*فیض آباد دھرنا کمیشن رپورٹ،انٹیلیجنس ادارے بری الذمہ،شہباز شریف کی پنجاب حکومت ذمہ دار قرار

*فیض آباد دھرنا کمیشن رپورٹ،انٹیلیجنس ادارے بری الذمہ،شہباز شریف کی پنجاب حکومت ذمہ دار قرار،شہباز شریف اور جنرل فیض پیش نہیں ہوئے۔ذرائع*

فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن نے 170صفحات کی رپورٹ مکمل کرلی جو اسی ہفتے سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی۔
ذرائع کیمطابق کمیشن نے انٹیلی جنس اداروں کو بری الذمہ قراردیا ہےکیونکہ جن افراد کو کمیشن میں طلب کیا گیاتھا ان میں سے ابصار عالم کے علاوہ کسی ایک فردنے بھی انٹیلیجنس اداروں کے خلاف بیان دیا نہ دھرنے میں ملوث ہونےکی گواہی دی اور کمیشن کے پاس یہ اختیارنہیں تھا کہ گواہان اور فریقین کی گواہی اور شواہد کے بغیر انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ذمہ دار قرار دیا جاسکتا۔کمیشن نے 38افراد کو بیانات کے لئے طلب کیاتھا۔

 

موجودہ وزیراعظم شہباز شریف الیکشن کیمپین کی وجہ سے پیش نہ ہوئے۔سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض بھی پیش نہیں ہوئے انھوں نے شرط رکھی اگر کمیشن وزارت دفاع میں آکر ان کا بیان قلمبند کرےتووہ پھراپنا روبرو بیان ریکارڈ کروا سکتے ہیں۔کمیشن کے اراکین میں وزارت دفاع جاکر جنرل فیض کے بیان ریکارڈ کرنے پر اختلاف تھا کہ ایسا نہیں لگنا چاہیے ہماری تفتیش ہورہی ہےاور الٹا ہم جوابدہ ہیں اس تاثر کے پیش نظر کمیشن نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو سکائپ کا آپشن دیا لیکن انھوں نے سکائپ پہ آنے سے بھی انکار کیا،پھر انھوں نے اپنا تحریری جواب بذریعہ وزارت دفاع کمیشن کو بھجوایا۔جنرل فیض نے اپنے جواب میں لکھا کہ انھوں نے جو کچھ بھی کیا وہ اس وقت کی حکومت اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے کہنے پہ کیا تھا اور یہی ملکی مفاد میں تھا۔۔

شہباز شریف نے اپنے تحریری بیان میں کمیشن کو بتایا کہ ٹی ایل پی کی بارہ میں سے گیارہ ڈیمانڈز مان لی گئی تھیں،ایک ڈیماند اس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد کو ہٹانے سے متعلق تھی جو وفاقی حکومت سے متعلق تھی جو نہیں مانی جاسکتی تھی۔کمیشن نے پنجاب حکومت سے یہ بھی پوچھا کہ ٹی ایل پی کو روکا کیوں نہیں گیا بلکہ اس کو سہولت بہم فراہم کی گئی؟

 

اس پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نقص امن کے پیش نظر ٹی ایل پی کے لانگ مارچ کو نہیں روکا گیا۔شاہد خاقان عباسی نے کمیشن کے سامنےتمام اقدامات کی ذمہ داری قبول کی۔
ابصار عالم نے کمیشن کو بیان دیا کہ انھیں دھرنے کے دوران اس وقت کے ڈی جی سی جنرل فیض نے فون کیا تھا اور چینل 92نیوز کھولنے کے لئے دباؤ ڈالا تھا لیکن میں نے انکار کیا تو انھوں نے دوبارہ فون کرکے مجھے 92نیوز کے ساتھ دیگر تمام چینلز بند کرنے کا کہا، اس سے بھی میں نے انکار کیا لیکن اس کےباوجود اس کے بعد وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے تمام چینلز بند کردیئے تھے۔

 

کمیشن میں پیش ہونے والی نمایاں شخصیات میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی،سابق وزیر دفاع خواجہ آصف،سابق وزیرداخلہ احسن اقبال،سابق ڈی جی رینجرز پنجاب میجر جنرل نوید حیات
فواد حسن فواد، سابق ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان، موجودہ ڈی جی آئی بی فواد اسداللہ، سابق آئی جی پنجاب، دیگر پولیس افسران اور بیوروکریسی سے متعددافرادشامل تھے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس وقت کے ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان نے بھی کسی ایجنسی پر دھرنے کی معاونت کا الزام نہیں لگایا۔

 

پولیس افسروں کا کہنا تھاکہ اچانک مظاہرین کے بڑے ہجوم کےآنے کی وجہ سے آپریشن ناکام ہوا

 

۔
کمیشن نے اپنی فائنڈنگزمیں ٹی ایل پی کے دھرنے کی ذمہ داراس وقت کے وزیراعلی شہباز شریف کی پنجاب حکومت کو ٹھہرایا ہے جولانگ مارچ کو روکنے میں ناکام رہی،اس کے سدباب کے لئے مناسب اقدامات نہیں اٹھائے بلکہ ٹی ایل پی کو اسلام آباد تک آنے دیا۔کمیشن نے مستقبل میں اسطرح کے اقدامات سے بچنے کے لئے مختلف تجاویز اور سفارشات پر زور دیا ہے۔

 

انکوائری کمیشن تین افراد پر مشتمل تھا ،انکوائری رپورٹ کمیشن کے سربراہ اختر علی شاہ نے لکھی ہے۔
کمیشن کے دیگر افراد میں سابق آئی جی اسلام آباد طاہر عالم اور وزارت داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری خوشحال خان شامل ہیں۔کمیشن کے اراکین کو ہائیکورٹ کے جج کی مراعات دی گئی تھیں۔

 

ٹی او آرز کے مطابق کمیشن کو فیض آباد دھرنا اور اس کے بعد ہونے والے واقعات کے لیے ٹی ایل پی کو فراہم کی گئی غیر قانونی مالی یا دیگر معاونت کی انکوائری کا کام سونپا گیا تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے