پی ٹی وی کا ایک ڈرامہ، جہیز، اور میری تین دہائیوں پر محیط جدوجہد

اشفاق احمد کبھی بھی میرے پسندیدہ ادیبوں میں شامل نہیں رہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ ایک مؤثر لکھاری نہیں تھے، بلکہ اس لیے کہ مجھے ہمیشہ سے بابا اسکول آف تھاٹ سے فکری قربت نہیں رہی۔ مزید یہ کہ جب کسی ادیب کے وقت کے حکمرانوں سے خوشامدانہ تعلقات نمایاں ہو جائیں تو اس کی فکری توقیر پر سوال اٹھنا فطری بات ہے۔

اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ اشفاق احمد کے پی ٹی وی ڈراموں نے ایک پورے سماجی عہد پر گہرا اثر ڈالا۔

ایک محبت سو افسانے ہوں یا ان کے دیگر طویل ڈرامے۱۹۸۰ کی دہائی میں، جب میں ایک نوجوان طالبہ تھی (آج کی اصطلاح میں اُس وقت کی Gen Z)، ضیاءالحق کی ظلمت کے دور کی سماجی گھٹن میں ( افسوس صد افسوس ظلمت نام نہاد جمہوری ادوار میں بھی قائم رہی نۓ زاویوں سے ) ، جینز پہننا، موسیقی سننا ، میوزک کونسرٹس کا اہتمام کروانا ، یا دی مسلم جیسے لبرل انگریزی اخبار کے لیے لکھنا ہی کسی نہ کسی درجے میں مزاحمت کے مترادف تھا۔ اس وقت سوشل میڈیا موجود نہیں تھا، مگر سوال اٹھانے کی خواہش ضرور تھی۔

انہیں ڈراموں میں ایک طویل دورانیے ڈرامہ “فہمیدہ کی کہانی استانی راحت کی زبانی” ہے، جس کو دیکھ کر میں پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی یہ جانے بغیر کہ چند برسوں بعد میں خود ایک صنفی تشدد بشمول جہیز سے جڑے تشدّد کی سروائیور کے طور پر اپنی شناخت کی تشخیص کروں گی- وہ ڈرامہ میرے لیے محض ایک تخلیقی تجربہ نہیں رہا بلکہ ایک فکری موڑ ثابت ہوا۔

جہیز: روایت کے نام پر تشدد

میں 1994 سے بطور بانی FADAN (Fight Against Dowry Advocacy Network) پر تکلف شادیوں، جہیز، اور ان تمام رسومات کے خلاف آواز اٹھا رہی ہوں جنہیں ثقافت، رواج اور روایت کا لبادہ اوڑھا کر سماجی طور پر قابلِ قبول بنا دیا گیا ہے، حالانکہ ان کے اثرات واضح طور پر تشدد آمیز ہیں۔

پلیز نوٹ کرلیں یہ کوئی این جی او نہیں ہے بلکہ نان فنڈڈ نے نان الیٹ نیٹ ورک ہے –

تین دہائیوں کے دوران میں نے مختلف پلیٹ فارمز، مختلف سامعین اور مختلف ادوار میں یہ مؤقف دہرایا۔ شعور بیدار بھی ہوا، گفتگو بھی بڑھی مکالمے بھی ہوئے- تحقیق بھی ہوئی – نوجوانوں سے جہیز سے انکار کا حلف بھی لیا گیا –

مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان آج بھی جہیز کی مکمل ممانعت کے خلاف جامع اور مؤثر قومی قانون سازی سے محروم ہے۔

جہاں کہیں سادہ شادی یا ون ڈش جیسے قوانین موجود ہیں، وہاں:

ان پر عملدرآمد کمزور نظر آتا ہے

یا وہ زیادہ تر کمزور طبقات تک محدود رہ جاتے ہیں

یہ عدم توازن مسئلے کو مزید گہرا کرتا ہے۔

استانی راحت اور فہمیدہ: ایک علامتی مگر حقیقی کہانی

اس ڈرامے کی کہانی ایک ایسی سماجی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے جو آج بھی ہمارے گرد موجود ہے۔

راحت ایک اسکول ٹیچر ہے، بیوہ ہے، اور ایک جوان بیٹی فہمیدہ کی ماں ہے جو تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ معاشی عدم استحکام، مستقل رہائش کا فقدان، اور سماجی دباؤ ان کی زندگی کا حصہ ہیں۔

ایک بااثر گھرانے کے قریب رہائش اختیار کرنے کے بعد، وہاں کی آسودہ زندگی، شادی کی تیاریوں اور جہیز کی نمائش فہمیدہ کے احساسِ کمتری کو شدید کر دیتی ہے۔ اپنی ماں کی محدود استطاعت کے باوجود دیانت دار محنت سے جوڑی گئی ایک زن آلود پیتی میں رکھی گی چند سادہ چیزیں، اس کے لیے ذہنی دباؤ کا سبب بن جاتی ہیں۔

یہ دباؤ بالآخر ایک المناک انجام کی صورت اختیار کرتا ہے۔

قانونی نظام ایسی صورتحال کو تشدد یا قتل کے طور پر تسلیم نہیں کرتا، مگر سماجی اعتبار سے یہ ایک خاموش قتل ہی ہے۔

یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ

دولت کی بے جا نمائش بھی ذہنی اور سماجی تشدد کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

ادب کی شہادت: عصمت چغتائی

جہیز کے مسئلے کو اگر ادبی تناظر میں سمجھنا ہو تو عصمت چغتائی کا افسانہ "چوتھی کا جوڑا” ایک اہم حوالہ ہے۔

یہ افسانہ پدر سری، بیٹی کو بوجھ سمجھنے کے رویے، اور شادی کے اخراجات کے گرد جڑے جبر، نظر نہ انے والے ظالم مطالبے اور خوف کو بے نقاب کرتا ہے۔

ادب وہ سچ بیان کرتا ہے جسے قانون اکثر نظرانداز کر دیتا ہے۔

اشرافیہ کا طرزِ عمل اور سماجی اثرات

اشرافیہ کے طرزِ زندگی کو محض نجی معاملہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

سماجی اقدار اکثر بالائی طبقات سے نچلی سطح تک منتقل ہوتی ہیں۔

جب حد سے زیادہ نمائش کو معمول بنایا جاتا ہے تو:

متوسط طبقہ اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے

کمزور طبقہ اس کا بوجھ قرض، ذہنی دباؤ، خاندانی تنازعات اور بعض صورتوں میں ذہنی بیماریوں کی شکل میں اٹھاتا ہے

اسی لیے پرتعیش شادیاں اور جہیز محض ثقافتی موضوع نہیں بلکہ سماجی صحت اور انصاف کا مسئلہ بھی ہیں۔

فیمینزم /فیمنسم کارڈ اور اس کا غلط استعمال

حالیہ برسوں میں ایک تشویشناک رجحان سامنے آیا ہے:

جہیز، طاقت اور دولت کی نمائش پر تنقید کو دبانے کے لیے فیمینزم کو بطور ڈھال استعمال کرنا۔

بطور ایک انٹرسیکشنل فیمنسٹ اور طویل عرصے سے اینٹی ڈاؤری جدوجہد سے وابستہ کارکن، میں یہ واضح کرنا ضروری سمجھتی ہوں:

کارپوریٹ یا اشرافیہ کے مفادات کو بچانے کے لیے فیمنسم کارڈ کا استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

فیمنسم دولت کی نمائش کے لیے پی آر ٹول نہیں

فیمنسم طبقاتی استثنا کو جواز فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں

اور فیمنسم احتساب سے بچاؤ کا ہتھیار نہیں

سٹرکچرل یا ساختی عدم مساوات کی نشاندہی کرنا عورت دشمنی یا اینٹی فیمنسم نہیں ہے۔ اور مراعات یافتہ طبقات پر تنقید کو خاموش کرانے کے لیے فیمنسم کا استعمال خود اسی کے بنیادی اصولوں سے انحراف ہے۔

میڈیا اور اجتماعی ذمہ داری

یہ بھی ایک سنجیدہ سوال ہے کہ ہمارا میڈیا:

معاشی دباؤ کے اس دور میں کن موضوعات کو نمایاں کرتا ہے؟

سماجی اثرات پر بامعنی بحث کیوں کم دکھائی دیتی ہے؟

سنسنی اور ریٹنگ کو عوامی مفاد پر کیوں ترجیح دی جاتی ہے؟

اسی طرح سول سوسائٹی اور رائے ساز حلقوں کی خاموشی بھی توجہ طلب ہے۔

یہ معاملہ کسی ایک خاندان یا فرد کا نہیں، بلکہ ایک اجتماعی رویے کا ہے۔

عاجزانہ گزارشات

جہیز روایت نہیں، تشدد ہے۔

اور پرتعیش شادیوں کو مکمل طور پر نجی معاملہ قرار دینا سماجی اثرات سے انکار کے مترادف ہے۔

جب تک:

قانون سب کے لیے یکساں طور پر لاگو نہیں ہوتا

اشرافیہ سماجی ذمہ داری کا ادراک نہیں کرتی

اور میڈیا اخلاقی احتساب کو سنجیدگی سے نہیں لیتا

تب تک فہمیدہ جیسی کہانیاں دہرائی جاتی رہیں گی۔

ایک منصفانہ معاشرہ وہی ہے جہاں
سادگی، وقار اور جواب دہی کو طاقت اور نمائش پر فوقیت دی جائے۔

ڈاکٹر رخشندہ پروین
سماجی کارکن، محقق، خطرناک مگر ضروری سچ بولنے اور لکھنے کی عادی ہیں .
بانی: FADAN – Fight Against Dowry Advocacy Network (1994 سے)

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے