اس شاہراہ پر چلنا دنیا کے لیے کیوں ضروری ہے؟

کسی بھی قوم کی حقیقی خودمختاری اور آزادی مکمل طور پر ترقی پر منحصر ہے ، جس کے نتیجے میں تمام شہریوں کے لئے ایک مہذب اور پائیدار معیار زندگی فراہم ہوتا ہے۔حقیقی نمائندہ حکومتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عوام کے بہترین مفادات کا احترام کریں اور ان پر غور کریں۔ چین کے صدر شی جن پنگ کا 2013 میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو شروع کرنے کا فیصلہ نہ صرف چینی عوام کی خواہش اور بہترین مفادات کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ مجموعی طور پر انسانیت کے بہترین مفادات کے لئے فریم ورک بھی فراہم کرتا ہے۔

چین میں انتہائی غربت کا کامیاب خاتمہ حقیقی حکومت اور کوشش کی ایک روشن مثال ہے۔ 1.4 بلین کی آبادی والے چین نے چار دہائیوں کے دوران 800 ملین افراد کو انتہائی غربت سے باہر نکالا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ پائیدار ترقی کے حصول میں امریکہ ، برطانیہ اور یورپی یونین جیسے سرکردہ مغربی ممالک چین سے کافی دور نظر آتے ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر مغربی معیشتیں اس وقت انتہائی مشکلات کا شکار ہیں ۔ تمام سرمایہ کاریوں کا بڑا حصہ خالص مالیاتی اعدادو شمار کے کھیل سے منسلک ہے۔ اس میں مالیاتی آلات شامل ہیں ، جیسے منی مارکیٹس ، ڈیریویٹوز ، اور مختلف قسم کے خام مال اور اجناس کی قیمتیں ۔دنیا کے تقریبا 160 ممالک بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں فعال طور پر حصہ لے رہے ہیں جو عالمی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے نقطہ نظر کی حقیقی کامیابی کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔ شرکت کرنے والے ممالک میں دنیا کی آبادی کا تقریبا 75 فیصد شامل ہے۔ چین دنیا کی مینوفیکچرنگ میں نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے ۔

پانی کے منصوبوں، برقی بجلی گھروں اور جدید نقل و حمل کے نظام، بشمول تیز رفتار ٹرینوں اور رابطے کے لئے جدید سڑکوں میں سرمایہ کاری کے بغیر، عالمی سطح پر غربت کے خاتمے کی عملی طور پر کوئی امید نہیں ہے اس لیے نظر انہیں آتی کہ ایسا کرنے کا کوئی فعال ارادہ نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ چین کے غربت کے خلاف اقدما ت پر کئی زبانیں خاموش ہیں۔

بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری میں لازمی طور پر بہت بڑی ، طویل مدتی سرمایہ کاری شامل ہوتی ہے جو قومی ریاستوں کی ہدایت ، رہنمائی اور فنانسنگ پر منحصر ہوتی ہے۔ نجی شعبہ اس طرح کی عظیم قومی ترقی کی تکمیل میں شامل تو ضرور ہو سکتا ہے لیکن یہ کبھی بھی آزادانہ طور پر اس طرح کی سرمایہ کاری کو برقرار رکھنے کے قابل نہیں ہو تا ۔یہی وہ چیز ہے جو چین اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کو تقریبا تمام بڑے مغربی انیشی ایٹوز سے الگ کرتی ہے ۔اسی لیے بہت سے ترقی پذیر ممالک اب چین کا رخ کر رہے ہیں جو تمام انسانیت کے لیے ایک امید بن رہاہے ۔چین کے صدر شی جن پھنگ نے اسے "انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے لئے ایک کمیونٹی” قرار دیا ہے۔

بی آر آئی کو انسانی تاریخ کے سب سے بڑے عالمی ترقیاتی منصوبے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جو تعداد اور رسائی دونوں لحاظ سے مارشل پلان سے کہیں زیادہ ہے۔ تاہم، اس طرح کی تاریخی کامیابی سے متاثر ہونے کے بجائے مغربی طاقتیں اس سے خطر ہ محسوس کر رہی ہیں.

مغربی مین اسٹریم میڈیا میں اس منصوبے کے اثرات کو زائل کر نے کے لیے قرضوں کے جال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کا بیانیہ پیش کیا جا رہا ہے۔یہ سب چین اور ایشیا کے ناگزیر عروج کے خلاف جارحانہ ردعمل کا حصہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ افریقہ اور جنوبی امریکہ بھی چین اور بی آر آئی کا رخ کر رہے ہیں تاکہ نو استعمار سے پاک مستقبل طرف پیش قدمی کی راہ ہموار ہو سکے۔

لگتا یوں ہی ہے کہ بی آر آئی مخالف بیانیہ ناکام ہو رہا ہے اور سمت ایک نئے مالیاتی اور کرنسی نظام کے لئے ہے جو اب ڈالر پر مبنی عالمی کرنسی ایکسچینج پر منحصر نہیں ۔ اس سے ان ممالک کو فائدہ ہو گا جو اپنی سیاسی اور معاشی پالیسیوں کا فیصلہ خود اپنے طور پر کرنا چاہتے ہیں ۔ اسے ایک نئی سمت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو یک قطبی عالمی نظام کے جبر سے حقیقی جمہوری آزادی کی اجازت دے گی۔

ماضی میں قوموں کے درمیان اختلافات کا حل افہام و تفہیم سے نہیں بلکہ طاقت اور دھوکہ دہی کے وحشیانہ استعمال سے حل کیا جاتا رہا ہے لیکن چینی صدر شی جن پھنگ کا گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو دنیا کی مختلف ثقافتوں کے درمیان پل تعمیر کرنے کا واضح ارادہ ہے۔ اس سے مختلف لوگوں اور قوموں کے درمیان تفہیم اور احترام میں اضافہ ہوگا۔ یہ تفہیم اور احترام دوستی کے لئے ضروری شرائط ہیں اور اقتصادی اور سیاسی تعاون کا حتمی راستہ بھی سو اس راستے پر اور اس شاہراہ پر چلنا بے حد ضروری ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے