سندھ کے پانی کے حقوق اور دریائے سندھ پر نئے کنال کے منصوبے*

سندھ کی سرزمین صدیوں سے دریائے سندھ کے پانی پر انحصار کرتی آئی ہے۔ زراعت، معیشت، اور عوامی زندگی کا دار و مدار اسی پانی پر ہے، مگر بدقسمتی سے سندھ کے حقوق کی پامالی اور پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کوئی نیا مسئلہ نہیں۔ پانی کے بحران نے زراعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے باعث لاکھوں کاشتکار مشکلات کا شکار ہیں۔

*سندھ کے پانی کے مسائل اور ان کی وجوہات*

ماہرین کے مطابق، سندھ کو ہمیشہ پانی کی تقسیم کے معاملے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ 1991 کے پانی کی تقسیم کے معاہدے کے باوجود سندھ کو اس کے حصے کا پانی مکمل طور پر نہیں ملتا، جس کی بڑی وجوہات میں غیر منصفانہ تقسیم، دیگر صوبوں میں نئے ڈیموں اور کینال منصوبوں کی تعمیر، اور موسمیاتی تبدیلیاں شامل ہیں۔

حالیہ برسوں میں پانی کی کمی کے باعث سندھ کے دریائی علاقوں میں زراعت متاثر ہوئی ہے، جس سے مقامی کسان سخت مشکلات میں گھر گئے ہیں۔ پانی کی قلت نہ صرف زرعی شعبے بلکہ ماہی گیری اور پینے کے پانی کی فراہمی پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔

*تحریک انصاف کا مؤقف اور جدوجہد*

پاکستان تحریک انصاف، خاص طور پر عمران خان، نے ہمیشہ سندھ کے حقوق کے تحفظ کا عزم کیا ہے۔ عمران خان کا نظریہ ہے کہ سندھ کو اس کے جائز پانی کا حصہ دیا جانا چاہیے اور کسی بھی صوبے کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ تحریک انصاف نے ہمیشہ پانی کی منصفانہ تقسیم کی حمایت کی ہے۔

حالیہ دنوں میں تحریک انصاف سندھ کے صدر، حلیم عادل شیخ، نے سندھ کے پانی کے حقوق اور دریائے سندھ پر بننے والے نئے منصوبوں کے خلاف ایک مضبوط مؤقف اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ کے عوام کو ان کے پانی کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا اور دریائے سندھ پہ بننے والے اٹھ نئے کنال سندھ کی کسانوں کا معاشی قتل ہوگا۔

تحریک انصاف نے سندھ بھر میں پانی کے حقوق کی آگاہی مہم چلائی ہے، جس میں گیارہ سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔ حلیم عادل شیخ نے میڈیا، احتجاجی مظاہروں، اور سرکاری سطح پر آواز بلند کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ پانی کے مسئلے پر سیاست کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

عمران خان نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ سندھ کے عوام کو ان کا حق ملنا چاہیے اور پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کرپشن اور اقربا پروری سندھ کے مسائل کی جڑ ہیں اور جب تک شفافیت کو یقینی نہیں بنایا جاتا، سندھ کے عوام کے ساتھ ناانصافی جاری رہے گی۔

*پیپلز پارٹی کی منافقانہ سیاست اور دوغلا طرزِ حکمرانی*

پیپلز پارٹی جو خود کو سندھ کے عوام کی نمائندہ جماعت قرار دیتی ہے، وہی سب سے زیادہ سندھ کے حقوق کی پامالی میں ملوث رہی ہے۔ سندھ میں مسلسل کئی دہائیوں سے حکومت کرنے کے باوجود پیپلز پارٹی نے پانی کے بحران پر کبھی سنجیدہ اقدامات نہیں کیے۔

تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں کا موقف ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ہمیشہ پانی کے مسئلے کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور کبھی بھی سندھ کے کسانوں اور عوام کے لیے کوئی حقیقی پالیسی وضع نہیں کی۔ عملی طور پر، سندھ کے کسان پانی کے لیے ترس رہے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنما مبینہ طور پہ اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث ہیں۔ پانی کی قلت کی بڑی وجوہات میں ایک بڑی وجہ سندھ حکومت کی نااہلی اور کرپشن بھی ہے۔

*صدر آصف زرداری کی دوغلی پالیسی: نئے کنال کی منظوری اور احتجاج کا ڈرامہ*

جولائی 2024 میں، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے ایک اہم میٹنگ کی صدارت کی، جس میں دریائے سندھ سے مزید پانی نکالنے کے لیے نئے کنال بنانے کی منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے ہدایات جاری کی گئیں کہ ان نئے کنال پہ جلد از جلد کام مکمل کیا جائے۔

تاہم، جب سندھ کے عوام اور کسانوں نے ان منصوبوں کے خلاف زبردست احتجاج کیا اور تحریک انصاف سمیت مختلف جماعتوں نے دباؤ ڈالا، تو پیپلز پارٹی نے دوغلے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا مؤقف بدل لیا۔ اب وہی پارٹی جو ان منصوبوں کی حمایت کر رہی تھی، عوام کے غصے کو دیکھتے ہوئے احتجاج کا ڈرامہ رچا رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کے وزراء اور رہنما جو پہلے ان منصوبوں کے حق میں تھے، اب عوام کے جذبات کو دیکھتے ہوئے پانی کے حقوق کے دفاع کا ناٹک کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف سیاسی چالاکی ہے تاکہ عوام کو گمراہ کیا جا سکے اور اپنی ناکامیوں کو چھپایا جا سکے۔ اگر پیپلز پارٹی واقعی سندھ کے پانی کے حقوق کے لیے سنجیدہ ہوتی، تو وہ ان منصوبوں کو خود منظور نہ کرتی۔

*دریائے سندھ پر نئے منصوبے اور ان کے اثرات*

سندھ کے عوام اور ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ دریائے سندھ پر بننے والے آٹھ کنال کے منصوبے سندھ کے آبی وسائل پر مزید دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ اگر ان منصوبوں کو مکمل شفافیت کے بغیر نافذ کیا گیا، تو اس کے اثرات سندھ کی زراعت، معیشت، اور ماحولیاتی نظام پر تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ ڈیلٹا میں اور کوٹری وراج کے نیچے مناسب مقدار میں پانی نہیں جا رہا جس کی وجہ سے پہلے سے ہی سندھ کی لاکھوں ایکڑ زمین سمندری پانی کے نیچے ا چکی ہے ماہرین کے مطابق اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو سندھ کے بڑے شہر بھی سمندری پانی کی وجہ سے زیر اب ا کر اپنی صفائی ہستی سے مٹ سکتے ہیں۔

*ممکنہ حل اور سفارشات*

1. پانی کی منصفانہ تقسیم: 1991 کے معاہدے کے مطابق سندھ کو اس کے حصے کا پانی مکمل طور پر دیا جائے۔

2. سندھ میں پانی کی قلت کو کم کرنے کیلئے فوری طور پہ سندھ میں مناسب مقامات پہ چھوٹے ڈیم بنائے جائیں۔

3. ماحولیاتی تحفظ: پانی کی قلت کے حل کے لیے ماحول دوست پالیسیوں کو فروغ دیا جائے، جیسے جدید آبپاشی نظام اور پانی کی بچت کے منصوبے۔

4. مشترکہ واٹر کمیشن: تمام صوبوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک آزاد واٹر کمیشن تشکیل دیا جائے جو پانی کی تقسیم کو مانیٹر کرے۔

5. سندھ میں عمران خان کے ویژن کے مطابق بلین ٹری سونامی طرز کی شجرکاری فوری طور پر شروع کی جائے اور موجودہ درختوں کو محفوظ رکھنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں۔

سندھ کے پانی کے حقوق کا معاملہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ زندگی اور بقا کی جنگ ہے۔ اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا، تو مستقبل میں سندھ کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عمران خان کے قومی نظریے کے تحت، حلیم عادل شیخ کی یہ جدوجہد سندھ کے عوام کے لیے امید کی کرن ہے۔ اگر یہ تحریک اسی طرح جاری رہی تو وہ دن دور نہیں جب سندھ کے حقوق کو تسلیم کیا جائے گا اور اس کی محرومیوں کا ازالہ ہوگا۔

پیپلز پارٹی کی نااہلی اور کرپشن نے سندھ کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ جب تک سندھ کے عوام اپنے حقیقی مسائل کو سمجھ کر ان نااہل حکمرانوں کا محاسبہ نہیں کرتے، تب تک ان کے مسائل کا کوئی مستقل حل ممکن نہیں۔ سندھ کے حقوق کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ پانی کے معاملے پر سنجیدہ اقدامات کیے جائیں اور کرپٹ حکمرانوں کو بے نقاب کیا جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے