وہ عورت جو کہیں دکھائی نہیں دیتی

طاہرہ کاظمی ایک ماہر گائناکالوجسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ اچھی لکھاری بھی ہیں۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد انہیں سوشل میڈیا پر فالو کرتی ہے، ان کی تحریریں پڑھتی ہے، ان پر تبصرے کرتی ہے اور بعض خواتین تو اپنی زندگی کے فیصلوں اور تجربات کو بھی ان کی تحریروں سے جوڑتی ہیں۔ میں نے بھی ڈاکٹر صاحبہ کی متعدد تحریریں پڑھیں۔ خواتین کے جسمانی، طبی اور سماجی مسائل پر ان کی تحریروں میں خاصا مواد موجود ہے اور بلاشبہ ایک عام خاتون کو ان سے بہت سی معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔

مسئلہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں طب کا قلم حقوقِ نسواں کی وکالت میں داخل ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کا قلم چلتا ہے تو خواتین کے حقوق کی ایک ایسی تصویر سامنے آتی ہے جس میں عورت کو اپنے جسم، اپنی مرضی، اپنی آزادی اور اپنے فیصلوں کے حوالے سے بے شمار حقوق کا احساس دلایا جاتا ہے۔ یہ حقوق اپنی جگہ اہم ہوں گے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عورت کے حقوق کی پوری داستان صرف اسی عورت کے گرد گھومتی ہے جو اپنی آواز بلند کر سکتی ہے، اپنے لیے لڑ سکتی ہے، سوشل میڈیا تک رسائی رکھتی ہے اور اپنے حق کے لیے گھر، خاندان اور معاشرے سے بحث کرنے کی پوزیشن میں ہے؟

اگر ایسا ہے تو پھر وہ عورت کہاں ہے جو بول بھی نہیں سکتی؟

وہ عورت کہاں ہے جو اپنے باپ، بھائی یا شوہر سے اپنا شرعی حصہ مانگتے ہوئے بھی زبان پر تالہ لگا لیتی ہے؟

وہ عورت کہاں ہے جسے شادی کے وقت باپ کی جائیداد میں سے یہ کہہ کر محروم کر دیا جاتا ہے کہ "بیٹی تُو دوسرے گھر چلی جائے گی”؟

وہ عورت کہاں ہے جو بچپن سے ہی گھر کے کاموں میں جت جاتی ہے، جوانی میں کھیتوں میں کام کرتی ہے، مویشی پالتی ہے، ان کا چارہ کاٹتی ہے، گوبر صاف کرتی ہے، جنگل سے لکڑیاں اٹھا کر لاتی ہے، کھیتی باڑی میں ہاتھ بٹاتی ہے اور پھر بھی اس کی اس محنت کو "کام” نہیں بلکہ عورت کی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے؟

اس عورت کی محنت کی قیمت کون طے کرے گا؟

اس کے وقت کی قیمت کون لگائے گا؟

اس کے جسم کی تھکن کو کون محسوس کرے گا؟

اور سب سے بڑھ کر، اس کے حقوق کی بات کون کرے گا؟

خواتین کے حقوق کی موجودہ بحث کو دیکھ کر کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عورت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسے اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی نہیں۔ لیکن دیہات کی اس عورت سے پوچھ لیجیے جو صبح سویرے اٹھ کر چولہا جلاتی ہے، بچوں کو سنبھالتی ہے، مویشیوں کا چارہ کاٹتی ہے، پانی لاتی ہے، کھیت میں کام کرتی ہے، لکڑیاں جمع کرتی ہے اور شام کو تھکے ہوئے جسم کے ساتھ دوبارہ گھر کے کام میں لگ جاتی ہے۔

اس کے لیے "میرا جسم میری مرضی” کا نعرہ شاید کسی فکری بحث کا موضوع ہی نہ ہو۔

اس کے لیے تو سوال یہ ہے کہ "میرے جسم کی اس محنت کی قیمت کون دے گا؟”

اس کے لیے سوال یہ ہے کہ "میرے باپ کی جائیداد میں میرا حصہ کہاں ہے؟”

اس کے لیے سوال یہ ہے کہ "میری بیٹی کو بھی کیا یہی زندگی گزارنی پڑے گی؟”

اور اس کے لیے سب سے بڑا سوال شاید یہ ہے کہ "کیا میں بھی انسان ہوں یا صرف گھر، کھیت اور مویشیوں کی ذمہ داری اٹھانے والی ایک مشین؟”

ڈاکٹر صاحبہ ٹھیک کہتی ہیں کہ بچہ پیدا کرنا آسان کام نہیں۔ عورت حمل کے نو ماہ جسمانی اور ذہنی تبدیلیوں سے گزرتی ہے۔ اسے طبی نگہداشت، مناسب غذا، آرام اور محفوظ زچگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن کیا کبھی ہم نے اس عورت کے بارے میں بھی اسی شدت سے بات کی ہے جو چھ سات ماہ کے حمل کے ساتھ سر پر گوبر کا ٹوکرا اٹھاتی ہے؟ جو لکڑیوں کا گٹھا اٹھا کر میلوں پیدل چلتی ہے؟ جو کھیت میں کام کرتی ہے؟ جو حمل کے دوران بھی گھر اور مویشیوں کی ذمہ داری سے آزاد نہیں ہوتی؟

کیا کبھی کسی نے اس سے پوچھا کہ "بہن! تمہارا حمل کیسا گزر رہا ہے؟”

کیا کبھی کسی نے اسے بتایا کہ "تمہیں آرام کی ضرورت ہے؟”

کیا کبھی کسی نے اس کے لیے باقاعدہ طبی معائنہ، متوازن غذا اور محفوظ زچگی کا انتظام کیا؟

ایک طرف وہ عورت ہے جو حمل ٹھہرنے کے بعد ہر ہفتے ڈاکٹر سے معائنہ کرواتی ہے، مناسب غذا لیتی ہے، آرام کرتی ہے اور طبی سہولیات اس کی دسترس میں ہوتی ہیں، اور دوسری طرف وہ عورت ہے جس کے لیے حمل بھی زندگی کی معمول کی مشقت میں کوئی تبدیلی نہیں لاتا۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ ان دونوں میں سے کون زیادہ مظلوم ہے؟۔

اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے دوسری عورت کو اپنے حقوق کی بحث میں شامل ہی کیوں نہیں کیا؟

یہی وہ مقام ہے جہاں خواتین کے حقوق کے موجودہ بیانیے پر سوال اٹھانا ضروری ہو جاتا ہے۔

اگر عورت کے حقوق کی بات کرنی ہے تو اس میں صرف جسمانی خودمختاری، لباس، تعلقات اور ذاتی آزادی ہی کیوں شامل ہوں؟ اس میں وراثت کیوں نہیں؟ تعلیم کیوں نہیں؟ صحت کیوں نہیں؟ محفوظ زچگی کیوں نہیں؟ غیر اجرتی محنت کی قدر کیوں نہیں؟ معاشی خودمختاری کیوں نہیں؟ دیہی عورت کے لیے قانونی معاونت کیوں نہیں؟ اس عورت کے لیے آواز کیوں نہیں جسے اپنے ہی خاندان سے اپنا شرعی حصہ مانگنے کی اجازت نہیں؟

ایک عجیب تضاد ہے۔

ہم عورت کو اس بات کا شعور دینے کے لیے تیار ہیں کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق لباس پہن سکتی ہے، اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکتی ہے اور اپنے جسم کے بارے میں خود فیصلہ کر سکتی ہے، لیکن بعض اوقات اسی عورت کو یہ بتانے میں ہماری زبان کیوں لڑکھڑاتی ہے کہ اسلام نے صدیوں پہلے اسے وراثت میں حصہ دیا تھا اور اسے اس حصے سے محروم کرنا ظلم ہے؟

ہم عورت کو آزادی کا فلسفہ سمجھانے کے لیے کتابیں لکھتے ہیں، سیمینار کرتے ہیں، پروگرام کرتے ہیں، سوشل میڈیا مہمات چلاتے ہیں، مگر اس غریب عورت کے گھر تک کیوں نہیں پہنچتے جسے اپنے باپ کی زمین سے ایک مرلہ بھی نہیں ملا؟

ہم عورت کے جسم کی آزادی کی بات کرتے ہیں، مگر اس جسم کی مشقت کے بارے میں کیوں خاموش رہتے ہیں جو سالہا سال گھر، کھیت اور مویشیوں کے لیے استعمال ہوتا رہتا ہے؟

یہ سوال صرف کسی ایک ڈاکٹر، کسی ایک لکھاری یا کسی ایک فکری مکتبِ فکر سے نہیں۔

یہ سوال ہم سب سے ہے۔

اور ہاں، عورت کو ظلم سے نجات ملنی چاہیے۔ اسے تعلیم ملنی چاہیے۔ اسے صحت کی سہولت ملنی چاہیے۔ اسے وراثت میں اس کا حق ملنا چاہیے۔ اسے عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق ملنا چاہیے۔ اسے تشدد، استحصال اور جبر سے تحفظ ملنا چاہیے۔

لیکن عورت کو حقوق دینے کے نام پر یہ تصور دینا کہ اس کی آزادی کا مطلب ہر سماجی، اخلاقی اور مذہبی بندھن سے مکمل آزادی ہے، ایک الگ بحث ہے۔

حقوق اور آزادی ایک چیز نہیں۔

آزادی اور بے لگامی ایک چیز نہیں۔

خودمختاری اور ذمہ داری سے فرار ایک چیز نہیں۔

عورت کو عزت دینے اور اسے محض خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ سمجھنے میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہے۔

یہاں مجھے ان جدید تصورات پر بھی سوال اٹھانا پڑتا ہے جو بظاہر عورت کی آزادی کے نام پر اسے روایتی بندھنوں سے نکالنے کی بات کرتے ہیں، لیکن بعض اوقات آزادی کی تعریف ہی ایسی بنا دیتے ہیں جس میں خاندان، اخلاق، مذہب اور سماجی ذمہ داری سب رکاوٹ دکھائی دینے لگتے ہیں۔

اگر عورت کو صرف اس لیے آزاد کرنا مقصود ہے کہ وہ ہر قسم کی ذمہ داری، ہر اخلاقی اصول اور ہر سماجی بندھن سے نکل جائے تو پھر یہ آزادی کس منزل کی طرف جا رہی ہے؟

اور اگر عورت کو صرف "قابلِ استعمال شے” بننے سے بچانا ہے تو کیا یہ بھی ضروری نہیں کہ اسے بازار، اشتہار، فیشن اور خواہشات کی صنعت کے استحصال سے بھی بچایا جائے؟

اصل حقوق نسواں تو شاید یہ ہے کہ عورت کو کسی بھی طاقتور مرد، خاندان، ریاست، بازار یا نظریے کا محض تابع نہ بنایا جائے۔

اسے انسان سمجھا جائے۔

مکمل انسان۔

وہ عورت بھی جو فیس بک پر اپنے حقوق کے لیے ہزاروں الفاظ لکھ سکتی ہے، اور وہ بھی جو اپنے گھر کی دہلیز سے باہر نکل کر اپنے حق کے لیے ایک جملہ بولنے کی ہمت نہیں رکھتی۔

وہ عورت بھی جو اپنے جسم کے بارے میں فیصلہ کرنے کی آزادی مانگتی ہے، اور وہ بھی جس کے جسم نے ساری عمر دوسروں کے لیے مشقت کی مگر اسے اپنے وقت اور محنت کی قیمت کبھی نہیں ملی۔

وہ عورت بھی جو بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں جدید طبی سہولیات کے ساتھ بچے کو جنم دیتی ہے، اور وہ بھی جو دور افتادہ پہاڑی گاؤں میں کسی مقامی دائی کے رحم و کرم پر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ماں بنتی ہے۔

اگر واقعی عورت کے حقوق کی جنگ لڑنی ہے تو پھر اس دوسری عورت کو بھی تلاش کرنا ہوگا۔

اس عورت کو جس کے پاس فیس بک اکاؤنٹ نہیں۔

جس کے پاس ٹیلی ویژن کے مارننگ شو تک رسائی نہیں۔

جس کے پاس کسی این جی او کا نمبر نہیں۔

جس کے پاس عدالت جانے کے لیے پیسے نہیں۔

جس کے پاس اپنے حق میں بولنے والا کوئی بااثر شخص نہیں۔

اور جس کے پاس شاید صرف ایک پھٹا ہوا دوپٹہ، مٹی سے اٹے ہاتھ، تھکا ہوا جسم اور آنکھوں میں اپنی بیٹی کے بہتر مستقبل کا خواب ہے۔

میرے نزدیک عورت کے حقوق کی سب سے بڑی آزمائش یہی عورت ہے۔

اگر ہمارا نظریہ اس تک نہیں پہنچتا تو پھر ہمیں اپنے نظریے پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔

اگر ہماری تحریریں اس کے دکھ کو نہیں دیکھتیں تو ہمیں اپنی تحریروں پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔

اگر ہماری تحریکیں اس کے لیے نہیں اٹھتیں تو ہمیں اپنی تحریکوں کے مقاصد پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔

اور اگر ہماری آزادی کی تعریف میں اس غریب عورت کے لیے وراثت، تعلیم، صحت، عزت، محفوظ زچگی اور اس کی محنت کا اعتراف شامل نہیں تو پھر ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ آخر ہم کس عورت کی آزادی کی بات کر رہے ہیں؟

عورت کو حقوق ضرور دیں۔

مگر اسے صرف اپنی مرضی کا نام نہ دیں۔

اسے وراثت دیں۔

تعلیم دیں۔

صحت دیں۔

محفوظ زچگی دیں۔

اس کی محنت کو تسلیم کریں۔

اس کی عزت کریں۔

اسے ظلم سے بچائیں۔

اور اسے ایسا معاشرہ دیں جہاں وہ اپنے عورت ہونے کی وجہ سے نہ دبائی جائے اور نہ ہی اپنی آزادی کے نام پر کسی نئے استحصال کا شکار ہو۔

کیونکہ عورت کو بااختیار بنانے کے نام پر اگر ہم اسے مذہب، اخلاق، خاندان اور ذمہ داری سے مکمل طور پر کاٹ دیں گے تو شاید ہم اسے ایک قید سے نکال کر دوسری قید میں لے جا رہے ہوں گے۔

اور اگر ہم نے آزادی کے نام پر خواہش کو اصول، بغاوت کو شعور اور بے قیدی کو حق سمجھ لیا تو شاید آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال ضرور کریں گی کہ ہم نے عورت کو آزاد کیا تھا یا اسے ایک نئے بازار کے حوالے کر دیا تھا؟

اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھنے، باطل کو باطل سمجھنے اور دونوں میں تمیز کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

یا اللہ! ہماری ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور تمام خواتین کے حقیقی حقوق کی حفاظت فرما۔ جو عورت ظلم کا شکار ہے اسے ظلم سے نجات عطا فرما، جو اپنے شرعی اور قانونی حق سے محروم ہے اسے اس کا حق دلا، جو غربت اور جہالت میں زندگی گزار رہی ہے اسے علم، عزت، صحت اور آسودگی عطا فرما۔ ہمارے معاشرے کو ایسا معاشرہ بنا دے جہاں عورت نہ ظلم کے نام پر دبائی جائے اور نہ آزادی کے نام پر استحصال کا شکار ہو۔ ہمارے دلوں سے تکبر، تعصب، خواہشِ نفس اور غلط نظریات کو دور فرما اور ہمیں قرآن و سنت کی روشنی میں عدل، اعتدال اور حق پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں ایسی آزادی سے محفوظ فرما جو ہمیں تیری بندگی سے دور کر دے، اور ایسی پابندی سے بھی محفوظ فرما جو تیرے دیے ہوئے جائز حقوق سے محروم کر دے۔

اے ہمارے رب! جو کچھ ہم نے درست لکھا، اسے قبول فرما، جو غلط لکھا اسے معاف فرما، ہمیں حق بات کہنے اور حق بات پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما۔

استغفراللہ ربی من کل ذنب و اتوب الیہ۔

آمین یا رب العالمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے