اسلام آباد (نعیم سندھو) پارلیمنٹ ہاؤس کے سول ونگ میں ترقیاتی کاموں کے ٹینڈرز کے حوالے سے مبینہ مالی بے ضابطگیوں، ٹینڈر عمل میں ردوبدل اور قومی خزانے کو کروڑوں روپے کے نقصان پہنچانے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے سرکاری مفادات کے بجائے مخصوص ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ٹینڈر عمل میں مبینہ طور پر غیر قانونی مداخلت کی۔
الزامات کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر سول سلیم، ڈویژنل اکاؤنٹس آفیسر یونس ناصر،سب انجینیئر سول ۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر سول ۔ایڈیٹر سول پارلیمنٹ ہاؤس افتاب شاہ اکاؤنٹس آفیسر سروسز ون مطلوب بھٹی، ڈائریکٹر پارلیمنٹ ہاؤس محمد معظم (سابقہ دور میں فائق علی کا بھی ذکر کیا جاتا ہے) اور کیشیئر تصور سمیت دیگر متعلقہ اہلکاروں نے مالی سال 2024-25 اور 2025-26 کے دوران بعض ٹینڈرز میں مبینہ طور پر قواعد کے برعکس فیصلے کیے، جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔
دستاویزی تفصیلات کے مطابق 10 ستمبر 2024 کو کھلنے والے ٹینڈرز میں سخت مقابلے کے بعد میسرز محمد رحمان زیڈ اینڈ کمپنی نے تقریباً 10 سے 15 فیصد کم (Below) ریٹس پر کام حاصل کیے، جس کی مجموعی مالیت ایک کروڑ 38 لاکھ 5 ہزار 860 روپے بتائی جاتی ہے اور اس سے ادارے کو نمایاں مالی فائدہ ہوا۔
اسی طرح 10 جنوری 2025 کو کھلنے والے سات ٹینڈرز میں بھی 14 سے 16 فیصد کم ریٹس موصول ہوئے، جن کی مجموعی مالیت ایک کروڑ 29 لاکھ 15 ہزار 165 روپے تھی۔
ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ 11 فروری 2025 کو سات ٹینڈرز کی اوپننگ کے دوران سخت مقابلے کے بعد میسرز رحمان زیڈ اینڈ کمپنی نے 27 فیصد کم ریٹس پر کامیابی حاصل کی۔ ان ٹینڈرز کی این آئی ٹی لاگت ایک کروڑ 84 لاکھ 42 ہزار 970 روپے تھی، جس سے قومی خزانے کو تقریباً 49 لاکھ 79 ہزار 601 روپے کی بچت متوقع تھی۔
الزام ہے کہ ٹینڈر اوپننگ کے موقع پر ڈویژنل اکاؤنٹس آفیسر یونس ناصر نے تمام ریٹس کا اعلان کیا جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر سلیم، اکاؤنٹس آفیسر مطلوب بھٹی، کیشیئر تصور اور ڈائریکٹر پارلیمنٹ ہاؤس فائق علی بھی موجود تھے۔ تاہم چند روز بعد مبینہ طور پر انہی ٹینڈرز کے ریٹس میں ردوبدل کر کے انہیں 56 سے 65 فیصد زائد (Above) ریٹس پر میسرز وسیم کنسٹرکشن اور میسرز جے زیڈ برادرز ٹریڈنگ اینڈ کنٹریکٹنگ کو ایوارڈ کر دیا گیا، جس سے ذرائع کے مطابق قومی خزانے کو ایک کروڑ 13 لاکھ 82 ہزار 905 روپے کا نقصان پہنچا۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ مارچ، اپریل، مئی اور جون 2025 کے دوران ہونے والے متعدد ٹینڈرز بھی مبینہ طور پر باہمی ملی بھگت کے ذریعے مخصوص ٹھیکیداروں کو دیے گئے۔
رواں مالی سال 2025-26 کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ 5 مارچ 2026 کو پانچ ٹینڈرز میں مقامی ٹھیکیداروں نے 30 سے 35 فیصد کم ریٹس دیے، یہ ٹینڈز ڈپٹی ڈائریکٹر سول پارلیمنٹ ہاؤس سلیم ڈویژنل اکاؤنٹ افیسر یونس ناصر اکاؤنٹ افیسر سروسز ون رفعت اللہ خان اور ڈائریکٹر پارلیمنٹ ہاؤس محمد موسم کی نگرانی میں کھلے جبکہ 22 جون 2026 کو چار ٹینڈرز میں 13 سے 17 فیصد کم ریٹس موصول ہوئے۔
الزام ہے کہ 17 فیصد کم ریٹ دینے والے ایک ٹھیکیدار نے اشتہار میں درج اضافی سی ڈی آر کی شرط پوری نہیں کی، جبکہ 13 فیصد کم ریٹ دینے والے میسرز فیاض خان اینڈ کمپنی نے مطلوبہ اضافی سی ڈی آر موقع پر بھی جمع کرائی اور ای-پیڈ پر بھی اپ لوڈ کی، اس کے باوجود متعلقہ افسران مبینہ طور پر پہلے ٹھیکیدار کو کام دینے پر اصرار کرتے رہے۔
رپورٹ میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سول ونگ میں نسبتاً کم مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے پری کوالیفکیشن متعارف کرانے کی کوشش کی گئی تاکہ محدود تعداد میں مخصوص ٹھیکیداروں کو ہی کام دیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق اس اقدام کے خلاف متعدد ٹھیکیداروں نے وزیراعظم، وفاقی وزیر داخلہ، چیئرمین سی ڈی اے، ممبر انجینئرنگ، پاکستان انجینئرنگ کونسل، پیپرا اور ای-پیڈ حکام کو درخواستیں دیں، جس کے بعد سابق ممبر انجینئرنگ نے مبینہ طور پر پری کوالیفکیشن کی منظوری دینے سے انکار کر دیا۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس فیصلے کے بعد دوبارہ پری کوالیفکیشن کی منظوری حاصل کرنے کی کوششیں شروع کی گئیں اور اس مقصد کے لیے مبینہ مالی لین دین کی بھی اطلاعات ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔