اسلامی نظامِ حیات

قرآن و سنت نے ہمیں آگاہ کیا ہے کہ اس کائنات کو ایک وحدہٗ لا شریک ذات نے پیدا فرمایا۔ پھر اسی ذات کے تعارف کے حوالے سے انہیں مآخذات سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ محض اس کائنات کا خالق نہیں، بلکہ اس کا مدبّر، منتظم، اور تقدیر ساز بھی ہے۔ اس کائنات کی ہر شے پر اسی کا مالکانہ حق ہے، اور اس کے ان حقوق میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتا۔

وہ ذات اپنی مخلوقات کی تمام ضروریات سے بخوبی باخبر ہے۔ صرف باخبر ہی نہیں بلکہ اس نے ان تمام ضروریات کی تکمیل کے لیے اس کائنات میں وسائل بھی مہیا فرمائے ہیں۔ ان وسائل کی تخلیق کے ساتھ ساتھ، ان تک پہنچنے کے معقول اور مناسب راستوں کی طرف بھی مخلوق کی راہنمائی فرمائی تاکہ وہ اپنی ضروریات کو بروئے کار لا کر پورا کر سکے۔

وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ إِلَى ٱلنَّحْلِ أَنِ ٱتَّخِذِى مِنَ ٱلْجِبَالِ بُيُوتًۭا وَمِنَ ٱلشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ ( سور النحل:آیت 68)

ترجمہ: "اور دیکھو، تمہارے رب نے شہد کی مکھی پر وحی کی کہ پہاڑوں، درختوں اور (ان) بیلوں میں گھر بنا، جو لوگ چڑھاتے ہیں۔”

ثُمَّ كُلِى مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ فَٱسْلُكِى سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًۭاۚ يَخْرُجُ مِنۢ بُطُونِهَا شَرَابٌۭ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَٰنُهُۥ فِيهِ شِفَآءٌۭ لِّلنَّاسِ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَآيَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ (سورہ النحل:آیت69)

ترجمہ: "پھر ہر قسم کے پھلوں کا رس چوس اور اپنے رب کے ہموار کردہ راستوں پر چلتی رہ۔ اس مکھی کے پیٹ سے ایک ایسا شربت نکلتا ہے جو مختلف رنگوں کا ہوتا ہے، اور لوگوں کے لیے اس میں شفا ہے۔ یقیناً اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے نشانی ہے۔”

بطورِ انسان ہمیں یہ بھی سمجھایا گیا ہے کہ اگر خالقِ کائنات کے مقرر کردہ راستوں کو چھوڑ کر دوسرے راستوں پر چلو گے تو خود بھی گمراہ ہو جاؤ گے اور دوسروں کے لیے بھی گمراہی کا ذریعہ بنو گے۔ کیونکہ خالق کے مقرر کردہ راستے محض مشورے یا تجاویز نہیں، بلکہ اس کے واجب الاتباع احکام ہیں، جن کی تعمیل انسان پر لازم ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد اسے محض عقل اور تجربے کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا، بلکہ اس کی راہنمائی کے لیے اپنے برگزیدہ بندوں کا انتخاب فرمایا—ایسے بندے جو تمام انسانوں میں سب سے افضل تھے۔ ان کے ذریعے جو ہدایت انسانوں کو دی گئی، وہ ہر لحاظ سے کامل اور واضح تھی۔ جس طرح یہ انبیائے کرام کامل اور جامع تھے، اسی طرح ان کے ذریعے دی گئی ہدایت بھی کامل اور جامع ہے۔

ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَـٰمَ دِينٗاۚ
(سورہ المائدہ: آیت 3)
ترجمہ: "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو (بطور) دین پسند کر لیا۔”

اللہ تعالیٰ نے دین کو محض مکمل نہیں کیا، بلکہ یہ بھی صراحتاً بیان فرما دیا کہ دین اسلام کی یہ تکمیل اس لیے کی گئی ہے تاکہ تم اسے اپنا دستورِ حیات بناؤ۔ یہ کوئی سفارشاتی یا اختیاری نظام نہیں ہے کہ جسے چاہو اختیار کرو اور جسے چاہو چھوڑ دو۔ بلکہ قرآن مجید واضح طور پر حکم دیتا ہے:

يَا أَيُّهَا ٱلَّذِينَ آمَنُواْ ٱدْخُلُواْ فِى ٱلسِّلْمِ كَآفَّةًۭ وَلَا تَتَّبِعُواْ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيْطَٰنِ ۚ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ
(سورۃ البقرہ: آیت 208)
ترجمہ: "اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو، بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔”

قرآن کی اس آیت میں چند بنیادی باتیں نہایت وضاحت سے سامنے آتی ہیں:

پہلی بات: ایمان لانے والوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اسلام میں مکمل طور پر داخل ہو جاؤ—یعنی خدا کا مطالبہ صرف جزوی اسلام کا نہیں، بلکہ مکمل اسلام کا ہے۔ اسلام، جزء اور کل کی تقسیم کو تسلیم نہیں کرتا۔ اسلام کا تقاضا ہے کہ اس کے تمام اجزاء کو تسلیم کیا جائے اور ان پر عمل کیا جائے، الاّ یہ کہ کسی حقیقی عذر کے باعث کسی جزء پر وقتی طور پر عمل ممکن نہ ہو۔

یہ آیت دراصل سیکولرازم کے تصور کی نفی کرتی ہے۔ اگر کوئی مسلمان ہو کر سیکولرازم کو اسلام کے ساتھ ہم آہنگ سمجھتا ہے تو اس سے سوال یہ بنتا ہے کہ "کل اسلام” سے آپ کی مراد کیا ہے؟ وہ کون سے اجزاء ہیں جنہیں آپ کل اسلام میں شمار کرتے ہیں؟ اور ان کی تائید قرآن و سنت سے کیا ہے؟

یاد رہے کہ یہاں "لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ” کو دلیل نہیں بنایا جا سکتا، کیونکہ اس آیت میں خطاب "یَا أَيُّهَا ٱلَّذِينَ آمَنُواْ” سے ہے—یعنی مومنوں سے، جبکہ "اکراہ” والی آیت غیر مسلموں کے لیے ہے۔

آیت کا اگلا حصہ "وَلَا تَتَّبِعُواْ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيْطَٰنِ” واضح کرتا ہے کہ "ادخلوا فی السلم کافة” کے برعکس رویہ اپنانا دراصل شیطانی راستہ ہے۔ یہاں بتایا گیا ہے کہ ایک راستہ خدا کا ہے، اور ایک شیطان کا۔ خدا کے راستے کو اختیار کرنا لازم ہے، اور شیطانی راستے سے اجتناب بھی اسی درجے کا فرض ہے۔ بلکہ یہ اجتناب بھی کلی ہونا چاہیے، جزوی نہیں۔

مزید برآں، "عدو مبین” کا ذکر اس بات کو واضح کرتا ہے کہ شیطان کے راستے سے محض اجتناب کافی نہیں، بلکہ اس راستے میں مزاحمت بھی درکار ہے، کیونکہ دشمنی کا مطلب خود بخود کشمکش اور مقابلہ پیدا کرتا ہے۔ چنانچہ اسلام خدا کی اطاعت اور شیطانی قوتوں کے خلاف جہدِ مسلسل کا نام ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو انبیاء کے ذریعے راہنمائی دے کر محض ہدایت نہیں فرمائی بلکہ اپنے مختلف صفات مثلاً سمیع، بصیر، علیم، خبیر وغیرہ کا بار بار ذکر کر کے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح فرما دی کہ وہ تمہارے تمام اعمال، اقوال، حتیٰ کہ دل کے خیالات سے بھی باخبر ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ان صفات کا بار بار ذکر کیوں فرماتا ہے؟ اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ انسان سے اللہ کا مطالبہ یہ ہے کہ تم جو کچھ بھی کرو، اس کے مقرر کردہ دائرہ شریعت کے اندر کرو—حتیٰ کہ دل کے خیالات کو بھی پاک رکھو، کیونکہ اس پر بھی اللہ کی نگاہ ہے۔

اس سے یہی بات اخذ ہوتی ہے کہ اسلام انسان کی پوری زندگی کا احاطہ کرتا ہے—ادخلوا فی السلم کافة کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا کوئی بھی گوشہ اسلام سے باہر نہ ہو—خواہ انفرادی ہو یا اجتماعی۔
جاری ہے……

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے