اسلام آباد: ججز کی تقرری کی سمری صدرِ مملکت کی جانب سے منظور نہ کیے جانے کے معاملے پر وفاقی حکومت نے آئینی طریقہ کار کے مطابق پیش رفت کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ اس حوالے سے قانونی مشاورت بھی مکمل کر لی گئی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق آئین کے آرٹیکل 48 اور آرٹیکل 75 کے تحت ججز کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 48 کے تحت صدرِ مملکت وزیراعظم کی ایڈوائس کے پابند ہوتے ہیں، جبکہ کسی بھی سمری پر اعتراض کی صورت میں صدر کے پاس اسے واپس بھجوانے کے لیے 15 روز کا وقت ہوتا ہے۔
ذرائع کے مطابق صدرِ مملکت نے تاحال جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر کوئی تحریری اعتراض وزیراعظم کو ارسال نہیں کیا، جبکہ اس ضمن میں مقررہ 15 روزہ مدت رواں ہفتے مکمل ہو جائے گی۔ اگر اس دوران کوئی اعتراض موصول نہ ہوا تو آئینی طریقہ کار کے مطابق سمری کو منظور شدہ تصور کیا جائے گا۔
حکومتی ذرائع نے مزید بتایا کہ اگر صدرِ مملکت اعتراض عائد کرتے ہیں تو وزیراعظم سمری دوبارہ صدر کو ارسال کریں گے۔ اس کے بعد بھی اگر صدر 10 روز کے اندر سمری پر دستخط نہ کریں تو وہ ازخود منظور تصور ہوگی، جس کے بعد وفاقی حکومت ججز کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دے گی۔