وشوا ناتھ نانا پاٹیکر

اس وقت میں وشواناتھ عرف نانا پاٹیکر کی ڈیتھ باڈی کو دیکھ رہا ہوں ۔ سوشل میڈیا پر نانا خاموشی کے ساتھ ایک تابوت میں بند ہیں۔یہ وہی نانا پاٹیکر ہیں جب فلموں میں کام کرتے تھے تو کسی کو بولنے نہیں دیتے تھے مگر آج وہ بالکل شانت ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ آج وہ بولنا نہیں بلکہ سننا چاہ رہے ہوں۔ دیکھنا چاہ رہے ہوں کہ کون ان کو الوداع کرنے آیا ہے۔ان کے آس پاس بہت سے لوگ موجود ہیں۔کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ابھی اپنی فلم کا مشہور ڈائیلاگ بول پڑیں گے۔

” آگئے میری موت کا تماشہ دیکھنے”

وہ کیا شعر ہے ہاں

چند تصویر بتاں چند حسینوں کے خطوط
بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ ساماں نکلا

مگر نانا پاٹیکر کے گھر سے تو 12 من لکڑیاں نکلی ہیں جو انہوں نے اپنی موت کے لیے پہلے سے رکھی ہوئی تھیں۔ ایک انٹرویو میں نانا نے بتایا تھا کہ وہ اپنی آخری رسومات کی مکمل تیاری کر چکے ہیں جو ان کا اصل سرمایہ ہیں۔

نانا کا کہنا تھا کہ ہم فلموں کی چکاچوند میں حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا

تھا کہ "ان کی لاش کو گیلی لکڑیوں میں نہ جلایا جائے کیونکہ گیلی لکڑی کے دھوئیں سے اردگرد کھڑے دوستوں کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں گے اور وہ غلط فہمی میں پڑ جائیں گے کہ ان کے دوست ان کے لیے رو رہے ہیں”

نانا کی لاش کو دیکھ کر غالب کا شعر بھی یاد آرہا ہے

جلا ہے جسم وہاں دل بھی جل گیا ہوگا
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے

نانا پاٹیکر کی موت کا سن کر اس لیے بھی افسوس ہوا کہ ہم ان کو فلموں میں ہمیشہ دبنگ رول میں دیکھا کرتے تھے اور پھر اچانک سے ان کی موت نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ فیس بک ،انسٹا اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ہزاروں لاکھوں لوگوں نے بر صغیر کے اس عظیم اداکار کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

ہم جیسے فلمی ٹائپ لوگوں کو تو نانا پاٹیکر کی موت کا بڑا افسوس ہے۔ دراصل جب آپ کسی کی فلمیں دیکھتے ہیں اور آپ کو اس کی ایکٹنگ اچھی لگتی ہے تو وہ آدمی پھر چاہے دشمن ملک کا ہی کیوں نہ ہم اسے چاہنے لگتے ہیں اور اس کے فین ہو جاتے ہیں۔ شروع میں تو ہم کالم لکھ ہی نہیں پا رہے تھے پھر ہم نے ہمت کی اور سوچا کہ نانا کا فین ہونے کا کچھ تو ثبوت دے دیں۔

نانا پاٹیکر ان عظیم اداکاروں میں سے ہیں جو اپنی لاجواب اداکاری سے لوگوں کے دلوں میں سما گئے تھے۔ ان میں ہیرو والی کوئی بات اور کشش نہیں تھی مگر اس کے باوجود انہوں نے اپنی منفرد اداکاری سے لوگوں کے دل موہ لیے۔

ان کی فلم غلام مصطفیٰ میں جب وہ نماز پڑھتے ہیں تو ایسا ہی لگتا ہے کہ جیسے کوئی مسلمان سجدہ کر رہا ہو۔ ان کی بارعب شخصیت پر کبھی کبھی ان کی ایک ہلکی سے مسکان جب ان کے ہونٹوں پر پھیلتی تھی تو ایسا لگتا تھا کہ اس سخت گیر شخص کے پیچھے ایک معصوم سا بچہ چھپا ہوا ہے۔

نانا منہ پھٹ اور لڑنے بھڑنے والے آدمی تھے۔ ودھو ونود چوپڑا کی فلم پرندہ میں ان کی ونود سے بہت لڑائی ہوتی تھی دونوں ایک دوسرے کو گالیاں بکتے مگر پھر اس فلم کے لیے ہی انہیں پہلا فلم فئیر ایوارڈ ملا۔

میرا نائر کی فلم سلام بمبئی میں بھی ان کی اداکاری کو بہت پسند کیا گیا۔

سنجے لیلی بھنسالی کی پہلی فلم خاموشی دی میوزیکل میں انہوں نے گونگے اور بہرے کا لاجواب کردار نبھایا تھا اور اس کے لیے چھ ماہ کی خصوصی ٹریننگ بھی لی تھی۔ وہ فلم دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
فلم کرانتی ویر میں بھی ان کی بے ساختہ اداکاری کے بھی لوگ فین ہوگئے تھے

انیس بزمی کی فلم ویلکم نے ان کے کیریئر کو چار چاند لگادیے اور انہوں نے ثابت کردیا کہ وہ وراسٹائل اداکار ہیں۔

"آلو لے لو کاندے لے لو ”

اور "کنٹرول ادے کنٹرول "جیسے مکالموں نے نانا کو مردوں عورتوں اور بچوں میں بھی پاپولر کردیا۔آج کوئی بھی ریل نانا پاٹیکر کی ہنسی کے بغیر آپ کو نہیں ملے گی۔

نانا پاٹیکر ناریل کی طرح تھے اوپر سے سخت اور اندر سے نرم۔ حساس دل رکھنے والے تھے۔جس کو چاہتے تو ٹوٹ کے چاہتے مگر جس سے نفرت کرتے تو کھلے عام کرتے۔کہتے ہیں کہ اگر وہ فلموں میں نہ آتے تو غنڈے موالی ہوتے۔

وشواناتھ، نانا کا اصل نام تھا۔ ان کی ماسی جو ان کی ماں کی بہت اچھی سہیلی تھیں۔ وہ وشواناتھ کو پیار سے نانا کہ کر پکارتی تھیں اور اسی لیے وقت کے ساتھ ساتھ وشواناتھ کی جگہ نانا نے لے لی جو آگے چل کر نانا پاٹیکر کے نام سے مشہور ہوا۔

نانا فلموں میں آنے سے پہلے ایک اشتہاری ایجنسی میں اسکیچ بنایا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ تھیٹر پر بھی کام کیا کرتے تھے۔تیرہ برس سے ان کے کاندھوں پر گھر کی زمہ داری پر گئی تھی۔تھیٹر میں ان کا دل لگتا تھا اسی لیے جاندار پرفارمینس دیتے۔

ایک مرتبہ ہدایت کار مظفر علی جب اپنی پہلی فلم "گمن” کی کاسٹنگ کے لیے جرمنی کے مشہور انقلابی ڈرامے The Three Penny Opera by BertoltBrecht کا مراٹھی( ترجمہ) پلے دیکھنے کے لیے گئے تو وہاں ان کی نظر نانا پاٹیکر پر پڑی اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ نانا کو اپنی فلم میں کاسٹ کریں گے۔ گمن نانا کی بھی پہلی فلم تھی جہاں سے ان کے فلمی کیریئر کا آغاز ہوا۔مظفر علی کہتے ہیں کہ نانا فلم انڈسٹری کا آدمی ہی نہیں تھا وہ اپنی مٹی سے جڑا سیدھا سادھا سا بندہ تھا۔

نانا نے کسانوں کے لیے "نام” فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی اس تنظیم کا مقصد مہاراشٹرا کے قحط زدہ علاقوں کے کسانوں کو خودکشیوں سے بچانا اور انہیں دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنا تھا۔معروف اداکار رضا مراد نے کہا ہے کہ نانا اپنی کمائی کا نوے فیصد ضرورت مندوں کو دے دیا کرتے تھے۔ یہی نہیں نانا پاٹیکر خود بھی ممبئی کی تیز رفتار زندگی سے دور پونے کے قریب اپنے 27 ایکڑ کے فارم ہاؤس پر رہتے تھے اور وہاں خود کسانوں کی طرح کھیتی باڑی کرتے تھے۔

آج جب ان کی موت کی خبر ملی تو یہی سوچا کہ نانا جیسے فنکار سیاست دانوں سے کتنے بڑے ہوتے ہیں۔ پہلے فنکار اپنےفن سے لوگوں کو محظوظ کرتے ہیں پھر وقت پڑنے پر اپنی جمع پونجی بھی غریبوں پر لگادیتے ہیں۔ نانا پاٹیکر کو آج ہم الوداع کہ رہے ہیں مگر یہ درست ہے کہ نانا نے اپنی زندگی میں جو مقبولیت دیکھی ہے وہ کم ہی لوگوں کے حصے میں آتی ہے۔

افسانے اور حقیقت میں ذرا سا ہی تو فرق ہے۔ نانا کی ایک فلم کا سین ہے جب وہ ایک لڑکی سے کہتے ہیں کہ

مرنے کے بعد لوگ بھول جائیں گے تمہیں۔
لڑکی کہتی ہے موت کے بعد زندہ کون رہتا ہے۔

نانا کہتے ہیں کہ رہتا ہے، دس منٹ تک دل ،بیس منٹ تک دماغ اور چار گھنٹوں کے لیے آنکھیں۔ وہ چار گھنٹوں میں آنکھیں اپنوں کا جو رویہ دیکھتی ہوں گی مردے کو تو موت تحفہ لگتی ہوگی۔

اب نانا کے ساتھ کیا ہوا یہ تو وہ خود ہی جان سکتے ہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ لاکھوں لوگ انہیں چاہتے تھے اور چاہتے رہیں گے۔فلم کے اسٹوڈنٹ ان سے کی فلموں سے ادکاری سیکھتے رہیں گے۔

35 روپے تنخواہ پر کام کرنے والے وشواناتھ نانا پاٹیکر کی جدوجہد کی کہانی دنیا والوں کے لیے ایک مثال ہے۔ کسی کو کیا معلوم تھا کہ فلموں کے پوسٹرز بنانے والے پینٹر کی اپنی فلمیں دنیا بھر کے سینما کی زینت بنیں گی اور ان کے پوسٹر اونچی اونچی عمارتوں پر نظر آئیں گے اور وہ وشواناتھ سے نانا پاٹیکر بن کر امر ہو جائیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے