ان دنوں ممبئی کے جاوید اختر پاکستان میں بہت ’’اِن‘‘ ہیں، انہوں نے گزشتہ دنوں پاکستان کے بارے میں کافی زہر اُگلا اور اسکا جواب پاکستان کے تمام ادبی و غیرادبی حلقوں کی طرف سے سامنے آیا۔ جاوید اخترسے میری دو تین ملاقاتیں ہیں، دو ملاقاتیں انڈیا میں اور ایک پاکستان میں ہوئی۔ وہ بہت اچھی پرسنیلٹی کے مالک ہیں، مشاعروں میں ان کو بہت اہتمام سے بلایا جاتا ہے۔ مگر مجھے ان کی شاعری نے کبھی متاثر نہیں کیا۔ سو ممبئی کی فلم انڈسٹری سے وابستگی اور چند مقبول گیت لکھنے سے ان کی آئو بھگت بہت کی جاتی ہے۔ لاہور میں فیض احمد فیض ایسے باکمال شاعر، باکمال انسان اور باکمال پاکستانی کی پذیرائی فیض صاحب کی اولاد فیض کے نام پر کاروبار کر رہی ہے۔ وہ کسی اور کو مدعو کرے نہ کرے فلمی دنیا کے حوالے سے شہرت یافتہ جاوید اختر کو ضرور مدعو کرتی ہے اور انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ وہ پاکستان کے بارے میں کیا کہتے ہیں مگر دوسرے پاکستانیوں کو اس سے تکلیف پہنچتی ہے۔ تاہم جاوید کا ذکر بعد میں پہلے شبانہ بیگم سے مل لیں۔
روزِ اوّل سے سرمد صہبائی میراپسندیدہ شاعر ہی نہیں، پسندیدہ شخص بھی ہے۔ گزشتہ دنوں میں نے جاوید اختر کی بیگم اور اداکارہ شبانہ کے حوالے سے ایک دلچسپ تحریر پڑھی، سرمد ایک کھلے دل و دماغ کا شخص ہے، اسکی پاکستان سے محبت (میری طرح) جارحانہ نہیں، بلکہ بہت مقصدی ہے، مگر جاوید اور شبانہ کے رویوں نے انہیں بھی ’’اگریسو‘‘ بنا دیا۔
میں اب اپنی طرف سے کچھ نہیں کہوں گا کہ سرمد کی گفتگو کا مزا خراب ہوگا، سو میں درمیان سے نکلتا ہوں اور آپ اور سرمد کو آمنے سامنے کرتا ہوں!’’یہ ایک نہ بھولنے والی رات تھی۔ 1989ء میں شبانہ اعظمی جمیل دہلوی کی فلم The Immaculate Conceptionمیں کام کرنے پاکستان تشریف لائی تھیں۔ میں اس زمانے میں اپنی فلم فنکار گلی بنا رہا تھا۔ جمیل کا مقامی پروڈیوسر احسن چوہدری جسے میں پیار سے پنڈت کہتا تھا، میری فلم کا بھی پروڈیوسر تھا۔ تقریباً ہر شام پنڈت کے گھر ہماری محفل جمتی۔ میں جمیل کے سکرپٹ کے اردو کے مکالمے لکھ رہا تھا۔ اس میں پاکستانی جرنلسٹ خاتون کا بھی رول تھا جسکے ایک انگریز کے ساتھ تعلقات بنتے ہیں اور وہ اسے پاکستان کے کچھ خفیہ راز بتاتی ہے۔ رول کوئی زیادہ اہم نہیں تھا، لیکن اس کیلئے جمیل نے شبانہ اعظمی کو کاسٹ کیا تھا۔ جب شبانہ کراچی تشریف لائیں تو ہر آدمی ان سے ملنا چاہتا تھا۔
بڑے رئیس زادے اور سیاست دان انہیں گھر بلانا چاہتے تھے۔ ایک دن جمیل نے مجھ سے کہا تم شبانہ سے ملنا چاہتے ہو؟ میں نے شبانہ کی کچھ فلمیں دیکھی ہوئی تھیں۔ خاص طور پر جن کو شیام بینیگل نے ڈائریکٹ کیا تھا اور ان میں مجھے ان کی اداکاری بہت پسند آئی تھی۔ میں شبانہ جی کا مداح تو ضرور تھا لیکن میں کبھی کسی مشہور شخصیت کو زندگی میں نہ تو خواہ مخواہ ملا تھا اور نہ ملنا چاہتا تھا۔ میں نے کہا اگر وہ اسی طرح جیسے یہاں تم بیٹھے ہو ہمارے ساتھ بیٹھی ہوں تو کوئی حرج نہیں، لیکن میں ان سے خاص طور پر نہیں ملنا چاہتا۔ جمیل نے کہا میں اسے تمہارے بارے میں بتا دوں گا۔ وہ تمہارے ساتھ مل لے گی۔ میں نے اسے پھر کہا یار! میں اس کو اس طرح نہیں ملنا چاہتا۔ اتفاقاً ملاقات ہو جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔
اس پر پنڈت نے کہا بکواس نہ کرو۔ میں بھی اس سے ملنا چاہتا ہوں ہم دونوں اکٹھے ملیں گے۔ میں خود تمہیں ساتھ لے کر جائوں گا۔کراچی شہر میں شبانہ کا والہانہ استقبال کیا جا رہا تھا۔ روزانہ وہ کسی نہ کسی ڈنر پارٹی میں بلائی جاتیں۔ انکے ساتھ تصویریں کھنچوائی جاتیں اور ان کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا۔ دوسرے دن جمیل نے کہا شبانہ سے اس کی بات ہو گئی ہے تم لوگ رات گیارہ بجے اسے پارٹی سے لے کر کہیں اکیلے بیٹھ کر گپ شپ کر لینا۔ پنڈت شام کو نہا دھو کر خوب تیاری کے ساتھ مجھے کار میں بٹھا کر ایک عالی شان بنگلے میں لے گیا۔ میں نے کہا تم اندر جائو اور شبانہ جی کو لے آئو۔ میں گاڑی کے اندر ہی بیٹھتا ہوں۔ تھوڑی دیر بعد شبانہ جی نیلی ساڑھی میں ملبوس پائوں میں اونچی ایڑیاں پہنے باہرآئیں اور کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئیں۔ کوئی خاص تعارف نہ ہوا۔ بس گاڑی کراچی کی کشادہ سڑکوں پر چل پڑی۔ چاروں طرف سانیو، فلپس ٹی وی، پیناسونک اور ایسی کئی کمپنیوں کے بڑے بڑےنیون سائز چکاچوند پیدا کر رہے تھے۔
ایک دم پچھلی سیٹ سے آواز آئی۔ Why you Pakistani People are so colonial ?’’تم پاکستانی لوگ اتنے کلونیل کیوں ہو؟‘‘میں شبانہ جی کے لہجے اور طرزِ تخاطب پر حیران ہوا ۔ یہ تم پاکستانی لوگ کلونیل؟اس سے پہلے کہ ہم میں سے کوئی بولتا۔ انہوں نے پھر فرمایا:What are these multinationals doing here.Why don’t you throw them out?’’یہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اشتہار یہاں کیا کر رہے ہیں؟ آپ ان کو اپنے ملک سے باہر کیوں نہیں نکالتے؟‘‘ہم دونوں بالکل خاموش رہے یوں لگا جیسے وہ کوئی بیگم ہیں اور ہم ان کے دو ملازم ،جنہیں ڈانٹا جا رہا ہے۔ میرے ذہن میں تھا کہ ہم ان سے کوئی فلموں کی بات کریں گے کچھ ادب اور کلچر کے بارے میں گپ شپ کریں گے لیکن وہ تو کسی اور ہی موڈ میں تھیں۔
Where are the slums of this city?تھوڑی دیر بعد پھر بولیں ’’اس شہر کی غریب آبادیاں کہاں ہیں؟‘‘یاد رہے کہ یہ سب گفتگو وہ انگریزی یعنی ایک نوآبادیاتی زبان میں کر رہی تھیں۔’’وہ ان بلڈنگز کے پیچھے ہیں‘‘ پنڈت نے ڈرتے ڈرتے بلند عمارتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:So you have pushed them behind these tall buildings’’اچھا تو آپ لوگوں نے انہیں ان اونچی بلڈنگوں کے پیچھے دھکیل دیا ہے‘‘ایک اور ڈانٹ پڑی۔ اپنے ملک سے محبت سبھی کو ہوتی ہے، لیکن اس کو بہانہ بنا کر کسی دوسرے ملک کو نیچا دکھانا کم از کم ایک آرٹسٹ کو زیب نہیں دیتا۔ بھارت سے بہت سے فنکار پاکستان آ چکے ہیں۔ دلیپ کمار، اوم پوری، نصیر الدین شاہ، شیام بینیگل اور کئی ادیب اور شاعر جیسے شمس الرحمن فاروقی اور شمیم حنفی صاحب۔
جاوید اختر اور شبانہ اعظمی جیسے فنکاروں سے ہماری سرزمین کا واسطہ محض فنونِ لطیفہ کی حد تک رہا ہے لیکن جب یہی شخصیات سرحد پار بیٹھ کریا ہمارے ملک میں آ کر تہذیب و تمدن پر تنقید کے نشتر برساتی ہیں تو ہمارا خون کھول اٹھتا ہےگزشتہ کالم میں ،میں ،نے شبانہ اعظمی کی پاکستان آمد اور انکےمتکبر رویے کا ذکر سرمد صہبائی کےمضمون کے حوالے سے کیا تھا اسکی دوسری قسط پیش ہے۔سرمد صہبائی نے کہا میںنے ان میں سے کسی کو بھی پاکستان کے بارے میں اتنی ہٹ دھرمی کیساتھ بات کرتے نہیں دیکھا۔ اسی طرح ہمارے بہت سے فنکار، ادیب شاعر بھارت جا چکے ہیں، فیض صاحب، احمد فراز، نور جہاں، مہدی حسن اور بہت سے اور جنہوں نے ہمیشہ امن، انسان دوستی اور محبت کا پیغام دیا ہے لیکن افسوس کچھ ایسے کم ظرف بھارتی بھی ہیں جو باہر کے ملکوں میں اور بھارت میں کسی نہ کسی طرح ہمیں یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اصل میں تو ہندوستان ایک ہی ہے لیکن ہم پاکستانیوں نے بلاوجہ اپنی ڈیڑھ انچ کی الگ مسجد بنا لی ۔میرے ساتھ اکثر ایسے واقعات پیش آئے،جن میں سے ایک چھوٹا سا واقعہ یوں ہے کہ مجھے اوسلو ناروے کی آرٹس کونسل میں انگریزی میں تھیٹر پرایک مقالہ پڑھنا تھا۔ اس کانفرنس کے ناظرین میں نارویجینز کے ساتھ کچھ سکھ اور بھارت کے لوگ بھی شامل تھے۔ مقالے کے بعد سوال جواب کے وقفے میں ایک بھارت کے باشندے جنکا پورا نام تو مجھے یاد نہیں بس ’دتا‘ یاد ہے۔ وہ اٹھے اور کہا، ’دیکھیں بھائی صاحب آپکی موسیقی تو ہماری موسیقی ہے۔ آپ تو وہی گاتے ہیں جو ہم گاتے ہیں۔ ذرا اسکی وضاحت کریں‘ دتا جی کے اس سوال کا میرے مقالے سے کوئی تعلق نہیں بنتا تھا لیکن وہ حاضرین کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ اصل میں تو ہم ایک ہی ہیں لیکن پاکستانیوں نے اپنا ایک الگ ملک بنا رکھا ہے۔میں نے ان سے نہایت عزت اور احترام کے ساتھ کہا، ’بالکل جناب ہماری اور آپ کی ثقافت میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں لیکن کچھ مختلف بھی ہیں‘ اس پر وہ بضد ہو گئے اور بار بار یہی سوال دہرانے لگےمیں نےیکدم انہیں پنجابی میں کہا، ’دتا جی، قوالی ہے جے؟، کافی گا لیندے او؟، غزل ہے جے؟، گجل ای گاندے او ناں‘ (قوالی ہے آپ کے پاس؟ کافی گا لیتے ہیں آپ؟ غزل ہے؟ گجل ہی گاتے ہیں نا آپ؟) اس پر جو لوگ پنجابی سمجھتے تھے وہ کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ میں نے کہا ’دتا جی ایہہ گل میں پنجابی وچ ایس لیٔ کہہ رہیا اں جے ایتھے باہر دے ملکاں دے لوگ وی بیٹھے ہوئے نیں۔ میں نئیں چاہندا اوہناں نوں ایس گل دا پتہ لگے‘ ( دتا صاحب میں یہ بات میں اس لیے پنجابی زبان میں کہہ رہا ہوں کہ یہاں باہر کے ملکوں کے لوگ بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ ان کو اس بات کا پتہ چلے) اس پر پھر ایک قہقہہ لگا۔میری شبانہ جی سے ہرگز یہ توقع نہیں تھی کہ وہ ہم سے دتا جیسی گفتگو فرمائیں گی، میں نے دل میں سوچا ’مانیا گل ودھ گئی اے‘ (بات بڑھ گئی ہے یعنی برداشت سے باہر ہو گئی ہے)۔ میں نے نہایت عاجزی سے ان سے کہا، ’اصل میں شبانہ جی دنیا میں جو بھی نئی چیز ایجاد ہوتی ہے اسے ہر شخص حاصل کرنا چاہتا ہے، اور اس پر اس کا حق بھی ہوتا ہے۔ اب ہمارے اور آپ کے ورکرز جب دبئی جاتے ہیں تو ذرا سوچیں وہ وہاں سے کیا لانا چاہتے ہیں، یہی وی سی آر، ٹی وی سیٹس، کیمرے، اب یہ سب کچھ اگر ہم نے ایجاد کیا ہوتا تو ظاہر ہے یورپ، جاپان امریکا ہم سے یہ چیزیں خریدتے۔ ویسے بھی ہم آپ ٹیکنالوجی میں جتنی بھی ترقی کر لیں وہ آج کی بیسویں صدی میں یورپ امریکا سے کم تر اور ناپائیدار ہو گی اس لیے کہ بغیر کسی مقامی صنعتی انقلاب کے ہم ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی نہیں بنا سکتے اور جو بھی بنائیں گے اس میں کوئی نہ کوئی نقص ضرور رہ جائیگا، لیکن ہم پھر بھی بھارت کو سیلوٹ کرتے ہیں کہ اس نے ان ساری غیر ملکی چیزوں پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اب آپ نے تو پہیہ بھی دوبارہ سے ایجاد کر لیا ہے میرا مطلب ہے اپنی موٹر کار بنالی ہے، بس اس میں ایک ہی نقص ہے کہ وہ صحیح طرح موڑ نہیں کاٹ سکتی۔ میرے خیال میں بیسویں صدی میں اس طرح کا نیشنلزم Regressive اور primitive ہو گا۔ ’میرے ان لفظوں یعنی قدامت پسندی اور فرسودہ قومیت پسندی اور پہیے کی دوبارہ ایجاد پر شبانہ جی غصے میں آ گئیں لیکن جواب دیے بغیر پھر کہا ’I have to see the slums of this city‘، ’مجھے اس شہر کے سلمز دیکھنے ہیں۔ ‘ ’میں نے کہا‘ شبانہ جی غربت تو ہمارے ملک میں بھی ہے اور آپ کے ملک میں بھی، آپ نے بمبئی اور کلکتہ کے سلمز تو ضرور دیکھے ہونگے، انکے سامنے تو یہ آپ کو ایک خوشحال آبادی نظر آئیگی، ویسے رات کے اس وقت تو ہم وہاں ٹورسٹوں کی طرح ہی جا سکتے ہیں اورغربت کو کار کے شیشوں کے پیچھے سے ہی دیکھ سکتے ہیں۔ آپ چھوڑیں وہ کبھی ہم آپ کو دن کے وقت پیدل لیجاکر دکھا دیں گے۔شبانہ جی کے میاں جاوید اختر صاحب جو ایک پبلک انٹلیکچول ہیں انہوں نے لاہور یاترا کے بعد بھارت میں ایک پریس کانفرنس میں حسب معمول اپنی فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بڑی گہری بات کی۔ انہوں نے یہ انکشاف کیا کہ ’لاہور والے کمال کے لوگ ہیں۔ میں نے سارا لاہور دیکھا مگر مجھے کوئی غریب آبادی نظر نہیں آئی، میں بہت حیران ہوا لیکن پھر میں نے سوچا کہ یہ لاہور والے واقعی بہت کمال کے لوگ ہیں۔ انہوں نے اپنی غریب آبادیاں بڑی بڑی عمارتوں کے پیچھے کس خوبصورتی سے چھپا رکھی ہیں‘اب خبر یہ ہے کہ جب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت تشریف لائے تو تاج محل کے پیچھے جتنی غریب آبادیاں تھیں ان کے گرد دیوار کھینچ دی گئی تھی۔ شاید اس خوف سے کہ ان آبادیوں کی بے تحاشا غربت کے سامنے تاج محل کا خیرہ کن حسن ماند نہ پڑ جائے۔چلیے ہم آپکو کسی ریسٹورنٹ میں اچھی سی کافی پلاتے ہیں؟ ’میں نے انہیں خوشدلی سے کہا ’نہیں مجھے کوئی کافی وافی نہیں پینی،‘ ’تو پھر آپ حکم کریں آپ کہاں جانا چاہتی ہیں‘ پنڈت نے مودب ملازم کی طرح پوچھا ’ہمیں آپ کی عابدہ پروین کو سننا ہے،‘ ’واہ یہ تو کمال کی بات ہے،‘ میں نے خوش ہو کر کہا۔ ’میں ان سے بات کر کے دیکھتا ہوں‘میری عابدہ صاحبہ اور خاص طور پر انکے میاں شیخ غلام حسین سے بہت اچھی اور پرانی دوستی تھی، عابدہ صاحبہ نے میرا لکھا ہوا گانا بھی جمیل کی اس فلم کیلئے گایا تھا۔ پنڈت نے کسی پی سی او کے پاس گاڑی روکی اور میں نے شیخ صاحب کو فون کیا، وہ بڑے خوش ہوئے اور کہا، آپ لوگ ضرور آئیں۔ ہم آپ کے منتظر رہیں گے۔
بھارت کے جاوید اختر اور شبانہ جی کے پاکستان مخالف رویے پر سرمد صہبائی کا تحریر کردہ مضمون، گزشتہ دو اقساط میں قارئین کی بھرپور توجہ اور پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔ آج، بغیر کسی تمہید کے، اسی سلسلے کی تیسری قسط پیش خدمت ہے۔سرمد صہبائی لکھتے ہیں’’اب ہم عابدہ صاحبہ کے گھر کی طرف چل پڑے۔ عابدہ صاحبہ نے شبانہ جی کا زبردست استقبال کیا، گھر کے دروازے پر پھولوں کے ہار لٹک رہے تھے اور اندر فرش پر چاندنی بچھی ہوئی تھی، جن پر خوبصورت رنگوں والے کشن اور گاؤ تکیے رکھے تھے۔ عابدہ صاحبہ نے خود شبانہ کو اور ہمیں پھولوں کے ہار پہنائے، عابدہ صاحبہ نے جلدی میں کچھ اور لوگوں کو بھی بلا لیا تھا جن میں زیادہ تر ان کے ہمسائے میں رہنے والے لوگ تھے۔
ان میں سوائے مولانا احترام الحق تھانوی کے کوئی بھی مشہور شخص نہیں تھا، بس آٹھ دس عام لوگ تھے۔ تھوڑی دیر وہاں رکنے کے بعد میں نے شبانہ جی سے کہا، ’شبانہ جی آپ یہاں عابدہ صاحبہ اور انکے مہمانوں کیساتھ گپ شپ کریں، ہم ذرا اوپر جا رہے ہیں۔‘میں پنڈت اور شیخ صاحب اوپر کمرے میں چلے گئے، ایک آدھ گھنٹے میں سوائے شیخ صاحب کے جب ہم حالت سکر میں نیچے آئے تو شبانہ جی لوگوں کو انقلاب کی تعلیم دے رہی تھیں۔ انہوں نے پورا ایک اسٹڈی سرکل کا ماحول بنایا ہوا تھا۔ وہ مسلسل بولے جا رہی تھیں اور لوگ کچھ سمجھے بغیر انکی باتیں بڑی خاموشی اور انکساری سے سن رہے تھے۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ آپ سب لوگ کلونیل ہیں، آپ بغاوت کریں اور انقلاب لیکر آئیں ۔ ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ملک سے باہر نکالیں اور ایک پراپرٹی لیس Propertyless معاشرے کیلئے جد و جہد کریں۔ لگتا تھا وہ اپنے ملک سے زیادہ پاکستان میں انقلاب لانے کی فکر میں ہیں، جیسے یہاں انقلاب لانا انکا مشن ہے، اور جیسے وہ کسی فلم میں کام نہیں کرنے آئیں بلکہ انقلاب لانے آئی ہیں۔ ’مانیا گل ودھ گئی اے‘ میں نے دل میں پھر سوچا اور انکے سننے والوں میں شامل ہو گیا۔
اپنی مسلسل گفتگو کے بیچ جب انہوں نے ہلکا سا وقفہ لیا تو میں نے کہا،’’ واہ شبانہ جی ہمارے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا خوشی کی بات ہو سکتی ہے کہ ہمارے ہمسایہ ملک سے ایک سرگرم انقلابی فنکارہ ہم غفلت میں سوئے ہوئے لوگوں کو بیداری اور انقلاب کا پیغام دے رہی ہیں، مگر مجھے ایک بات سمجھ نہیں آرہی کہ آپ اس قدر انقلابی اور اینٹی کلونیل ہوتے ہوئے بھی ہمارے ملک میں ایک کلونیل رول کر رہی ہیں‘‘۔شبانہ جی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ میں نے جمیل کا سارا اسکرپٹ پڑھا ہوا ہے۔ انہوں نے اپنے اسی ڈانٹ ڈپٹ کے لہجے میں کہا، ’How can you speak for my character?‘( ’آپ میرے کردار کے بارے میں کیسے کچھ کہہ سکتے ہیں۔ ‘ )میں نے کہا، ’It‘ s not me but your character in the script speaking. ’( یہ میں نہیں اسکرپٹ میں آپکا کردار کہہ رہا ہے‘)اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتیں میں نے یکدم لوگوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،‘ آپ روحی بانو کو جانتے ہیں؟ ’ہاں جی‘ وہ یک زبان خوش ہو کر بولے،آپکے خیال میں وہ کیسی اداکارہ ہیں ’کمال کی اداکارہ ہیں، ان جیسا تو کوئی بھی نہیں‘، انہوں نے پھر یک زبان ہو کر کہا ’ہم نے تو انکا نام نہیں سنا‘ شبانہ جی نے لاپروائی سے کہا ’ شبانہ جی آپکو بھی یہاں بہت کم لوگ جانتے ہیں، بہت سے لوگوں نے آپکا نام بھی نہیں سنا۔ آپکو تو شیام بینیگل جیسا ہدایت کار مل گیا ورنہ بمبے کی فلموں میں تو کبھی بھی آپکا کوئی خاص رول نہیں رہا۔
ہاں آپکا Parallel cinema کمال کا سینما ہے، کیا زبردست فلمیں بنائی ہیں آپ لوگوں نے اور ان فلموں میں آپکی اداکاری کمال کی ہے لیکن یہ تو آپ جانتی ہونگی کہ آپکا یہ متوازی سینما پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈراموں سے متاثر ہو کر وجود میں آیا ہے اوراسکا اعتراف تو خود بھارت والے کرتے ہیں۔ یہی وہ ڈرامے ہیں جن میں سے کئی ڈراموں میں روحی بانو نے کام کیا ہے ’اس پر وہاں بیٹھے لوگوں کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ شبانہ جی کے چہرے کے تاثرات سے ظاہر ہو رہا تھا کہ اسکے بعد وہ نہیں چاہتیں کہ میں وہاں ایک منٹ بھی اور بیٹھوں اور انکی باتوں میں مخل ہوں۔ میں نے سوچا ’مانیا ہالی اینا ای کافی اے‘ (ابھی اتنا ہی کافی ہے۔) شبانہ جی سے اجازت لی اور میں اور پنڈت پھر اوپر چلے گئے۔جب ایک ڈیڑھ گھنٹے کے بعد واپس آئے تو سب لوگ جا چکے تھے۔ عابدہ صاحبہ غزل گا رہی تھیں اور کمرے میں صرف وہ اور شبانہ جی تھیں۔
ہم بھی ادھر آ کر بیٹھ گئے، جب غزل ختم ہوئی تو میں نے عابدہ جی سے کہا، عابدہ جی آپ ہمیں بلھے شاہ سنائیں‘ یک دم شبانہ جی نے کہا، ’بھئی پنجابی تو ہم نہیں سمجھتے،‘ میں نے ہنس کر کہا، دیکھیں عابدہ جی کے گانے کا ایک انداز ہے، وہ جسطرح سندھی ،پنجابی گاتی ہیں وہ کسی اور کے بس میں نہیں۔ وہ کوئی اور ہی دنیا ہے۔ شبانہ جی نے کہا، ’نہیں بھیٔ ہم پنجابی نہیں سنیں گے ہم تو صرف غزلیں سنیں گے۔‘ میں نے تھوڑا چھیڑنے کے موڈ میں کہا، ’میرا تو خیال تھا آپ اور آپکے میاں دونوں کسی قسم کے لسانی تعصب سے ماورا ہیں۔ کیا آپکے میاں جاوید اختر صاحب بھی پنجابی نہیں سمجھتے؟‘ اس پر شبانہ جی نے لپک کر کہا، ’نہیں تو، جادو تو لکھنؤ کے ہیں۔ ‘ میں نے کہا واہ آپ انہیں جادو کہتی ہیں، اور وہ آپکو کیا کہتے ہیں جادوئی؟
اس سے پہلے کہ عابدہ جی بلھے شاہ سنائیں میں یہاں پھر ایک چھوٹی سی بریک لینا چاہتا ہوں،اس واقعہ کے بہت برس بعد فیض صاحب کی یاد میں پاکستان ٹی وی پرایک مشاعرے کا اہتمام کیا گیا تھا، مشاعرے سے پہلے جنرل منیجر کے کمرے میں، ظفر اقبال، شہزاد احمد اور میں ایک کونے میں بیٹھ کر چائے پی رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد کمرے میں ایک کھیس داخل ہوا، جس کے ساتھ ایک آدمی بھی چپکا ہوا تھا۔ مجھے اسے دیکھ کر بچپن کے دنوں میں ایک کھیس بیچنے والا یاد آیا جو اپنے کندھوں پر کچھ کھیس رکھے ہاتھ میں لوہے کا گز لیے گلیوں محلوں میں آواز لگاتا پھرتا تھا، ’کھیس لے لو کھیس‘ اس ’کھیس بردوش‘ کے ہاتھ میں گز تو نہیں تھا لیکن منہ میں اتنی ہی لمبی زبان تھی۔ یہ وہ جادو میاں تھے جو عین میرے سامنے شہزاد احمد کیساتھ بیٹھ گئے، میں نے انکی طرف نہ دیکھا اور نہ ہی ہماری کوئی سلام دعا ہوئی۔
سرمد صہبائی بھارت کے دو معروف فنکاروں جاوید اختر اور شبانہ جی ! کے پاکستان کے بارے میں متعصبانہ رویوں کا حساب جوں جوں چکتا کرتے چلے گئے،قارئین کی دلچسپی بھی بڑھتی چلی گئی۔ لیجیے سرمد صہبائی کے مضمون کی آج آخری قسط پیش ہے۔وہ لکھتے ہیں’’جادو میاں کو میں نے پھر ایک ٹی وی کے پروگرام میں دیکھا جس میں پہلے انہوں نے اپنی شراب نوشی کی داستان سنائی اور پھر کہا ہم نے شراب نوشی سے توبہ کرلی کیونکہ انکے ذاتی تجربے کے مطابق آدمی شراب پی کر گدھا بن جاتا ہے۔سچ کہتے ہیں نشے کی حالت میں انسان کی اصلیت باہر آ جاتی ہے۔ اب ظاہر ہے اگر کسی انسان کی اصلیت گدھا ہے تو نشے کی حالت میں اس سے کوئی ناچتا ہوا مور تو نہیں نکلے گا،پھر جادو میاں اور انکی بیگم نے فیض صاحب کیساتھ اپنے تعلقات کی جھوٹی سچی داستانیں سنائیں، شبانہ جی نے تو کہا کہ انقلاب کی گھٹی ا نکو فیض صاحب نے گود میں بٹھا کر دی تھی۔ جادو میاں نے فیض صاحب کے خاندان پر کالا جادو کر دیا۔
انہوں نے بھی کمال دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جادو میاں کو بڑی عزت اور احترام سے پاکستان آنے کی دعوت دی۔ بڑے بڑے ہوٹلوں میں انکو ٹھہرایا، انکے اعزاز میں دعوتیں کیں جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ جادو میاں جہنم میں جانے کی بجائے بار بار فیض میلے کی دعوت پر پاکستان آتے رہے۔ (یاد رہے کہ ابھی کچھ دن پہلے انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر انہیں پاکستان یا جہنم میں جانے کی پیشکش کی جائے تو وہ جہنم جانا پسند فرمائیں گے۔ )محمد علی جناح نے کہا تھا کہ جو مسلمان بھارت میں رہ گئے ہیں وہ بھارت سے اپنی وفاداری کا ثبوت دیتے رہیں۔ جادو صاحب اپنے آپ کو سیکولر، لبرل اور تعصبات سے منزہ عالمی امن اور انسانیت کے علمبردار کہتے ہیں۔ لیکن بھارت کی وفاداری کے ثبوت میں بار بار پاکستان دشمنی کا نعرہ لگاتے ہیں۔ اگرچہ وہ خود کو ہر قسم کے مذہب کیخلاف سمجھتے ہیں لیکن پھر بھی وہ اور انکی بیگم کہتے ہیں کہ انہیں بمبے میں مسلمان ہونے کیوجہ سے کرائے پر گھر نہیں ملتا۔ حال ہی میں انہوں نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں نعرہ لگایا، ’اب آر پار ہوجانا چاہیے‘ ۔
امن پسندی کے بجائے انہوں نےخونریزی کی حمایت کی، انہوں نے مودی اور گودی میڈیا کے بیانیے میں گراں قدر اضافہ کرتے ہوئے اسے مزید بڑھاوا دیا۔ شاید انکی اس پاکستان دشمنی کے عوض اب انہیں بمبئی میں کرائے پر گھر مل جائے۔چلیے کمرشل بریک ختم ہوئی۔ اب ہم واپس عابدہ صاحبہ کی محفل میں چلتے ہیں۔ میری فرمائش پر عابدہ جی نے بلھے شاہ کا کلام گانا شروع کیا، شاید وہ بھی غزلوں سے اپنی جان چھڑانا چاہتی تھیں، عابدہ جی نے کافی ’بلھے نوں پلایا کر، راتیں صبح شام‘ جب گائی تو کمرے کی چھت اڑ گئی، در و دیوار نہ جانے کہاں غائب ہو گئے، ہمارا وجود بھی کہیں تحلیل ہو گیا، صرف عابدہ پروین کی آواز تھی جو چاروں طرف گونج رہی تھی، اسوقت صبح کے چار بج رہے تھے۔ اس گانے کے بعد محفل ختم ہو گئی۔ شبانہ جی نے واپس اپنے ہوٹل ہمارے ساتھ جانا تھا۔ چنانچہ ہم نے رخصت لی اورگاڑی میں بیٹھ گئے۔ شبانہ جی کا موڈ کافی بگڑا ہوا تھا۔ وہ چپ چاپ بیٹھی ہوئی تھیں اور کار سے باہر صبح طلوع ہوتے دیکھ رہی تھیں۔
میں نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا، ’شبانہ جی آپ کیا ناراض حسیناؤں کیطرح بیٹھی ہوئی ہیں؟‘ اس پر انہوں نے ذرا ایک ادا سے کہا، ’بس آپ سے بات کرنے کو من نہیں چاہ رہا‘ ’اوہو کیوں؟‘آپ اپنے آپ کو کچھ سمجھتے ہیں ’ ارے یہ تو آپ نے الٹی بات کردی، یہ تو آپ ہیں جو اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتی ہیں‘ میں نے ہنس کر کہا ’but i am a star‘ ” مگر میں تو ایک اسٹار ہوں۔ ’انہوں نے ذرا شرارتی لہجے میں فرمایا۔ غالباً انہوں نے میرے ساتھ صلح کا ارادہ باندھ لیا تھا۔ لیکن میرا ابھی تک‘ مانیا گل ودھ گئی اے، والا موڈ چل رہا تھا ’یار پنڈت یہاں تو بہت سٹار ڈسٹ ہے۔ کار کے شیشے کھولو، میرا دم گھٹ رہا ہے۔‘ میں نے بھی شرارتاً کہا، اور پھر شبانہ جی ویسے سٹار تو مادھوری ڈکشٹ ہے، ریکھا ہے، آپ تو آرٹسٹ ہیں، ایک سوشلسٹ ایکٹوسٹ ۔پنڈت نے پریشان ہو کر مجھ سے کہا، ’یار تم کیا شبانہ جی سے بحث کر رہے ہو، ان کو کوئی رول شول دو‘اس پر شبانہ جی کا بس چلتا تو وہ کار سے چھلانگ لگا دیتیں ۔ میں نے انکا موڈ بدلنے کیلئے کہا، ’چلیں شبانہ جی ہم آپکو ساحل سمندر سے Sunrise کا منظر دکھاتے ہیں۔‘
’مجھے کوئی ضرورت نہیں کسی ساحل سمندر پر کوئی منظر ونظر دیکھنے کی، میری خود جوہو بیچ پر دو Huts ہیں۔ ’ ’اوہو، شبانہ جی آپ تو ایک Propertyles معاشرے کیلئے جد و جہد کر رہی ہیں، یہ دو ہٹس کی پراپرٹی کہاں سے آ گئی۔ ’اس پر وہ اور برہم ہوئیں مگر کوئی جواب نہ دیا، وہ ہوٹل انٹرکانٹی نینٹل میں ٹھہری ہوئی تھیں، وہاں پہنچنے تک سارے سفر میں ایک غصے بھری خاموشی طاری رہی۔ جب ہم ہوٹل میں داخل ہوئے تو میں نے ہوٹل کی عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’شبانہ جی آپ اس شہر کے سلمز کے بارے میں پوچھ رہی تھیں، یہ ہمارے سلمز میں سے ایک سلم ہے۔‘شبانہ جی تیزی سے کار سے اتریں اور زور سے دروازہ بند کیا ، ہوٹل کے برآمدے میں وہ ایڑیاں پٹخاتی ہوئی چلی جا رہی تھیں۔ انکی اونچی ایڑیوں کی ’پٹخ‘ انکے جانے کے بعد بھی دیر تک سنائی دیتی رہی۔دوسرے دن جب ہم پنڈت کے گھر شام کو جمع ہوئے تو جمیل نے کہا، ’سرمد یار تم نے شبانہ کو کیا کہہ دیا، وہ بڑی غصے میں تھی۔‘اچھا، کیا کہا اسنے؟اسنے کہا ’تم نے مجھے یہ کس شخص کیساتھ بھیج دیا تھا۔
‘پھر تم نے کیا کہا، میں نے جمیل سے پوچھا،میں نے کہا، ’تم کیا سکول کے بچوں کی طرح مجھے شکایتیں لگا رہی ہو، تم کوئی چھوٹی بچی تو نہیں، تمہیں اسکے ساتھ خود ڈیل کرنا چاہیے تھا۔ ‘’میں نے تمہیں پہلے ہی کہا تھا کہ میں شبانہ سے خاص طور پر نہیں ملنا چاہتا، اسلئے کہ جب کوئی ایسے مشہور لوگوں کو خاص طور پر ملنے کی خواہش کرتا ہے تو ان میں سے اکثر یہی سمجھتے ہیں کہ انکو ملنے والا کوئی انکا اندھا بہرہ فین یعنی چیلا چانٹا ہے جو انکے آٹوگراف کا بھوکا ہے یا وہ اپنی تصویر انکے ساتھ کھنچوانا چاہتا ہے اور جو انکی ہر اچھی بری بات کو صحیفہ سمجھ کر چومتا پھرے گا۔ شبانہ جی سے بھی اس رات یہی غلطی سرزد ہو گئی تھی۔ ایسے لوگوں پر کوئی ہلکی سی بھی تنقید کر دے تو وہ آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔ ‘میں دو تین دفعہ بھارت گیا ہوں جہاں کبھی کسی جگہ پر جادو اور شبانہ بھی تھے، اور ایک دو دفعہ پاکستان میں بھی ہمارا ایک دوسرے سے سامنا ہوا ہے لیکن اس واقعے کے بعد نہ میں شبانہ اور جادو کو پہچانتا ہوں اور نہ وہ مجھے پہچانتے ہیں، وہ مجھے اسلئے نہیں پہچانتے کہ وہ مجھے خوب پہچانتے ہیں اور میں انکو اس لیے نہیں پہچانتا کہ میں انکو پہچاننے سے زیادہ پہچانتا ہوں۔چور کو پڑ گئے مور فیض صاحب سے پہلی ملاقات کا ذکر بیگم جادو اس طرح کرتی ہیں کہ فیض انکے والد سے ملنے آئے تو یہ کہنے لگیں میں آپکی بہت بڑی فین ہوں۔
فیض نے پوچھا میرا کون سا شعر آپکو سب سے اچھا لگتا ہے۔شبانہ بولیں…وہ جو ہے ناں…یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے!فیض مسکرا کر بولے لیکن کلیات میر میں نے نہیں لکھی اور اس بی بی کے طوطے اڑگئے۔اس زمانے میں انڈیا سے آنیوالے لگ بھگ سبھی لوگ’’ایک حسرت‘‘سے پاکستان میں بکنے والے غیرملکی برانڈ اور گاڑیوں کو دیکھ کر کچھ جلتے تھے کچھ رشک کرتے اور کچھ حسد کرتے تھے۔شبانہ جی اگر میرے ہاتھ لگ جاتیں تو میں انکا نام جادو ئی بیگم سے بی جمالو رکھ دیتا۔وہ خاتون جو جل ککڑی ہوتی ہے اور کسی کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتی ۔کبھی اب بھی آپ یا کسی کا ٹاکرا بی جمالو سے ہوجائے تو بصد احترام اتنا پوچھ لیجئے گا کہ اقوام متحدہ کی آپ سفیر برائے بہبود آبادی بنی ہوئی ہیں جبکہ آپ تو خود بے اولاد ہیں!۔
بشکریہ جنگ