخص پختونخوا سے ہو تو پی ٹی آئی اسے وزیر اعلیٰ نامزد کردیتی ہے۔نامزدگی کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ کا ہنی مون پیریڈ شروع ہوجاتا ہے۔سب سے حسین لمحہ وہ ہوتا ہے جب اس نے صوبائی اسمبلی سے پہلا خطاب کرنا ہوتا ہے۔خطاب کا لمحہ جیسے جیسے قریب آتا ہے انقلاب کاپارہ ویسے ویسے چڑھتا چلاجاتا ہے۔اسمبلی کے دروازے کھلتے ہیں۔زمانے کا سب سے غیرت مند لڑکا عمران خان کی تصویر اٹھائے ہال میں داخل ہوتا ہے۔ایاک نعبد وایاک نستعین کے بعد ایسے اشعار پڑھتا ہے جو سرکاری اسکول کالجوں کی بزموں میں بھی متروک ہوچکے ہوتے ہیں۔شعر کے سارے اوزان توڑ تاڑ کر زبردستی بیچ میں خان صاحب کو بٹھاتاہے۔گفتگو شروع کرتا ہے تو ترقیاتی منصوبوں سے بچ بچاکر چلتا ہے۔کہیں لوگ یہ نہ سوچیں کہ انقلابی ہوکر بھی دنیا داری کی باتیں کر رہا ہے۔عمران خان کی رہائی کو بطور وزیر اعلیٰ اپنا پہلا اور آخری ہدف بتاتا ہے۔ماردوں گا ادھیڑ دوں گا جیسے الفاظ کی جگالی کرتا ہوا یوٹیوبرز کے حوالے ہوجاتا ہے۔
ہنی مون پیریڈ میں کچھ لمحے فیتے کاٹنے والے ہوتے ہیں۔انقلابی وزیراعلیٰ ان لمحوں کو بھی عوامی جلسوں کے طور پرلیتا ہے۔وہ کانووکیشن میں مہمان خصوصی ہوتا ہے، مگر اس نے وہی آموختہ دہرانا ہوتا ہے جو خان صاحب نے رٹایا ہواہے۔خدا نخواستہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بات کرنی پڑ جائے تو فلٹر میں کچرا آجاتا ہے۔زبان رک رک کر پھنس پھنس کر چلنے لگتی ہے۔جیسے ہی چور ڈاکو والی گردان آتی ہے زبان مکھن ملائی ہوجاتی ہے۔وزیر اعلیٰ اگلی نسل کو نصیحت بھی کرتا ہے۔دیکھو بچو ذہنی غلام نہیں بننا ہے۔میرے جیسا آزاد پرندہ بننا ہے اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب تمہیں میری طرح عشق عمران میں فوت ہونے کا طریقہ آتا ہوگا۔
اس ہنی مون پیریڈ کا آخری حسین لمحہ وہ ہوتا ہے جب وزیر اعلیٰ کو پہلی بار لوگوں کو لیکر اسلام آباد کی طرف نکلنا ہوتا ہے۔قافلہ روانہ ہوتا ہے تو وزیرا علیٰ اور کارکن ایک جیسے نشے میں ہوتے ہیں۔برہان انٹرچینج کراس ہونے کی دیر ہوتی ہے کہ وزیر اعلیٰ لیموں چاٹ لیتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں سے آگے اب وزیرا علیٰ کو زمینی حقائق کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔آئیڈیل ازم کے وہ مزے ختم ہوجاتے ہیں جو ذمہ داری کا بوجھ پڑنے سے پہلے تک آرہے ہوتے ہیں۔مگر کف اڑاتے کارکن اپنی دھن میں ہوتے ہیں۔وہ اس امید پہ آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ سیڑھی لگا کر اڈیالہ میں اترے گا اور خان صاحب کو اچک کر باہر لے آئے گا۔ہم کندھوں پر اٹھاکر انہیں سیدھا پارلیمنٹ لیکر جائیں گے۔وہ ایاک نعبد و ایاک نستعین پڑھ کر پاکستان پر دم کریں گے۔بے مثال ترقی کا سفر جہاں رکا تھا وہاں سے دوبارہ شروع ہوجائے گا۔چور سیاست دانوں کا تو احتساب ہوگا ہی ہوگا، امریکی سفیر کو بھی دھوپ میں کھڑا کرکے پوچھا جائے گا کہ ایران پر حملہ کرنے کی جرات کیسے ہوئی۔
اڈیالہ اور ڈی چوک پہنچ کر وزیر اعلیٰ کا ہنی مون پیریڈ انجام کو پہنچ جاتا ہے۔اب زندگی کا ایک بدترین موڑ آنے والا ہوتا ہے۔یہ وہ موڑ ہے جہاں کارکنوں کو اکیلا چھوڑ کر واپس صوبے کی طرف جانا ہوتا ہے۔وہ نہیں چاہتا کہ واپسی ہو، مگر وہ جانتا ہے کہ اسکے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔واپس پہنچ کر اپنے حصے کے شفیع جان سے کہتا ہے، رور جانہ! مزا سارا انقلاب میں ہے، مگر بات وہی ٹھیک ہے جو بیرسٹر گوہر کر رہا ہے۔بیرسٹر والے راستے پر جائو تو انقلابی کارکن نمبر کاٹ دیتے ہیں۔کیا کریں؟ جواب آتاہے، ہمارے لیڈر پر جب ایسا وقت آتا تھا تو وہ اسمبلی کے فلور پربھڑکتا ہوا خطاب کر دیتے تھے۔جیسے، اللہ مجھے سب کچھ دے بیٹھا ہے،ہم نے کلمہ پڑھ رکھا ہے، ہم امریکا کے غلام نہیں ہیں۔اقبال کو پڑھیں۔وہ کہتا ہے، کرگس کا جہاں اور ہے اور پتہ نہیں کس کا جہاں اور۔مفہوم یہ ہے کہ قومیں سڑکوں سے نہیں بنتیں۔
وزیراعلیٰ خان صاحب کی تقریر کاپی کرکے فلور کو گرما تو دیتا ہے، مگر حالات اسے شام کو مولانا فضل الرحمن کے پاس لے جاتے ہیں۔یہاں پہنچتے ہی تقریر والے نمبر کٹنا شروع ہوجاتے ہیں۔رہے سہے نمبر تب کٹ جاتے ہیں جب اسے وزیراعظم سے ملاقات کرنی پڑ جاتی ہے۔انقلابی ذہن سیاسی میل جول اور باہمی احترام کو نظریے سے انحراف سمجھتاہے۔ایسے موقع پرنمبر بچانے کے دو ہی طریقے ہوتے ہیں۔روکھے انداز میں ہاتھ ملایا جائے اورملاقات میں ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کربیٹھا جائے۔اس واردات سے کچھ نمبربچ تو جاتے ہیں مگر خان صاحب کی بہنیں مطمئن نہیں ہو پاتیں۔وہ ایک دوسرے سے کہتی ہیں، یہ بندہ بھی لگتا ہے مل گیاہے۔سچی۔
پھر بہنیں مل کر امتحان لیتی ہیں۔وزیرا علیٰ کو ایک بار پھر اڈیالہ بلالیتی ہیں۔وہ جانا چاہتا ہے، مگر اسکو پتہ ہوتا ہے کہ اس جانے میں واپس آنیوالی خفت بھی شامل ہے۔وہ گریز کرتا ہے، مگر کب تک؟ آخرکار وہ انقلابیوں کے نرغے میں آہی جاتاہے۔اس کا بڑا دل کرتا ہے کہ انقلابیوں کو عقل اور ہوش سے کام لینے کا درس دوں، مگر وہ جانتا ہے کہ سر پہ جو دو بال بچے ہیں یہ بھی جائیں گے۔
وزیر اعلیٰ آئیڈیل ازم اور عملیت پسندی کے درمیان کا راستہ لے لیتاہے۔یہ راستہ اڈیالہ کی بجائے ترنول کی طرف جاتا ہے۔اگر ایک وزیر اعلیٰ ہر دو ہفتے بعد ترنول میں پھنستا ہوا دکھائی دے تو سمجھ جائیں کہ دائرے کا چکر پورا ہوگیاہے۔کسی نئے ’یگانہ بیروزگار‘ انقلابی کی تلاش شروع ہوگئی ہے۔
بشکریہ جنگ