ہر گھر سے جینزی نکلے گا

پڑوسی ملک میں نوجوان سڑکوں پر کیا نکلے کہ اب ہمارے ملک میں بھی احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ کراچی کے چارمینار بہادرآباد میں نوجوان احتجاج کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ پچھلے دنوں قتل ہو جانے والے میر رضا کے قاتلوں کو سزا دی جائے۔خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔ پڑوسیوں کے جنتر منتر کا جادو اب ہمارے ہاں بھی اثر دکھا رہا ہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب ہر آدمی احتجاج شروع کردے گا تو پھر حکومت کیا کرے گی اور کس کس کو روکے گی۔

ہمارے وزیر داخلہ پہلے ہی فرما چکے ہیں کہ سسٹم ختم ہوچکا ہے۔ جب ملک کا وزیر داخلہ ہی مایوس ہو جائے تو واقعی تشویش تو ہوتی ہے۔ ملک کا سسٹم بھی خراب ہے۔ کرکٹ بھی زوال پزیر رہی یعنی وہاں کا سسٹم بھی ختم ہوچکا ہے۔باہر ممالک میں وزیر اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں اور وزارت کو ٹاٹا بائی بائی کردیتے ہیں مگر ہمارے ہاں ایسا کوئی ٹرینڈ نہیں ہے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب ہمارے ملک میں پاور ہی سب کچھ ہے۔آپ کی بیک مضبوط ہے تو آپ کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اب ہمارے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کو ہی دیکھ لیں۔ ان کے کتے کے کھونے کی خبر جس تیزی سے پھیلی اسی تیزی سے واپس ملنے کی خبر نے بھی سوشل میڈیا پر تہلکہ مچادیا یعنی

ساڈا کتا, کتا تواڈا کتا ٹومی

ایک صاحب نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ جس طرح وسیم اکرم کا کتا بازیاب ہوا ہے اگر اسی طرح کراچی کا امن و امان بھی بازیاب ہو جائے تو کمال ہو جائے۔ مگر اس کے لیے ہر آدمی کو وسیم اکرم جیسا پروٹوکول چاہیے۔ جب سے ملک بنا ہے۔ حالات خراب ہیں اور ہر آنے والا دن تباہی لے کر آرہا ہے۔لوگوں کو جب انصاف نہ ملے مہنگائی اور بیروزگاری ہو لا اینڈ آرڈر تباہ ہوچکا ہو تو کیا اچھی توقع کی جاسکتی ہے۔

ایک ن لیگی رہنما پریس کانفرینس میں فرما رہے تھے کہ اگر یہاں کاکروچ پارٹی یا جنتر منتر جیسا احتجاج ہوا تو کچھ نہیں بچے گا۔ یہ تو پہلے سوچنا چاہیے تھا ۔

اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت

عام آدمی کو کیا معلوم کہ سیاست کس چڑیا کا نام ہے۔ عام لوگوں کو تو آٹے اور دال میں الجھا دیا گیا ہے۔ روٹی کپڑا اور مکان تو چھوڑیں اب تو جان کے لالے پڑ چکے ہیں وہ ہی بچ جائے تو بڑی بات ہے۔

اردو کا استاد ہونا بھی ان دنوں بڑا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ کل میں کالج میں فیض کی نظم پڑھا رہا تھا۔

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے

تیرا ستواں جسم ہے تیرا
بول کہ جاں اب تک تیری ہے

دیکھ کہ آہن گر کی دکاں میں
تند ہیں شعلے سرخ ہے آہن

کھلنے لگے قفلوں کے دہانے
پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن

بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم و زباں کی موت سے پہلے

بول کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے

بچے بہت شوق سے پڑھ رہے تھے۔ پڑوسی ملک کے جنتر منتر کے احتجاجی جلسے کے بعد جیسا کہ میں نے کالم کے شروع میں ذکر کیا ہے۔ ہمارے ہاں جینزی اس طرح کی شاعری میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔ جب فیض کی نظم کی تشریح ان کو سمجھائی گئی تو ان کی آنکھوں میں ایک چمک سی آگئی۔

کچھ بچوں نے اس نظم کو گا کر ترنم سے بھی پڑھا تو ماحول بن گیا۔ آواز کلاس روم سے باہر نکل گئی اور پرنسپل صاحب جو اس وقت گشت کر رہے تھے ان کے کانوں سے ٹکرائی۔ انہوں نے کلاس ختم ہونے کے بعد مجھے اسٹاف روم میں بلوالیا اور پوچھا کہ آپ کی کلاس سے شور کی آواز کیوں آرہی تھی اور آپ ان معصوم بچوں کو سیاسی نظمیں کیوں یاد کروارہے ہیں۔ میں نے پرنسپل صاحب سے کہا جناب یہ نظم کورس میں شامل ہے اور فیض صاحب کی شاعری ہے۔

بہر حال پرنسپل صاحب کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا ۔وہ کہنے لگے کہ آج کل حالات بہت خراب ہیں۔ ہمیں بچوں کو اس طرح کی نظمیں سمجھانے کی کیا ضرورت ہے۔ آپ اس نظم کے نوٹس ان کو دے دیں۔

اگلے دن میں نے فیض صاحب کی غزل بچوں کو سمجھائی۔
ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

بچے ابھی شوق سے غزل سمجھ ہی رہے تھے کہ پرنسپل صاحب کلاس میں آئے اور ان کے ساتھ ایک اور ٹیچر بھی موجود تھا پرنسپل صاحب نے مجھے باہر بلالیا اور بچوں سے کہا کہ آج سے یہ سر آپ کو اردو پڑھائیں گے۔

میں چاہتا تو احتجاج کرتا مگر میں نے ایسا نہیں کیا۔آخر میرا قصور کیا تھا۔ میں تو بچوں کو فیض کی شاعری پڑھا رہا تھا مگر جیسے حالات ہیں ممکن ہے کہ فیض اور حبیب جالب کو بھی سلیبس سے نکال دیا جائے اور یہ بیچارے تو یہ بھی نہیں کہ سکتے کہ مجھے کیوں نکالا۔

ملک کے حالات بہت خراب ہیں۔ جب گھر کا کوئی بڑا ہی یہ کہ دے کہ سسٹم ختم ہوچکا ہے تو باقی لوگ کیا کرسکتے ہیں۔ جس کا جو دل میں آئے اب وہی کرے گا۔ جینزی کو روکنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوچکا ہے۔ مگر یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ پڑوسی ملک کے مقابلے میں ہمارے جینزی کتنے ڈسپلین ہیں۔ وہاں اتنے عرصے میں کوئی برا وقعہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ ہمارے ہاں جینزیوں کی تربیت ضروری ہے۔ مگر یہ بات یاد رکھیں کہ اب مزید ناانصافی نہیں چلے گی۔آپ فیض اور جالب کی شاعری سے نوجوانوں کو دور نہیں کر سکتے۔ جینزی اب نکلیں گے اور احتجاج کریں گے۔اب آپ جینزیوں کو روک نہیں سکتے۔

حال ایسا ہے کہ اب کوئی نکلے یا نہ نکلے حالات بہتر نہیں ہوئے تو ہر گھر سے جینزی ضرور نکلے گا۔ خدارا سسٹم کو ختم ہونے سے بچائیں۔ ملک میں امن و امان قائم کریں۔ بات چیت کیجیے۔ ملک واقعی بہت مشکل دور سے گزر رہا ہے۔کالم کے آخر میں فیض کی نظم کے چند اشعار

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات

تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات

تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے

یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
مجھ سے پہلی سے محبت مری محبوب نہ مانگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے