دَ امن ژاغ

ہمارے ہاں بدامنی کی وجہ سے ایسی فضا پیدا ہو چکی ہے کہ اس کی سنگینی کو بیان کرنے کی حاجت نہیں رہی۔ بدامنی کی شدت خود بزبانِ حال بتا رہی ہے کہ وہ ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔ ان حالات کے تناظر میں جماعتِ اسلامی نے پشاور میں ایک جرگہ منعقد کیا ہے۔ دوسری طرف صوبۂ بلوچستان سے جماعتِ اسلامی ہی کی قیادت میں بلوچستان سے اسلام آباد تک امن مارچ جاری ہے، جو اس وقت پنجاب میں داخل ہو چکا ہے۔

یہ خوش آئند بات ہے کہ پنجاب کے مختلف شہروں میں جماعتِ اسلامی کے زیرِ انتظام اس مارچ کا جگہ جگہ استقبال کیا جا رہا ہے۔

قطع نظر اس کے کہ کسی کی سیاسی یا نظریاتی وابستگی کس گروہ سے ہے، میرے خیال میں اس وقت ہمیں سیاسی و نظریاتی اختلافات سے ہٹ کر مشترکات کی بنیاد پر جماعتِ اسلامی کے اس نیک اقدام میں شریک ہونا چاہیے۔ میرا ماننا ہے کہ یہ ایسا کام ہے جس کے لیے منظم انداز سے جدوجہد کی ضرورت ہے، اور ہمارے پاس اگر کوئی منظم جماعت موجود ہے تو وہ جماعتِ اسلامی ہی ہے۔ اسی طرح جماعتِ اسلامی کے ساتھ ملک کے ہر گوشے سے ایسے لوگ موجود ہیں جن کی سوچ اپنے علاقے تک محدود نہیں کیونکہ وہ ایک نظریاتی جماعت کا حصہ ہیں۔ جماعت کے زیرِ قیادت یہ جدوجہد اس لیے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے کہ جماعتِ اسلامی کی وجہ سے ملک کے تمام حصوں سے امن کی اس تحریک کو تائید حاصل ہوگی۔

ایک اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ حالیہ دہشت گردی کے حوالے سے جماعتِ اسلامی کا مؤقف ابتدا ہی سے واضح چلا آ رہا ہے۔ اگر آپ سابق امیرِ جماعت، سید منور حسن مرحوم، کا قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز کے حوالے سے مؤقف سنیں تو اس میں آج والا مؤقف ہی نظر آتا ہے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اگر ہم اس حوالے سے جماعتِ اسلامی کا ساتھ دیں تو اسے اسٹیبلشمنٹ کے لیے آسانی سے دبانا ممکن نہیں ہوگا، کیونکہ ان کے کوئی زیرِ التوا کیسز عدالتوں میں موجود نہیں اور نہ ہی انہوں نے بینکوں سے قرضے معاف کروائے ہیں۔ اسی طرح ہر سطح پر ان کے پاس اپنا منظم نیٹ ورک موجود ہے اور ان میں ایسے لوگ شامل ہیں جو برسوں سے امن کی بات کرتے چلے آ رہے ہیں اور وہ بھی بڑی جرات کے ساتھ، جیسے خان ولی، شاہ فیصل آفریدی، پروفیسر ابراہیم، مشتاق احمد خان، مولانا ہدایت اللہ بلوچ وغیرہ۔

جماعتِ اسلامی کے لوگ اسٹیبلشمنٹ کے ٹکر کے لوگ ہیں۔ ان کی تاریخ خواہ کتنی ہی مسخ کی جائے، لیکن یہ ایک ریکارڈ شدہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں مجموعی طور پر جن لوگوں کو سب سے زیادہ جیلوں کی سزائیں دی گئیں، وہ جماعتِ اسلامی والے ہی ہیں۔ آج تک انہیں اقتدار نہ ملنا، باوجود اس کے کہ جماعتِ اسلامی کا قیام پاکستان بننے سے پہلے ہوا تھا، اس بات کی بڑی دلیل ہے کہ جماعتِ اسلامی اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہیں ہے۔ ہاں، البتہ ضیاء الحق مرحوم کی کابینہ میں نو ماہ تک شامل رہنا جماعت کی ایک غلطی تھی، لیکن اس غلطی میں تقریباً تمام سیاسی جماعتیں شامل تھیں۔

بہرحال اس وضاحت سے میری مراد یہ ہرگز نہیں کہ آپ جماعتِ اسلامی میں شامل ہو جائیں۔ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ امن ہمارا مشترکہ مسئلہ ہے، اس لیے اگر جماعتِ اسلامی جیسی منظم جماعت ہمیں کوئی پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے تو ہمیں اس ضمن میں ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ ہمارے حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ ان میں مزید یہ گنجائش نہیں رہی کہ ہم سیاسی یا نظریاتی اختلافات کو پالتے رہیں۔ ہمیں امن چاہیے، اور امن کے لیے جو بھی سامنے آئے، اس کا ساتھ دینا چاہیے۔

میرا ذاتی رویہ اور نظریہ یہ ہے کہ اگر کوئی امن کے لیے آگے بڑھتا ہے تو میں اس کے حق میں بولتا ہوں، اگر کوئی جرگہ کرتا ہے تو اس کا ساتھ دیتا ہوں، کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے بچوں کو امن کی ضرورت ہے اور ہمیں اسی پر فوکس کرنا چاہیے۔ اور ہم امن پر تبھی فوکس کریں گے جب ہم اشخاص اور گروہوں سے ہٹ کر امن کے لیے متحد ہو جائیں گے۔

کوئی یہ سوال بھی اٹھا سکتا ہے کہ یہ سب سیاست ہے۔ تو بھائی! ہمیں تو ایسے لوگ چاہییں جو ایشوز پر سیاست کریں، نہ کہ ہوائی فائرنگ والی سیاست۔ اگر ہمیں اس دلدل سے نکالنے کے لیے کوئی شخص یا گروہ ملتا ہے تو ہمیں اسے سر آنکھوں پر بٹھانا چاہیے۔

آخر میں جماعتِ اسلامی کی قیادت سے گزارش ہے کہ آپ لوگ اس جرگے میں قبائل، اے این پی، پی ٹی ایم، پی ٹی آئی، جے یو آئی وغیرہ سب کو مدعو کریں، اور اگر ان کے کوئی معقول شرائط ہوں تو انہیں قبول کریں۔
اور ساتھ یہ بھی عرض ہے کہ اس جرگے کو محض ایک جرگہ بننے نہ دیا جائے بلکہ اسے ایک منظم اور مستقل تحریک کی شکل دی جائے، جو اُس وقت تک جاری رہے جب تک ملک میں امن قائم نہیں ہو جاتا۔ اسی جرگے میں تحریک کا طریقۂ کار بھی طے کیا جائے، اور اس تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف زعماء کو نگرانی اور قیادت کے لیے منتخب کیا جائے، جن کا تعلق مختلف سیاسی اور سماجی گروہوں سے ہو۔

یہ بھی عرض ہے کہ چونکہ جماعتِ اسلامی کا پورے ملک میں ایک مضبوط نیٹ ورک موجود ہے، اس لیے مختلف صوبوں سے مخلص اور بااثر شخصیات کو بھی اس جرگے کا حصہ بنایا جائے، تاکہ ہم پوری قوم سے براہِ راست مخاطب ہو کر اپنے حالات اور مؤقف ان کے سامنے پیش کر سکیں اور ان سے اپنی اس تحریک میں شمولیت کی اپیل بھی کر سکیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے