کل اکیڈمی میں ایک طالبہ کی والدہ سے میری ملاقات ہوئی جو اپنی بیٹی کو چھٹی کے بعد لینے آئی تھیں۔ یہ ایک مختصر مگر نہایت دلچسپ ملاقات ثابت ہوئی۔ میری ایک عادت ہے کہ میں آسانی سے کسی سے متاثر نہیں ہوتی، لیکن جب کسی کی گفتگو اور انداز مجھے متاثر کر دے تو اس کے ساتھ فضول باتوں کے بجائے کسی ایک موضوع پر گہرائی سے بات کرنا شروع کر دیتی ہوں۔ اسی جذبے کے تحت میں نے اس محترمہ سے حسد جیسے اہم موضوع پر تفصیلی گفتگو کی ان سے مختلف پہلوؤں پر سوالات کیے اور ان کی رائے کو غور سے سنا۔ عزیز قارئین! اب میں وہ تمام خیالات آپ کے ساتھ شیئر کر رہی ہوں جو اس نے حسد کے بارے میں بیان کیے اور جنہوں نے مجھے بھی سوچنے پر مجبور کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ حسد اور جلن ایسی پوشیدہ کیفیات ہیں جو دل میں خاموشی سے جنم لیتی ہیں اور رفتہ رفتہ انسان کی سوچ، رویّے اور تعلقات کو متاثر کرنے لگتی ہیں۔ اور ہر وہ شخص جو ہمیں نقصان نہ پہنچائے، ضروری نہیں کہ وہ دل سے مخلص بھی ہو۔ بعض اوقات کسی کی خاموشی یا ہمارے ذکر پر اس کی غیر محسوس بے چینی اس کے اندر چھپی کیفیت کو ظاہر کر دیتی ہے۔ ایسے افراد دوسروں کی کامیابی کو آسانی سے قبول نہیں کر پاتے، کیونکہ انہیں یہ گوارا نہیں ہوتا کہ کسی اور کو وہ عزت، مقام یا محبت ملے جو انہیں حاصل نہ ہو سکی ہو۔
اسی طرح مزید وضاحت کی کہ بعض لوگ بظاہر خوشیوں میں شریک دکھائی دیتے ہیں مگر ان کی مبارکبادیں محض رسمی ہوتی ہیں اور دل اس احساس سے خالی رہتا ہے۔ ایسے افراد دوسروں کی کامیابی کو ایک بوجھ سمجھنے لگتے ہیں ایسی حقیقت جسے وہ دیکھ تو سکتے ہیں مگر دل سے تسلیم نہیں کر پاتے۔ مسلسل موازنہ انسان کو اپنی نعمتوں سے غافل کر دیتا ہے اور یہی رویہ اسے اندر سے کمزور بنا دیتا ہے۔
گفتگو کے دوران انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ وقت انسان کو سکھا دیتا ہے کہ ہر تعریف کے پیچھے اخلاص نہیں ہوتا اور ہر تعلق وفاداری کی ضمانت نہیں بنتا۔ کچھ لوگ اچھے دنوں میں قریب رہتے ہیں، مگر ان کے لہجوں میں سرد مہری اور رویّوں میں ہلکی سی اجنبیت نمایاں ہونے لگتی ہے۔ ایسے اشارے بتاتے ہیں کہ لوگوں کو نہ ان کے الفاظ سے بلکہ بدلتے رویّوں سے پہچاننا چاہیے۔
انہوں نے سنجیدگی سے یہ نکتہ بھی بیان کیا کہ حسد کرنے والا دراصل خود اپنے ساتھ برا کرتا ہے۔ وہ اپنی توانائی اپنی بہتری کے بجائے دوسروں کی زندگیوں کا جائزہ لینے میں صرف کر دیتا ہے، جس کے باعث اس کا سکون دوسروں کی کامیابیوں سے وابستہ ہو جاتا ہے اور وہ کبھی حقیقی اطمینان حاصل نہیں کر پاتا۔ جس دل میں حسد جگہ بنا لے، وہاں شکرگزاری، قناعت اور سکون کے لیے گنجائش کم رہ جاتی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ رزق، عزت اور کامیابی تقسیم کرنے والی ذات ایک ہی ہے اور کسی کی نعمت دوسرے کے حصے کو کم نہیں کرتی۔
اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نہایت خوبصورتی سے وضاحت کی کہ حسد اخلاقی کمزوری کے ساتھ روحانی نقصان کا سبب بھی بنتا ہے۔ اور قرآنِ مجید میں حسد سے پناہ مانگنے کی تلقین کی گئی ہے، جیسا کہ سورۂ فلق میں "حاسد” کے شر سے بچنے کی دعا سکھائی گئی۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے حسد سے سختی سے منع فرمایا اور ارشاد کیا کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ اور اسلام انسان کو دوسروں کی نعمتوں پر جلنے کے بجائے اپنے لیے بھلائی کی دعا کرنے اور شکرگزاری اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر دل میں کسی کے لیے حسد کا جذبہ پیدا ہو بھی جائے تو اس کا علاج یہ ہے کہ انسان اس کے لیے خیر کی دعا کرے، اپنے دل کو صاف رکھنے کی کوشش کرے اور یہ یقین مضبوط رکھے کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس کے حصے کے مطابق عطا کرتا ہے۔ اور حقیقی ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ انسان دوسروں کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے چاہتا ہے، کیونکہ دل کی پاکیزگی ہی اصل کامیابی کی بنیاد ہے۔
جاتے جاتے انہوں نے بڑی خوبصورتی سے کہا کہ سمجھ دار انسان وہ ہے جو لوگوں کے رویّوں کو وقت کے آئینے میں پرکھے۔ نہ ہر تعریف کو حقیقت سمجھے اور نہ ہر تنقید سے دل برداشتہ ہو۔ اصل اہمیت اپنے رب کی رضا اور دل کے سکون کی ہے۔ ان کی گفتگو کا نچوڑ یہی تھا کہ جب انسان دوسروں سے متاثر ہونے کے بجائے اپنی راہ پر توجہ مرکوز کر لیتا ہے تو وہ حسد اور موازنہ جیسے بوجھ سے آزاد ہو جاتا ہے۔ حقیقی بلند ظرفی یہی ہے کہ دوسروں کو آگے بڑھتا دیکھ کر بھی دل میں خیرخواہی باقی رکھی جائے۔ جو شخص دوسروں کی کامیابی پر خوش ہو کر دعا دینا اور اپنی تقدیر پر مطمئن رہنا سیکھ لے وہ ایک ایسی دولت حاصل کر لیتا ہے جو دنیاوی پیمانوں سے کہیں بڑھ کر ہے کیونکہ سکون انہی دلوں میں اترتا ہے جو حسد سے پاک، شکر سے بھرپور اور خیر کے جذبے سے روشن ہوتے ہیں۔